ملکی صورتحال پر اہم سفارتی موقف

ڈرون حملے دہشت گردی کے خلاف جنگ کومتاثر کرنے کا باعث ہیں

ڈرون حملے دہشت گردی کے خلاف جنگ کومتاثر کرنے کا باعث ہیں. فوٹو: فائل

پاکستان نے واضح کیا ہے کہ امریکا کی درخواست پر ڈاکٹر شکیل آفریدی کو رہا نہیں کیا جائے گا، یہ معاملہ عدالت میں ہے، اگر عدالتیں اسے بری کرتی ہیں تو یہ مختلف معاملہ ہو گا، آفریدی کے مستقبل کافیصلہ حکو مت نہیں عدالتیں کریں گی ۔ یہ جواب امریکی حکام تک پہنچانا سفارتی اور اخلاقی سطح پر بے حد اہم ہے کیونکہ اس وضاحت سے پاکستان کی طرف سے عالمی برادری کو بھی یہ پیغام جاسکتا ہے کہ ایک خود مختار ملک کی حیثیت میں شکیل آفریدی کا مقدمہ چونکہ عدالت میں زیر سماعت ہے اس لیے اس ضمن میں صرف عدلیہ ہی فیصلہ دے سکتی ہے جب کہ چیئرمین کمیٹی سینیٹرمشاہد حسین نے اس بارے میں منطقی استدلال پیش کیا ہے کہ امریکا کامائنڈسیٹ تبدیل نہیں ہوا۔ادھر دفترخارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم نے جمعرات کو ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران بتایا کہ پاکستان اور امریکا کے مابین اسٹرٹیجک ڈائیلاگ آیندہ ہفتے شروع ہو ں گے، مشیر خارجہ سرتاج عزیز اور امریکی وزیر خارجہ جان کیری کے درمیان ملاقات ورکنگ گروپ کی پیش رفت کے وزارتی جائزے کے لیے ضروری ہے۔ ترجمان کے مطابق آزاد اورمقبوضہ کشمیرکے درمیان تجارت کے معاملے پر پاکستان میں بھارتی قونصلر کو مراسلہ جاری کردیا گیاہے، پاکستان اس معاملے کے حل کے لیے رابطے میں ہے۔ پاکستان چاہتا ہے کہ آزاد اور مقبوضہ کشمیر کے درمیان تجارت خوش اسلوبی سے جاری رہے ۔پاک بھارت تجارت کے لیے بات چیت میں مزید پیش رفت کی ضرورت ہے تاکہ خطے میں جنگ کے بادل منڈلانے کا کوئی امکان باقی نہ رہے ۔ ترجمان نے بنگلہ دیش کی صورتحال اور سعودی حکام کے دورے کے حوالے سے صورتحال کی وضاحت کی۔


سیکریٹری دفاع آصف یاسین نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع کو بریفنگ دی اور کہا کہ دھرنا سیاسی معاملہ ہے، پاکستان بین الاقوامی معاہدے کے تحت نیٹو سپلائی جاری رکھنے کا پابند ہے ، شاید امریکا کوکافی عرصے سے کوئی ہدف نہیں ملا جس کی وجہ سے حالیہ دنوں میں ڈرون حملے نہیں ہو رہے ۔قائمہ کمیٹی برائے دفاع کا اجلاس جمعرات کوچیئرمین سینیٹرمشاہد حسین کی زیر صدارت ہوا۔ اجلاس میں سیکریٹری دفاع آصف یاسین نے پاک امریکا دفاعی مشاورتی اجلاس کے 22ویں اجلاس کے حوالے سے بریفنگ دی ۔بتایا جاتا ہے کہ امریکی حکام پر واضح کیا گیا کہ مستحکم اور پرامن افغانستان نہ صرف علاقے بلکہ پوری دنیا کے مفاد میں ہے، مزید براں امریکی حکام کوواضح طور پرڈرون حملے بندکرنے کا موقف پیش کیا گیا اب ضرورت یہ بھی کہ اس موقف کی مانیٹرنگ ہو اور امریکی حکام سے اس ضمن میں جواب بھی حاصل کیا جائے۔

ڈرون حملے دہشت گردی کے خلاف جنگ کومتاثر کرنے کا باعث ہیں، یہ بات صدر اوباما اور ان کی نیشنل سیکیورٹی کونسل کے ذہن نشین کرنا چاہیے۔یہ بھی بروقت اقدام ہے جس کے تحت اجلاس میں امریکی دفاعی حکام کو بھارت کے دفاعی بجٹ میں اضافے پر تحفظات سے آگاہ کرتے ہوئے بعض اہم حقائق کا اظہار کیا گیا ہے ۔ بھارتی دفاعی بجٹ میں اضافہ پاکستان کے کل دفاعی بجٹ سے بھی زیادہ ہے ، اور اس اضافہ کے پیچھے کیا عزائم ہیں ارباب اختیار اور دفاعی حکام کو بھارت تک بھی یہ تاثر پہنچانا چاہیے کہ پاکستانی قوم اس صورتحال سے غافل نہیں ہے۔اسے بھی خوش آیند سفارتی وضاحت کہا جائے گا جس میں امریکی حکام کوباور کرایا گیا کہ بھارت کیسے چین پرحملہ کرسکتا ہے جب کہ اس کے پاس ہمالیہ کوپارکرنے کے لیے دفاعی وسائل ہی نہیں۔امریکا کے لیے اب چین کو متھ بنانے کا باب بند کرنا چاہیے۔ پاکستانی دفتر خارجہ نے یہ کہہ کر کہ شام یا سعودی عرب میں پاک فوج کی خدمات نہیں دی جا رہیں نہ ہی وہاں پاک فوج کاکوئی کرداربن رہاہے افواہوں کا زور توڑ دیا ہے۔
Load Next Story