ویت نام اور افغان جنگ میں پنہاں سبق (1)

زاہدہ حنا  بدھ 21 جولائ 2021
zahedahina@gmail.com

[email protected]

انسانی تاریخ میں 20 ویں صدی کئی حوالوں سے ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔

اس صدی کے دوران پہلی اور دوسری عالمی جنگوں سمیت کئی چھوٹی بڑی جنگیں ہوئیں۔ ایک انتہائی محتاط اندازے کے مطابق ان جنگوں میں کم ازکم 10کروڑ 80 لاکھ لوگ مارے گئے۔کسی ایک صدی میں اتنے زیادہ لوگ جنگوں میں کبھی ہلاک نہیں ہوئے تھے۔

اس صدی نے نو آبادیاتی نظام کے عروج اور زوال کو بھی رونما ہوتے دیکھا۔ جدید نوآبادیاتی نظام کاآغاز 1880 کی دہائی میں ہوا جب کہ 1914 کے بعد اس کا زوال شروع ہوگیا تھا۔ یہ عمل 1975 میں جاکر مکمل ہوا۔ یورپی ممالک ، امریکا ، روس اور جاپان جدید سامراجی ملکوں میں سب سے نمایاں تھے۔

نو آبادیاتی  سامراجی طاقتوں نے اپنے غلام ملکوں کا بد ترین استحصال کیا اور استعماری ملکوں کی معاشی خوشحالی بھی اپنی غلام قوموں کی مرہون منت تھی۔ یہ صدی قومی آزادی کی شان دار جنگوں اور تحریکوں کے حوالے سے بھی کبھی فراموش نہیں کی جائے گی۔

قومی آزادی کی ان جنگوں کو اس وقت کے سوویت یونین کی بھرپور حمایت حاصل تھی۔ سوویت صدر خرو شیف نے 1961 میں باضابطہ طور پر قومی آزادی کی تحریکوں کی حمایت کا اعلان کر دیا تھا ، اس حمایت کی وجہ سے پوری دنیا میں چلنے والی آزادی کی تحریکوں پر انقلابی سوشلسٹ کا رنگ غالب آ گیا۔

چین سمیت دنیا کے بہت سے ملک قومی آزادی کی مسلح جدوجہد کی کامیابی کے نتیجے میں نمودار ہوئے۔ ان جنگوں میں ویت نام کی جنگ آزادی سب سے اہم قرار دی جا سکتی ہے۔ ویت نام کی جنگ آزادی کو پوری دنیا کے حریت پسند عوام کی بھرپور حمایت حاصل ہوئی۔

امریکا اور یورپ کے تمام ملکوں میں ویت نام پر امریکی قبضے کے خلاف فقید المثال مظاہرے کیے گئے۔  پاکستان میں بھی ان ترقی پذیر ملکوں میں شامل تھا ، جہاں ویت نام کی آزادی کی حمایت اور امریکا کی مخالفت میں زبردست جلوس نکالے جاتے تھے۔ نیشنل اسٹوڈنٹس  فیڈریشن اور ڈیموکریٹک اسٹوڈنٹس فیڈریشن نے طلبا اور عوام کو امریکا کے خلاف مظاہروں کے لیے متحرک کیا۔ یہ وہ دور تھا کہ جب پاکستان میں امریکا حامی ایوب خان کی فوجی آمریت قائم تھی۔

سوویت یونین اور چین کی بھر پور مالی اور فوجی حمایت اور عالمی رائے عامہ کی زبردست سیاسی حمایت کے باعث امریکا کو ویت نام جنگ میں بد ترین شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ امریکا نے جنوبی ویت نام میں اپنی کٹھ پتلی حکومت قائم کر رکھی تھی، جسے شمالی ویت نام کے جنگجو گوریلوں کی مزاحمت کا سامنا تھا۔ امریکا اس جنگ میں اس قدر زیادہ ملوث ہوگیا تھا کہ اس نے اس جنگ کو ’’ امریکی جنگ ‘‘ کہنا شروع کر دیا تھا۔ اس جنگ میں تقریباً 20 لاکھ ویت نامی شہری ، 11 لاکھ شمالی ویت نامی فوجیوں کے علاوہ جنوبی ویت نام کے ڈھائی لاکھ فوجی ہلاک ہوئے تھے۔

امریکا کو اس جنگ میں اپنے 58000 ہزار فوجیوں سے ہاتھ دھونے پڑے تھے۔ یہ جان کر بہت سے قارئین کو حیرت ہوگی کہ امریکا نے اس جنگ کے دوران شمالی ویت نام پر جتنے بم گرائے تھے ، اتنے بم دوسری جنگ عظیم میں جرمنی ، اٹلی اور جاپان نے مل کر بھی نہیںبرسائے تھے۔ اس چھوٹے سے ملک پر 61 لاکھ ٹن بم برسات کی گئی جب کہ دوسری جنگ عظیم میں کل 21 لاکھ ٹن بم گرائے گئے تھے۔

ویت نام جنگ میں امریکا کو نا قابل برداشت جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا۔ لہٰذا اس نے ویت نام سے اپنے فوجیوں کو 1973 سے نکالنے کا عمل شروع کر دیا ، اگر آج کے حساب سے تخمینہ لگایا جائے تو معلوم ہوگا کہ امریکا نے ویت نام جنگ میں ایک ہزار ارب ڈالر سے بھی زیادہ رقم خرچ کی تھی۔ آج بھی امریکا ویت نام جنگ میں حصہ لینے والے فوجیوں اور ان کے خاندان کو ہر سال 22 ارب ڈالر سے زیادہ رقم ادا کرتا ہے۔ 1970 کے بعد سے اب تک امریکا 270 ارب ڈالر اس مد میں خرچ کرچکا ہے۔

دوسرے لفظوں میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ ویت نام جنگ کا تاوان امریکا آج تک ادا کر رہا ہے۔ بھاری اخراجات کے باعث امریکا 1964 میں خطرناک افراط زرکا شکار ہوگیا۔ معاشی کساد بازاری اور بے روزگاری نے عوام کی زندگی اجیرن کر دی۔

ویت نام جنگ نے امریکی زراعت کو بھی تباہی کے دہانے پر لاکھڑا کیا۔ 1970 کی دہائی میں امریکا کی 25 فیصد آبادی کا انحصار زراعت پر تھا۔ 22 لاکھ سے زیادہ امریکیوں کو ویت نام میں فوجی خدمات سر انجام دینی پڑی تھیں۔ حکومت کو زرعی پیداوار جاری رکھنے کے لیے بھاری مشینری فراہم کرنی پڑی اور زرعی فصلوں کو محدودکرنا پڑا۔ اس جنگ کے دوران امریکی حکومت نے اپنے شہریوں سے بہت جھوٹ بولے تھے ، جس سے عوام اور حکومت کے درمیان بے اعتمادی کی خلیج بہت وسیع ہوگئی ، جو اب بھی کسی نہ کسی شکل میںموجود ہے۔

امریکی فوجی انخلا کے دوسال بعد سائی گان میں اس کی حامی حکومت کا خاتمہ ہوگیا اور شمالی ویت نام کی افواج نے پورے جنوبی ویت نام کو فتح کر لیا۔ اس وقت کے سوویت یونین نے بھی شمالی کوریا کی مدد کرتے ہوئے اربوں ڈالر خرچ کیے تھے۔ ویت نام کی جنگ نے امریکا کو عالمی سطح پر ناقابل تلافی سیاسی نقصان پہنچایا۔ ترقی پذیر ملکوں کی بہت سی حکومتیں امریکا کی حامی ضرور تھیں، لیکن ان ممالک کے عوام میں شدید امریکا مخالف جذبات پائے جاتے تھے۔

اس جنگ کو ختم ہوئے اب تقریباً 50 سال کا عرصہ گزر چکا ہے لیکن ایشیا ، افریقا اور لاطینی امریکا کے زیادہ تر ملکوں کے لوگ امریکا کے بارے میں اب بھی منفی رائے رکھتے ہیں۔ ویت نام جنگ میں کامیابی نے سابقہ سوویت یونین اور چین کی سیاسی مقبولیت میں اضافہ ضرورکیا لیکن ان دونوں ملکوں کی معاشی طور پر بہت نقصان اٹھانا پڑا ، جس کے سیاسی اور نظریاتی اثرات آگے چل کر نمودار ہوئے۔

ویت نام میں امریکا اور سابق سوویت یونین ایک دوسرے کے خلاف صف آرا تھے۔ یہ جنگ بالآخر ختم ہوگئی لیکن مذکورہ ملکوں کے درمیان جاری سرد جنگ مزید شدت اختیارکرگئی۔ امریکا کو ویت نام میں جو بدترین ہزیمت اٹھانی پڑی تھی، وہ اسے آسانی سے بھلانے کے لیے تیار نہیں تھا۔ وہ سوویت یونین سے حساب چکانے کے لیے کسی مناسب موقع کی تلاش میں تھا۔

یہ امریکا کی خوش قسمتی اور سابق سوویت یونین کی بدبختی تھی کہ اس نے بلاضرورت افغانستان میں پہلے سے موجود ایک غیر جانبدار حکومت کومعزول کرکے اپنی حامی حکومت قائم کی اور جب وہ حکومت کمزور ہونے لگی تو اسے بچانے کے لیے اس نے افغانستان میں فوجی مداخلت کر دی۔ سوویت یونین نے دسمبر 1979میں افغانستان پر قبضہ کیا اور امریکا جس موقع کا منتظر تھا وہ اسے مل گیا۔

اس نے سوشلسٹ افغان حکومت کے خلاف برسرپیکار مجاہدین کی بھرپور مدد شروع کردی۔ امریکا نے افغانستان میں سوویت یونین کے خلاف لڑی جانے والی اس جنگ کوکفر اور اسلام کی جنگ میں تبدیل کر دیا۔ اس عمل میں اسے مسلم عرب ممالک کے علاوہ پاکستان میں موجود جنرل ضیا الحق کی حکومت کی بھی مکمل حمایت حاصل تھی۔ مذہبی جذبات کو اس قدر ابھارا گیا کہ افغانستان بہت سے دہشت گرد اور متشدد اور جنگجو گروہوں کا مرکز بن گیا۔

سوویت یونین کو اب اس طرح کی صورتحال کا سامنا تھا ، جو ماضی میں امریکا کو ویت نام میں درپیش تھی۔ ویت نام میں امریکی فوجی کمیونسٹ گوریلوں سے نبرد آزما تھے ، افغانستان میں سوویت افواج انتہا پسند مسلم مجاہدین سے جنگ کے جال میں پھنس چکی تھیں۔ سوویت یونین اس جنگ کا دباؤ زیادہ عرصے تک برداشت نہیں کرسکا ، اس کی معیشت جواب دینے لگی اور اسے فوجی مداخلت کے 9 سال بعد افغانستان سے واپس جانا پڑا۔ تاہم، اس جنگ سے جو معاشی تباہی برپا ہوئی سوویت یونین اس کا دباؤ برداشت نہیں کرسکا اور دنیا کی دوسری عظیم طاقت شکست وریخت کا شکار ہوکر 15 آزاد ریاستوں میں تقسیم ہوگئی۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔