استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمدی پالیسی پراجلاس طلب
وزارت تجارت کے اجلاس میںموٹرڈیلرز،پاما،پاپام اورانجینئرنگ بورڈکے نمائندے شریک ہونگے
فرسودگی میں ایک سال کمی اور رجسٹریشن بک کو لازمی دستاویزات سے خارج کرنے کے فیصلے کیخلاف موٹرڈیلرز کااحتجاج جاری ہے۔ فوٹو: فائل
وفاقی وزارت صنعت نے استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمدی پالیسی پر اسٹیک ہولڈرز کااجلاس13ستمبرکواسلام آبادمیں طلب کرلیاہے۔
اجلاس میں استعمال شدہ گاڑیوںکی درآمدپرفرسودگی کی شرح کم کرنے سمیت دیگر ایشوز پر غور کیا جائے گا۔اجلاس میں آل پاکستان موٹرڈیلرز ایسوسی ایشن، پاکستان آٹو موٹیو مینوفیکچررزایسوسی ایشن،پاکستان ایسوسی ایشن آف آٹوموٹیو پارٹس اینڈایسسریزمینوفیکچررزکے چیئرمین اور انجینئرنگ ڈیولپمنٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹیو شریک ہوں گے۔
موٹرڈیلرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین ایچ ایم شہزادنے بتایاکہ اجلاس میںموٹرڈیلرزکا موقف بھرپور طریقے سے پیش کیا جائے گا ۔انھوں نے کہاکہ موٹرڈیلرز ایسوسی ایشن اجلاس میں مینوفیکچرنگ کے نام پر گاڑیاں اسمبل کرنے اور لوکلائزیشن کی حقیقت کا پردہ چاک کریگی۔انھوںنے کہاکہ فرسودگی میں ایک سال کمی اور رجسٹریشن بک کو لازمی دستاویزات سے خارج کرنے کے فیصلے کیخلاف موٹرڈیلرز کااحتجاج جاری ہے اورپورٹ سے استعمال شدہ درآمدی گاڑیوں کی کلیئرنس روک دی گئی ہے۔
اس وقت پورٹ پر 800سے زائدکاریںموجود ہیں جبکہ رواں ماہ کے وسط میں دو بحری جہازمجموعی طور پر 3000 کاریںلیکر کراچی پورٹ پہنچ رہے ہیں جو کلیئرنہیںکروائی جائیں گی۔ انھوںنے بتایاکہ فرسودگی الائونس کی حدمیںکمی کے فیصلے کیخلاف صدرآصف علی زرداری اور وزیر اعظم راجا پرویز اشرف سمیت متعلقہ وزارتوں اور محکموں کو مراسلے ارسال کیے جاچکے ہیںجن میں کار اسمبلرزکی جانب سے چھوٹی کاروںکی پیداوار بند کرنے کے بعداورفرسودگی الائونس میںکمی کے بعد مارکیٹ میںکم آمدن والے طبقے کیلیے چھوٹی کاروں کی قلت اورحکومتی ریونیو میںکمی سے آگاہ کرتے ہوئے CGO 13/2012 کو فی الفورمنسوخ کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔
اجلاس میں استعمال شدہ گاڑیوںکی درآمدپرفرسودگی کی شرح کم کرنے سمیت دیگر ایشوز پر غور کیا جائے گا۔اجلاس میں آل پاکستان موٹرڈیلرز ایسوسی ایشن، پاکستان آٹو موٹیو مینوفیکچررزایسوسی ایشن،پاکستان ایسوسی ایشن آف آٹوموٹیو پارٹس اینڈایسسریزمینوفیکچررزکے چیئرمین اور انجینئرنگ ڈیولپمنٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹیو شریک ہوں گے۔
موٹرڈیلرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین ایچ ایم شہزادنے بتایاکہ اجلاس میںموٹرڈیلرزکا موقف بھرپور طریقے سے پیش کیا جائے گا ۔انھوں نے کہاکہ موٹرڈیلرز ایسوسی ایشن اجلاس میں مینوفیکچرنگ کے نام پر گاڑیاں اسمبل کرنے اور لوکلائزیشن کی حقیقت کا پردہ چاک کریگی۔انھوںنے کہاکہ فرسودگی میں ایک سال کمی اور رجسٹریشن بک کو لازمی دستاویزات سے خارج کرنے کے فیصلے کیخلاف موٹرڈیلرز کااحتجاج جاری ہے اورپورٹ سے استعمال شدہ درآمدی گاڑیوں کی کلیئرنس روک دی گئی ہے۔
اس وقت پورٹ پر 800سے زائدکاریںموجود ہیں جبکہ رواں ماہ کے وسط میں دو بحری جہازمجموعی طور پر 3000 کاریںلیکر کراچی پورٹ پہنچ رہے ہیں جو کلیئرنہیںکروائی جائیں گی۔ انھوںنے بتایاکہ فرسودگی الائونس کی حدمیںکمی کے فیصلے کیخلاف صدرآصف علی زرداری اور وزیر اعظم راجا پرویز اشرف سمیت متعلقہ وزارتوں اور محکموں کو مراسلے ارسال کیے جاچکے ہیںجن میں کار اسمبلرزکی جانب سے چھوٹی کاروںکی پیداوار بند کرنے کے بعداورفرسودگی الائونس میںکمی کے بعد مارکیٹ میںکم آمدن والے طبقے کیلیے چھوٹی کاروں کی قلت اورحکومتی ریونیو میںکمی سے آگاہ کرتے ہوئے CGO 13/2012 کو فی الفورمنسوخ کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔