پاکستان میں انسداد پولیو رضا کار قتل کیے جانے لگے بھارت نے پولیو وائرس پر قابو پالیا
بھارت میں گزشتہ 3 سال سے پولیو وائرس رپورٹ نہیں ہوا،اگلے ماہ عالمی ادارہ صحت انڈیا کوپولیوفری سرٹیفکیٹ جاری کردے گا
پاکستان میں20سال سے جاری مہم اثرات دکھانے میں ناکام،انسداد پولیو رضاکاروں کے قتل سے وائرس پرقابو پانے کا منصوبہ متاثرہوگیا۔ فوٹو: فائل
لاہور:
عالمی ادارہ صحت بھارت کو امسال پولیو فری سرٹیفکیٹ دے گا، قواعد کے مطابق کسی بھی ملک میں3 سال تک پولیو کیس رپورٹ نہ ہونے پر پولیو فری قرار دیا جاتا ہے، پاکستان پولیو وائرس پر قابو نہ پاسکا، ملک میں انسداد پولیو مہم کے دوران پولیو رضاکاروں کو قتل کیا جارہا ہے۔
تفصیلات کے مطابق رواں سال عالمی ادارہ صحت بھارت کو پولیو فری سرٹیفکیٹ جاری کردے گا بھارت میں پولیوکا آخری کیس 3 سال قبل رپورٹ ہوا تھا بھارت میں 2009 میں 741پولیوکیسوں کی تصدیق کی گئی تاہم بھارتی محکمہ صحت اور اداروں نے بچوں کومسلسل پولیو سے حفاظت کی خوراک پلاکر وائرس پر قابو پالیا ہے، بھارت میں2011 میں پولیوکا صرف ایک کیس رپورٹ ہوا جبکہ 3 سال سے پولیو کیس رپورٹ نہ ہونے پر عالمی ادارہ صحت نے بھارت کو ان ممالک کی فہرست سے خارج کر دیا تھا جہاں پولیو وائرس موجود ہے،بھارت کو آئندہ ماہ پولیو فری ملک قراردیا جائے گا جوعالمی سطح پر ایک بڑی کامیابی ہوگی، بھارت نے70ء کی دہائی میں ملک سے چیچک کا بھی خاتمہ کیا تھا۔
بھارت میں17 کروڑ بچوں کو پولیو وائرس سے بچاؤ کی حفاظتی خوراک پلائی جاتی ہے،تاہم دوسری جانب پاکستان میں گزشتہ 20 سال سے جاری انسداد پولیو مہم کے اثرات اب تک واضح نہیں ہوسکے ہیں اور پولیو وائرس ملک کے کئی علاقوں خصوصاً صوبہ خیبرپختونخوا میں مسلسل رپورٹ ہورہا ہے جبکہ ملک میں افسوسناک صورتحال یہ ہے کہ گزشتہ3 سال سے لگاتار انسداد پولیو مہم کے دوران رضاکاروں کو قتل کیا جارہا ہے امسال ملک گیر پولیو مہم کے دوسرے روز 4 رضاکاروں کو قتل کیا گیا جس سے انسداد پولیو مہم پورے ملک میں متاثر ہوگئی ہے اور پولیو وائرس کے خاتمے اور اس پر قابو پونے کے منصوبے متاثر ہورہے ہیںجس پر عالمی اداروں نے بھی شدید تشویش کا اظہار کیا ہے اس وقت پولیو وائرس دنیا کے تین ممالک پاکستان، افغانستان اور نائیجیریا میں موجود ہے۔
تحفظ فراہم کرنے پر انسداد پولیو مہم شروع کی جائیگی،لیڈی ہیلتھ ورکرز ایسوسی ایشن
آل پاکستان لیڈی ہیلتھ ورکرز ایسوسی ایشن نے کہا ہے کہ پو لیو وائرس کو ختم کرنا حکومت کاکام ہے ہمارا نہیں،ایسوسی ایشن کی رہنمائوں نے کہا ہے کہ تحفظ فراہم کیا گیا تو پولیو مہم دوبارہ شروع کی جائیگی، پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے خیرالنسا نے کہاکہ مذاکرات کے نام پر ڈھونگ رچایاجارہا ہے،لیڈیز ہیلتھ ورکروں کو مستقل کیاجائے۔
عالمی ادارہ صحت بھارت کو امسال پولیو فری سرٹیفکیٹ دے گا، قواعد کے مطابق کسی بھی ملک میں3 سال تک پولیو کیس رپورٹ نہ ہونے پر پولیو فری قرار دیا جاتا ہے، پاکستان پولیو وائرس پر قابو نہ پاسکا، ملک میں انسداد پولیو مہم کے دوران پولیو رضاکاروں کو قتل کیا جارہا ہے۔
تفصیلات کے مطابق رواں سال عالمی ادارہ صحت بھارت کو پولیو فری سرٹیفکیٹ جاری کردے گا بھارت میں پولیوکا آخری کیس 3 سال قبل رپورٹ ہوا تھا بھارت میں 2009 میں 741پولیوکیسوں کی تصدیق کی گئی تاہم بھارتی محکمہ صحت اور اداروں نے بچوں کومسلسل پولیو سے حفاظت کی خوراک پلاکر وائرس پر قابو پالیا ہے، بھارت میں2011 میں پولیوکا صرف ایک کیس رپورٹ ہوا جبکہ 3 سال سے پولیو کیس رپورٹ نہ ہونے پر عالمی ادارہ صحت نے بھارت کو ان ممالک کی فہرست سے خارج کر دیا تھا جہاں پولیو وائرس موجود ہے،بھارت کو آئندہ ماہ پولیو فری ملک قراردیا جائے گا جوعالمی سطح پر ایک بڑی کامیابی ہوگی، بھارت نے70ء کی دہائی میں ملک سے چیچک کا بھی خاتمہ کیا تھا۔
بھارت میں17 کروڑ بچوں کو پولیو وائرس سے بچاؤ کی حفاظتی خوراک پلائی جاتی ہے،تاہم دوسری جانب پاکستان میں گزشتہ 20 سال سے جاری انسداد پولیو مہم کے اثرات اب تک واضح نہیں ہوسکے ہیں اور پولیو وائرس ملک کے کئی علاقوں خصوصاً صوبہ خیبرپختونخوا میں مسلسل رپورٹ ہورہا ہے جبکہ ملک میں افسوسناک صورتحال یہ ہے کہ گزشتہ3 سال سے لگاتار انسداد پولیو مہم کے دوران رضاکاروں کو قتل کیا جارہا ہے امسال ملک گیر پولیو مہم کے دوسرے روز 4 رضاکاروں کو قتل کیا گیا جس سے انسداد پولیو مہم پورے ملک میں متاثر ہوگئی ہے اور پولیو وائرس کے خاتمے اور اس پر قابو پونے کے منصوبے متاثر ہورہے ہیںجس پر عالمی اداروں نے بھی شدید تشویش کا اظہار کیا ہے اس وقت پولیو وائرس دنیا کے تین ممالک پاکستان، افغانستان اور نائیجیریا میں موجود ہے۔
تحفظ فراہم کرنے پر انسداد پولیو مہم شروع کی جائیگی،لیڈی ہیلتھ ورکرز ایسوسی ایشن
آل پاکستان لیڈی ہیلتھ ورکرز ایسوسی ایشن نے کہا ہے کہ پو لیو وائرس کو ختم کرنا حکومت کاکام ہے ہمارا نہیں،ایسوسی ایشن کی رہنمائوں نے کہا ہے کہ تحفظ فراہم کیا گیا تو پولیو مہم دوبارہ شروع کی جائیگی، پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے خیرالنسا نے کہاکہ مذاکرات کے نام پر ڈھونگ رچایاجارہا ہے،لیڈیز ہیلتھ ورکروں کو مستقل کیاجائے۔