کوسٹ گارڈ اور پی ایم ٹی اے کو انسداد اسمگلنگ اختیارات دیدیئے گئے

مشروط طور پر30 جون 2014 تک دے دیے گئے، ایف بی آرسے2 نوٹیفکیشن جاری

مقصدزرمبادلہ،سونے ودیگراشیاکی اسمگلنگ روکنا ہے، بغیروارنٹ کارروائی کرسکیں گے. فوٹو: ایکسپریس/فائل

HYDERABAD:
وفاقی حکومت نے ڈالر، پائونڈ اور سونے سمیت دیگر اشیا کی اسمگلنگ روکنے کے لیے پاکستان کوسٹ گارڈ اور میری ٹائم سیکیورٹی ایجنسی (پی ایم ٹی اے) کے افسران کو بحری جہازوں کی تلاشی، مشکوک افراد کو بغیر وارنٹ کے گرفتار اور مشکوک اشیا ضبط کرنے کے اختیارات دے دیے۔

''ایکسپریس'' کو دستیاب دستاویز کے مطابق پاکستان کوسٹ گارڈ اور میری ٹائم سیکیورٹی ایجنسی کے افسران کو مشروط طور پر30 جون 2014 تک کیلیے انسداد اسمگلنگ کے اختیارات دیے گئے ہیں جس کیلیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے 2 نوٹیفکیشن نمبر 42(I)/2014 اور 43(I)/2014 جاری کردیے۔ نوٹیفکیشنز کے مطابق پاکستان میری ٹائم سیکیورٹی ایجنسی کے کم ازکم فلیٹ پیٹی آفیسر رینک اور اس سے زائد کے افسران کو مشروط طور پر انسداد اسمگلنگ کے اختیارات حاصل ہونگے جبکہ پاکستان کوسٹ گارڈ کے کم ازکم جونیئر کمیشنڈ آفیسر (جے سی او) اور اس سے زائد رینک کے افسران کو مشروط طور پر انسداد اسمگلنگ کے اختیارات حاصل ہونگے.




یہ افسران سمندر کے راستے اسمگلنگ روکنے کیلیے بغیر کسی سرچ وارنٹ کے بحری جہاوزں کی تلاشی لے سکیں گے اور اسمگلنگ کے شبہے میںمشکوک چیزیں ملنے پر تو نہ صرف ان اشیا کو ضبط بلکہ بغیر وارنٹ مشکوک افراد کو بھی گرفتار کرسکیں گے تاہم پاکستان کوسٹ گارڈ کے افسران کوسٹ لائن کے 20 کلومیٹر کے ایریا تک یہ اختیارات استعمال کرسکیں گے، اسی طرح سٹی میونسپل ایریا،کسٹمز ایریاز، کسٹمز اسٹیشنز، بندرگاہیں، بارڈر کسٹمز اسٹیشنز، انٹرنیشنل ایئر پورٹس اور بونڈڈ ویئر ہائوسز پاکستان کوسٹ گارڈ کے افسران کے اختیارات میں شامل نہیں ہونگے۔ نوٹیفکیشن میں کہا گیا کہ پاکستان میری ٹائم سیکیورٹی ایجنسی اور کوسٹ گارڈ افسران کو انسداد اسمگلنگ کے اختیارات استعمال کرتے وقت انتہائی محتاط رہنا ہوگا اور اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ اس سے نہ تو عوام میں خوف و ہراس پھیلے اور نہ ہی معمول کی تجارت متاثر ہو اور نہ ہی درآمدات و برآمدات متاثر ہوں۔
Load Next Story