حکومت ابھی اپنے پیروں پرکھڑی نہیں ہوسکی پرویز رشید
حکومت نے مذاکرات سے معاملات حل کرنیکی کوشش کی ہم ناکام نہیں ہیں،دوسرے فریق نے ہماری نہیں سنی،وفاقی وزیراطلاعات
حکومت کوہرحال میں ایک ایک انچ پراپنی رٹ قائم کرنا ہوگی. فوٹو: فائل
وفاقی وزیراطلاعات پرویز رشید نے کہا ہے کہ حکومت نے مذاکرات سے معاملات حل کرنیکی کوشش کی ہم ناکام نہیں ہیں،دوسرے فریق نے ہماری نہیں سنی، حکومت کوہرحال میں ایک ایک انچ پراپنی رٹ قائم کرنا ہوگی،حکومت ابھی اپنے پیروں پر کھڑی نہیں ہوسکی۔
انھوں نے ایکسپریس نیوزکے پروگرام کل تک میں میزبان جاویدچودھری سے گفتگومیں کہاآج فوجی آمریتوں سے خطرہ نہیں، ان سے خطرہ ہے جوبندوق کی نوک پراپنا طرزعمل دوسروں پرتھوپنا چاہتے ہیں۔ ہم نے قومی سلامتی کی پالیسی مرتب کرلی ہے جو بہت جلد نافذ ہوجائیگی۔ حکومت نے ایک بھی دن ضائع نہیں کیا۔ ایکسپریس نیو زکے عملے کا کوئی قصور نہیں تھا میں شہید ہونیوالوں کے لواحقین کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں جنہوں نے صبر و استقامت کا مظاہرہ کیا۔
ایکسپریس نیوزکے شہید ڈرائیور خالد خان کے والد عمرایازخان نے کہامیرا بیٹا بہت سمجھدار تھا اس واقعہ سے قبل اس نے گھر فون کر کے اپنے ماموں سے کہا تھا کہ میں نو بجے آئوں گا اور آپ کو اسپتال لے کر جائوں گا لیکن یہ واقعہ ہو گیا،میں اب بھی اپنے بیٹے کی راہ تکتا ہوں اور میرے بیٹے کے دو بچے اپنے باپ کی راہ تکتے ہیں۔ شہید گارڈ محمد اشرف کے والدمحمد یوسف نے کہاحکومت کواپنی رٹ قائم کرنی چاہیے۔ اشرف کی ساری باتیں یاد آتی ہیں سب سے اہم اور خاص بات یہ تھی کہ ہم اس کی تنخواہ سے سارے گھر کا راشن خریدتے تھے،ہمیں کسی سے کوئی توقع نہیں صرف اللہ سے انصاف کی توقع ہے۔شہید ٹیکنیشن وقاص کے والد عبدالعزیز نے کہامیں سمجھتا ہوں کہ اس سارے معاملے میں حکومت کی کمزوری ہے اور کچھ نہیں، حکومت کی کوئی عملداری نظر نہیں آتی۔ تجزیہ کار سلیم صافی نے کہا کہ پاکستان میں ڈرٹی گیم چل رہی ہے جسکو کوئی مشرف تو کوئی ضیاء الحق کے کھاتے میں ڈالتا ہے۔
انھوں نے ایکسپریس نیوزکے پروگرام کل تک میں میزبان جاویدچودھری سے گفتگومیں کہاآج فوجی آمریتوں سے خطرہ نہیں، ان سے خطرہ ہے جوبندوق کی نوک پراپنا طرزعمل دوسروں پرتھوپنا چاہتے ہیں۔ ہم نے قومی سلامتی کی پالیسی مرتب کرلی ہے جو بہت جلد نافذ ہوجائیگی۔ حکومت نے ایک بھی دن ضائع نہیں کیا۔ ایکسپریس نیو زکے عملے کا کوئی قصور نہیں تھا میں شہید ہونیوالوں کے لواحقین کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں جنہوں نے صبر و استقامت کا مظاہرہ کیا۔
ایکسپریس نیوزکے شہید ڈرائیور خالد خان کے والد عمرایازخان نے کہامیرا بیٹا بہت سمجھدار تھا اس واقعہ سے قبل اس نے گھر فون کر کے اپنے ماموں سے کہا تھا کہ میں نو بجے آئوں گا اور آپ کو اسپتال لے کر جائوں گا لیکن یہ واقعہ ہو گیا،میں اب بھی اپنے بیٹے کی راہ تکتا ہوں اور میرے بیٹے کے دو بچے اپنے باپ کی راہ تکتے ہیں۔ شہید گارڈ محمد اشرف کے والدمحمد یوسف نے کہاحکومت کواپنی رٹ قائم کرنی چاہیے۔ اشرف کی ساری باتیں یاد آتی ہیں سب سے اہم اور خاص بات یہ تھی کہ ہم اس کی تنخواہ سے سارے گھر کا راشن خریدتے تھے،ہمیں کسی سے کوئی توقع نہیں صرف اللہ سے انصاف کی توقع ہے۔شہید ٹیکنیشن وقاص کے والد عبدالعزیز نے کہامیں سمجھتا ہوں کہ اس سارے معاملے میں حکومت کی کمزوری ہے اور کچھ نہیں، حکومت کی کوئی عملداری نظر نہیں آتی۔ تجزیہ کار سلیم صافی نے کہا کہ پاکستان میں ڈرٹی گیم چل رہی ہے جسکو کوئی مشرف تو کوئی ضیاء الحق کے کھاتے میں ڈالتا ہے۔