ہتھیار اٹھانے والوں کو حراست میں لینے کیلیے اجازت کی شرط ختم

پہلے سیکریٹری داخلہ کی شرط تھی،تحفظ پاکستان ترمیمی آرڈیننس میں ابہام ختم

سیکیورٹی خدشات کی وجہ سے حراستی مراکزکو ظاہر نہیں کیا جائے گا۔فوٹو:فائل

ISLAMABAD:
جبری گمشدگیوں اور لاپتہ افرادکے معاملے کو قانونی تحفظ دینے کیلیے جاری تحفظ پاکستان ترمیمی آرڈیننس2014ء میں موجود ابہام دورکرتے ہوئے جمعرات کو وفاقی حکومت کی جانب سے وضاحت کی گئی ہے کہ پاکستان، پاکستانیوں، ریاست، عسکری و نیم عسکری اداروں کیخلاف ہتھیار اٹھانے والوںکو 90 دن کیلیے قانونی طور پر زیر حراست رکھنے کیلیے سیکریٹری داخلہ سے تحریری اجازت یا منظوری نہیں لینا ہوگی۔

ایکسپریس نیوزکے مطابق ترمیمی آرڈیننس کے مطابق سیکیورٹی خدشات کی وجہ سے حراستی مراکزکو ظاہر نہیں کیا جائے گا۔ ملک دشمن شخص کو حراست میں لینے کیلیے سیکریٹری داخلہ کی تحریری اجازت کو ترمیمی آرڈیننس سے نکال دیا گیاہے۔




آرڈیننس کی رو سے حکومت حراست میں لینے کی وجوہات بتانے کی پابند نہیں ہے۔ پہلے کسی شخص کو حراست میںلینے کیلیے سیکریٹری داخلہ یا گریڈ21کے مجاز افسر سے اجازت لینا ضروری تھی لیکن اب یہ الفاظ نکال کر صرف حکومت کی منظوری ہی کافی قرار دیدی گئی ہے۔
Load Next Story