افغانستان کی صورتحال اور پاکستان کے مفادات
بے شمار خدشات موجود ہیں، جن سے نبرد آزما ہونے کے لیے فہم و فراست، تدبر اور حکمت عملی ضرورت ہے۔
بے شمار خدشات موجود ہیں ، جن سے نبرد آزما ہونے کے لیے فہم و فراست، تدبر اور حکمت عملی ضرورت ہے۔ فوٹو: فائل
افغانستان میں صورت حال بہت تیزی سے تبدیل ہورہی ہے ، امریکی افواج کے نکلنے کے بعد افغانستان میں جو خلا پیدا ہوا ہے ، خطے کی مختلف طاقتیں اس خلا ء سے فائدہ اٹھانے کی بھرپور کوشش کر رہی ہیں، کیونکہ ان کے مفادات اس میں پوشیدہ ہیں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق غیر ملکی فوجیوں کے انخلا کے دوران ہی افغان طالبان نے اہم سرحدوں اور کئی اضلاع کا کنٹرول حاصل کرلیا ہے۔ تازہ ترین اطلاعات اور خبروں کے مطابق افغان طالبان نے پاکستان کے ضلع چمن سے متصل افغانستان کی سرحد کا کنٹرول سنبھال کر کے اپنا پرچم لہرا دیا ہے، طالبان کی جانب سے باب دوستی گیٹ کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد پاکستان نے افغان سرحد سیل کردی ہے، جب کہ نئی دہلی میں افغان سفیر نے ایک مقامی انگریزی ٹی وی چینل سے بات چیت میں کہا ہے کہ اگر طالبان کے ساتھ اس کی بات چیت ناکام ہو جاتی ہے تو ضرورت پڑنے پر وہ بھارت سے فوجی امداد طلب کر سکتا ہے۔
بلاشبہ اس پس منظر اور تازہ ترین صورت حال پر پاکستان گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور سختی سے اپنی امن پسند پالیسی پر کاربند رہنے کا اعادہ کرچکا ہے ، لیکن اس کے باوجود بے شمار خدشات موجود ہیں ، جن سے نبرد آزما ہونے کے لیے فہم و فراست، تدبر اور حکمت عملی ضرورت ہے۔
پہلا خدشہ یہ ہے کہ افغان طالبان کے قابض ہوتے ہی طالبان مخالف نسلی و نظریاتی گروہ عدم تحفظ کا شکار ہوکر ہتھیار اٹھاسکتے ہیں، یوں افغانستان میں ایک بار پھر خانہ جنگی شروع ہو جائے گی، خدا نخواستہ ایسا ہوگیا تو پھر اس کے سب سے زیادہ اثرات پاکستان پر مرتب ہوں گے، کیونکہ ہماری 2200 میل لمبی سرحد لگتی ہے ، خانہ جنگی کے نتیجے میں ایک بار پھر افغانستان سے نقل مکانی شروع ہوسکتی ہے،جن کا رخ پاکستان کی طرف ہوگا۔
خدشات موجود ہیں کہ ان مہاجرین میں طالبان کی بڑی تعداد آسکتی ہے ، جو ایک بار پھر وطن عزیز میں دہشت گردی شروع ہونے کا سبب بنے گی ، پاکستان پہلے بھی بہت سے زخم کھا چکا ہے ، جو ابھی تک ہرے ہیں ، اس وقت امریکا کی خواہش یہ ہے کہ افغانستان سے نکلنے کے بعد بھی اسے اثرورسوخ حاصل رہے۔ یہ بات قرین قیاس ہے کہ امریکا نے طالبان سے یقین دہانی حاصل کر لی ہوگی کہ اس کی فوجوں کے انخلاء کے بعد، اس کے عالمی مفادات کا خیال رکھا جائے گا۔
افغانستان کے حوالے سے پاکستان کا موقف درست سہی لیکن ہمیں وہاں کی صورتحال پر نظر رکھنی ہوگی، جن سے پوری طرح نبرد آزما ہونے کے لیے ہمیں تیار رہنا چاہیے۔ چند روز قبل پارلیمنٹ ہاؤس کے اندر حکومت اور اپوزیشن کی نمایندہ جماعتوں کے چنیدہ افراد کا اجلاس منعقد ہوا جس میں آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی شریک ہوئے اور پارلیمنٹ کے منتخب نمایندوں کو صورت احوال واقعی پر تفصیلی بریفنگ دی، سوال جواب کی نشست ہوئی جس میں چار بنیادی مسائل پر قومی اتفاق رائے پایا گیا، پہلا ہم اس جنگ میں کسی فریق کے ساتھی نہیں، دوسرا ، اگر خانہ جنگی ہوئی تو مہاجرین کا زبردست ریلا پاکستان کی سرحد میں داخل ہو جائے گا۔
تیسرا، خانہ جنگی کی صورت میں پاکستانی طالبان لامحالہ اپنے افغان بھائیوں کا ساتھ دیں گے۔ اس طرح خانہ جنگی کے شعلے پاکستان کے سرحدی مقامات پر بھی بھڑک سکتے ہیں۔ چوتھا، ماضی کے برعکس اس مرتبہ امریکا کو زمینی یا ہوائی اڈے نہیں دیے جائیں گے، ردعمل کے طور پر امریکا ہمارا گھیرا تنگ کرنے کی کوشش کرے گا۔
اس بریفنگ میں میں زور دیا گیا تھا کہ پاکستان کو اسٹرٹیجک نوعیت کے شدید چیلنجوں کا سامنا ہے جن کا تقاضا یہ ہے کہ پاکستان میں سیاسی استحکام ہو اگر خدانخواستہ پاکستان میں قومی اتفاق رائے اور یکجہتی نہ ہوئی تو پاکستان کے دشمن آنے والے سنگین خطرات سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں، تو کیا اس بریفنگ کے بعد قومی لیڈر شپ نے اتفاق رائے کا مظاہرہ کیا اور ایک پیج پر نظر آئے تو اس کا جواب نفی میں ہے۔
دوسری جانب ترجمان افغان طالبان نے کہا ہے کہ افغانستان میں قیام امن کے لیے برادر اسلامی ملک پاکستان کے مشوروں کا خیر مقدم کریں گے۔ ادھر بھارت کے وزیراعظم مودی کو داخلی مسائل کا سامنا ہے وہ اپنی سیاسی پوزیشن کو بہتر کرنے کے لیے کشمیر پالیسی میں نرمی لانا چاہتا ہے، یہ اطلاعات بھی سامنے آرہی ہیں کہ افغانستان سے امریکی انخلا کے بعد بھارت پریشان اور بوکھلاہٹ کا شکار ہے۔
یہ حقیقت پوری طرح عیاں ہوچکی ہے کہ پاکستان کے دشمن کوشش کر رہے ہیں کہ پاکستان کے اندر دہشت گردی کی کارروائیاں دوبارہ شروع کی جائیں۔ دوسری جانب روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے نمایندہ خصوصی ضمیر کبولوف نے کہا ہے کہ افغانستان کے مستقبل کے لیے طالبان کے ساتھ باقاعدہ مذاکرات شروع کرنے کی ضرورت ہے، اس پہلے کہ بہت دیر ہو جائے ، کابل حکومت کو مذاکرات کرنے چاہیے۔
سابق امریکی صدر جارج ڈبلیو بش نے افغانستان سے نیٹو افواج کے انخلا پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہریوں کو قتل ہونے کے لیے طالبان کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ یہ دونوں موقف سامنے رکھے جائیں تو صورتحال واضح ہوجاتی ہے کہ افغانستان دوبارہ خانہ جنگی شروع ہونے کے امکانات کو رد نہیں کیا جاسکتا ہے ، کیونکہ امریکا ، روس ، بھارت اور دیگر ممالک کے اپنے اپنے مفادات افغانستان سے وابستہ ہیں۔
یہاں پر ہماری حکومت کو انتہائی چونکا رہنے کی ضرورت ہے کہ وہ اپنے پڑوسی ملک افغانستان میں ہونے والی سازشوں اور خانہ جنگی کی آگ سے خود کو بچائے اور قومی سلامتی کو مقدم رکھے ، لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان کے قومی مفادات اور سلامتی کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلے کیے جائیں ، ملک میں جاری غیر معمولی سیاسی کشمکش اور سیاسی عدم استحکام سے پاکستان دشمن فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
پاکستان کے قومی مفاد اور سلامتی کا تقاضا ہے کہ آنے والے سنگین خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے ملک کے اندر سیاسی اشتعال اور انتہا پسندی کے بجائے قومی مفاہمت پیدا کرنے کی کوشش کی جائے۔ وزیراعظم سب کو اپنے ساتھ ملا کر قدم اٹھائیں، اس طرح ہی قومی سطح پر درپیش نازک صورت حال کا سامنا کرنے کی موثر راہ ہموار کی جا سکتی ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق غیر ملکی فوجیوں کے انخلا کے دوران ہی افغان طالبان نے اہم سرحدوں اور کئی اضلاع کا کنٹرول حاصل کرلیا ہے۔ تازہ ترین اطلاعات اور خبروں کے مطابق افغان طالبان نے پاکستان کے ضلع چمن سے متصل افغانستان کی سرحد کا کنٹرول سنبھال کر کے اپنا پرچم لہرا دیا ہے، طالبان کی جانب سے باب دوستی گیٹ کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد پاکستان نے افغان سرحد سیل کردی ہے، جب کہ نئی دہلی میں افغان سفیر نے ایک مقامی انگریزی ٹی وی چینل سے بات چیت میں کہا ہے کہ اگر طالبان کے ساتھ اس کی بات چیت ناکام ہو جاتی ہے تو ضرورت پڑنے پر وہ بھارت سے فوجی امداد طلب کر سکتا ہے۔
بلاشبہ اس پس منظر اور تازہ ترین صورت حال پر پاکستان گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور سختی سے اپنی امن پسند پالیسی پر کاربند رہنے کا اعادہ کرچکا ہے ، لیکن اس کے باوجود بے شمار خدشات موجود ہیں ، جن سے نبرد آزما ہونے کے لیے فہم و فراست، تدبر اور حکمت عملی ضرورت ہے۔
پہلا خدشہ یہ ہے کہ افغان طالبان کے قابض ہوتے ہی طالبان مخالف نسلی و نظریاتی گروہ عدم تحفظ کا شکار ہوکر ہتھیار اٹھاسکتے ہیں، یوں افغانستان میں ایک بار پھر خانہ جنگی شروع ہو جائے گی، خدا نخواستہ ایسا ہوگیا تو پھر اس کے سب سے زیادہ اثرات پاکستان پر مرتب ہوں گے، کیونکہ ہماری 2200 میل لمبی سرحد لگتی ہے ، خانہ جنگی کے نتیجے میں ایک بار پھر افغانستان سے نقل مکانی شروع ہوسکتی ہے،جن کا رخ پاکستان کی طرف ہوگا۔
خدشات موجود ہیں کہ ان مہاجرین میں طالبان کی بڑی تعداد آسکتی ہے ، جو ایک بار پھر وطن عزیز میں دہشت گردی شروع ہونے کا سبب بنے گی ، پاکستان پہلے بھی بہت سے زخم کھا چکا ہے ، جو ابھی تک ہرے ہیں ، اس وقت امریکا کی خواہش یہ ہے کہ افغانستان سے نکلنے کے بعد بھی اسے اثرورسوخ حاصل رہے۔ یہ بات قرین قیاس ہے کہ امریکا نے طالبان سے یقین دہانی حاصل کر لی ہوگی کہ اس کی فوجوں کے انخلاء کے بعد، اس کے عالمی مفادات کا خیال رکھا جائے گا۔
افغانستان کے حوالے سے پاکستان کا موقف درست سہی لیکن ہمیں وہاں کی صورتحال پر نظر رکھنی ہوگی، جن سے پوری طرح نبرد آزما ہونے کے لیے ہمیں تیار رہنا چاہیے۔ چند روز قبل پارلیمنٹ ہاؤس کے اندر حکومت اور اپوزیشن کی نمایندہ جماعتوں کے چنیدہ افراد کا اجلاس منعقد ہوا جس میں آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی شریک ہوئے اور پارلیمنٹ کے منتخب نمایندوں کو صورت احوال واقعی پر تفصیلی بریفنگ دی، سوال جواب کی نشست ہوئی جس میں چار بنیادی مسائل پر قومی اتفاق رائے پایا گیا، پہلا ہم اس جنگ میں کسی فریق کے ساتھی نہیں، دوسرا ، اگر خانہ جنگی ہوئی تو مہاجرین کا زبردست ریلا پاکستان کی سرحد میں داخل ہو جائے گا۔
تیسرا، خانہ جنگی کی صورت میں پاکستانی طالبان لامحالہ اپنے افغان بھائیوں کا ساتھ دیں گے۔ اس طرح خانہ جنگی کے شعلے پاکستان کے سرحدی مقامات پر بھی بھڑک سکتے ہیں۔ چوتھا، ماضی کے برعکس اس مرتبہ امریکا کو زمینی یا ہوائی اڈے نہیں دیے جائیں گے، ردعمل کے طور پر امریکا ہمارا گھیرا تنگ کرنے کی کوشش کرے گا۔
اس بریفنگ میں میں زور دیا گیا تھا کہ پاکستان کو اسٹرٹیجک نوعیت کے شدید چیلنجوں کا سامنا ہے جن کا تقاضا یہ ہے کہ پاکستان میں سیاسی استحکام ہو اگر خدانخواستہ پاکستان میں قومی اتفاق رائے اور یکجہتی نہ ہوئی تو پاکستان کے دشمن آنے والے سنگین خطرات سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں، تو کیا اس بریفنگ کے بعد قومی لیڈر شپ نے اتفاق رائے کا مظاہرہ کیا اور ایک پیج پر نظر آئے تو اس کا جواب نفی میں ہے۔
دوسری جانب ترجمان افغان طالبان نے کہا ہے کہ افغانستان میں قیام امن کے لیے برادر اسلامی ملک پاکستان کے مشوروں کا خیر مقدم کریں گے۔ ادھر بھارت کے وزیراعظم مودی کو داخلی مسائل کا سامنا ہے وہ اپنی سیاسی پوزیشن کو بہتر کرنے کے لیے کشمیر پالیسی میں نرمی لانا چاہتا ہے، یہ اطلاعات بھی سامنے آرہی ہیں کہ افغانستان سے امریکی انخلا کے بعد بھارت پریشان اور بوکھلاہٹ کا شکار ہے۔
یہ حقیقت پوری طرح عیاں ہوچکی ہے کہ پاکستان کے دشمن کوشش کر رہے ہیں کہ پاکستان کے اندر دہشت گردی کی کارروائیاں دوبارہ شروع کی جائیں۔ دوسری جانب روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے نمایندہ خصوصی ضمیر کبولوف نے کہا ہے کہ افغانستان کے مستقبل کے لیے طالبان کے ساتھ باقاعدہ مذاکرات شروع کرنے کی ضرورت ہے، اس پہلے کہ بہت دیر ہو جائے ، کابل حکومت کو مذاکرات کرنے چاہیے۔
سابق امریکی صدر جارج ڈبلیو بش نے افغانستان سے نیٹو افواج کے انخلا پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہریوں کو قتل ہونے کے لیے طالبان کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ یہ دونوں موقف سامنے رکھے جائیں تو صورتحال واضح ہوجاتی ہے کہ افغانستان دوبارہ خانہ جنگی شروع ہونے کے امکانات کو رد نہیں کیا جاسکتا ہے ، کیونکہ امریکا ، روس ، بھارت اور دیگر ممالک کے اپنے اپنے مفادات افغانستان سے وابستہ ہیں۔
یہاں پر ہماری حکومت کو انتہائی چونکا رہنے کی ضرورت ہے کہ وہ اپنے پڑوسی ملک افغانستان میں ہونے والی سازشوں اور خانہ جنگی کی آگ سے خود کو بچائے اور قومی سلامتی کو مقدم رکھے ، لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان کے قومی مفادات اور سلامتی کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلے کیے جائیں ، ملک میں جاری غیر معمولی سیاسی کشمکش اور سیاسی عدم استحکام سے پاکستان دشمن فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
پاکستان کے قومی مفاد اور سلامتی کا تقاضا ہے کہ آنے والے سنگین خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے ملک کے اندر سیاسی اشتعال اور انتہا پسندی کے بجائے قومی مفاہمت پیدا کرنے کی کوشش کی جائے۔ وزیراعظم سب کو اپنے ساتھ ملا کر قدم اٹھائیں، اس طرح ہی قومی سطح پر درپیش نازک صورت حال کا سامنا کرنے کی موثر راہ ہموار کی جا سکتی ہے۔