مائی کولاچی سے عہد وفا

آج عروس البلاد کو محبت کا استعارہ بنانے کے لیے مائی کولاچی سے تجدید وفا کا وقت ہے، اس وقت کی قدرکیجیے۔

آج عروس البلاد کو محبت کا استعارہ بنانے کے لیے مائی کولاچی سے تجدید وفا کا وقت ہے، اس وقت کی قدرکیجیے۔ فوٹو: فائل

ملک بھر میں کورونا وائرس کے باعث ایک دن میں مزید37 افراد جان کی بازی ہار گئے۔ 2 ہزار 145نئے کیس رپورٹ ہوئے ہیں۔ مثبت کیسز کی یومیہ شرح 5.25 ریکارڈ کی گئی۔ ملک میں فعال مریضوں کی تعداد بڑھ کر49 ہزار 929 تک پہنچ گئی ہے۔

نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر نے عید الاضحی کے پیش نظر این سی او سی کے احکامات ، نماز عید اور قربانی کے حوالے سے ایس او پیز پر عمل درآمد کو نہایت اہم قرار دیا۔ آلائشوں کو ٹھکانے لگانے کے اقدامات بھی کیے گئے لیکن شہر کے سیاسی معاملات اور انفرااسٹرکچر کی تنصیب کی ناگزیریت کے اہداف کو پانے کے لیے سندھ حکومت کو لیاری سمیت اس سے ملحقہ تمام شہری علاقوں میں اپ لفٹ کو پیش نظر رکھنے کی ضرورت ہے، کورونا وبا نے بیشتر آبادی کو ذہنی طور پر مفلوج کر دیا ہے۔

عید الاضحی کے لیے قربانی کے جانوروں کی منڈیوں تک رسائی اور خرید و فروخت کا منظر درد انگیز اور عوام کے لیے اعصاب شکن تھا۔ میڈیا اس بات پر زور دیتا رہا کہ اگر بارشوں کا سلسلہ شروع ہوگیا تو برساتی نالے امڈ پڑیں گے، نکاسی آب کا ناقص نظام مسائل کے حل سے نمٹنے کی سکت نہیں رکھتا۔ کوئی سائنٹیفک پلاننگ نہیں ہے، اربن ماہرین کا کہنا ہے کہ چند روزہ صفائی مہم سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ ہدایات کافی نہیں ہونگی ، ایک بیان میں این سی او سی کے سربراہ اسد عمر نے کہا کہ پیرکو پہلی بار ملک میں ایک دن میں ریکارڈ 6 لاکھ سے زیادہ ویکسی نیشن کی گئی۔

ویکسی نیشن کی بڑھتی تعداد حوصلہ افزا ہے لیکن اور تیزی ضروری ہے۔ بیشتر آبادی کی ویکسی نیشن تک پابندیاں ناگزیر ہیں، تاہم ویکسی نیشن پر عملدرآمد کا سیاسی paradoxقابل غور ہے، فیس ماسک کی کیا اجتماعی حرمت باقی رہ گئی ہے؟

عام مشاہدے میں آیا ہے کہ سیاسی اجتماعات کو ماسک ، سماجی فاصلہ اور بھیڑ سے گریزکرنے پر حکام ابھی تک آزاد کشمیر کے تین اہم سیاسی اجتماعات پر فیصلہ نہیں کر پائے، مگر اسد عمر نے برطانیہ میں ویکسی نیشن دنیا کے لیے بہترین مثال قرار دیتے ہوئے کہا کہ ویکسین کے باعث کووڈ19 کے صحت پر اثرات کم ہوتے ہیں۔ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے ٹک ٹاک اور ٹویٹر پر ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ پاکستان کامیابی سے کورونا وبا سے نمٹا ہے۔ اس میں حکومت کے بروقت اور اچھے فیصلوں کا ہاتھ ہے۔

کراچی میں گزشتہ بارشوں کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ یہ تاریخ کی سب سے زیادہ طوفانی بارش تھی، جس کی مثال پچھلے نوے سال کے ریکارڈ میں نہیں ملتی۔ دنیا کے بدلتے موسم کے تناظر میں اورکیونکہ پاکستان ان دس ممالک میں شامل ہے جہاں موسمی تغیرات سب سے زیادہ اثر انداز ہونگے کچھ عجب نہیں کہ کراچی کو آنے والے وقت میں اس سے بھی شدید بارش اور طوفان کا سامنا کرنا پڑے اور خاص طور پر ساحلی پٹی پر رہنے والے شہریوں کو اس بات کو مد نظر رکھنا ہوگا اور احتیاطی تدابیر اختیارکرنا ہوں گی۔

سچ بات تو یہ ہے کہ اگرکراچی میںایسی طوفانی بارش نہ ہوتی جس نے امیر اور غریب بستیوں کا فرق مٹا دیا تو شاید ہمیشہ کی طرح کوئی کراچی کے مسائل پر توجہ بھی نہ دیتا۔ ویسے تو اس وقت جو شوروغوغا ہوا تھا وہ وقت کے ساتھ بیٹھ چکا ہے، بڑے بڑے سیاسی لیڈروں بشمول وفاقی عہدیداروںکا جو جوش جذبہ تھا لگتا تھا کہ بس اب یہ تب تک چین سے نہیں بیٹھیں گے جب تک کراچی کے مسائل حل نہ کرلیں۔

نتیجہ وہی ڈھاک کے تین پات۔ سب پنچھی اپنی اپنی بولیاں بول کر اڑ گئے اور کراچی ابھی تک اسی خستہ حالی کا شکار ہے جس سے کراچی کے لوگوں کو اندازہ ہوجانا چاہیے کہ کوئی ان کے ساتھ مخلص نہیں۔اب پوری قوم بشمول کراچی کو سیاسی گرماگرمی میں الجھا دیا گیا ہے اور بیچارہ کراچی کا غریب شہری انتظار میں ہے کہ اونٹ کسی کروٹ بیٹھے تو وہ نئے سرے سے اپنے مسائل کے حل کے لیے سرکار سے التجا کرے۔


کراچی میں ٹریفک کے مسائل بھی بڑھتے جارہے ہیں،سڑکوں پر آئے دن گاڑیوں کا خراب ہونا ، حادثات ہونا،سائیکل، موٹر سائیکل کا اچانک سڑک کے بیچوں بیچ آجانا، پیدل چلنے والے حضرات کا اچانک تیز رفتار گاڑیوں کے سامنے سے سڑک پار کرنا، خستہ حال اور ٹوٹی پھوٹی سڑکوں کی وجہ سے ٹریفک جام روز کا معمول بن گیا ہے اور ڈرائیورز کا ٹریفک کے قوانین سے لاعلم ہونا معاشرے کا دردِ سر بنتا جا رہا ہے۔ اسی طرح ماحول میں فضائی آلودگی بھی اس ٹریفک کی وجہ سے اتنا بڑھ گئی ہے کہ کئی لوگوں کو گلے اور آنکھوں کی سوزش رہنے لگی ہے۔

بچے اس بے ہنگم ٹریفک کی وجہ سے نہ تو اسکول سیفٹی کے ساتھ آجا سکتے ہیں اور نہ ہی باہر کھیل سکتے ہیں جو بچوں کی نشوونما کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ رات میں گاڑیوں کی ہیڈ لائٹس کا استعمال جو کہ باقی ساری دنیا میں ایک سنگین جرم ہے، وطن عزیز میں بلا خوف و خطر کیا جاتا ہے جس سے سامنے سے آنے والی گاڑی کے ڈرائیورکی آنکھوں میں روشنی کی شدت سے ڈرائیور کے لیے گاڑی چلانا شدید خطرہ بن جاتا ہے۔ سڑکوں کا کہیں بہت بڑا ہونا اور کہیں اچانک بہت چھوٹا ہونا بھی ٹریفک کے حادثات کا باعث بن رہا ہے، سڑکوں پر بارشوں یا سیوریج سے جمع ہونے والے پانی سے بے شمار حادثات ہو رہے ہیں۔

اوپر سے آئے دن سیاست دانوں اور وی وی آئی پی حضرات کی آمدو رفت پر سڑکوں کو اچانک بند کرنے سے ٹریفک جام ہونا ایک عام سی بات بنتی جا رہی ہے جس میں کئی بچے اسکول دیر میں پہنچتے ہیں یا گھر دیر سے پہنچتے ہیں۔ نوکریوں پر جانے والے حضرات بھی اپنے باس کے آگے شرمسار ہوتے ہیں۔ کئی لوگ اسی قطار میں لگی ایمبولینس میں زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں تو دوسری طرف ڈاکٹر مریض کے آپریشن کے لیے بروقت اسپتالوں میں نہیں پہنچ سکتے۔

اسی ٹریفک جام کی وجہ سے سڑکوں پر ڈاکوؤں اور لٹیروں نے بھی اپنا غنڈہ راج قائم کیا ہوا ہے۔ آئے دن ٹریفک کے بیچوں بیچ لوگوں کو اسلحے کی نوک پر لوٹا جا رہا ہے لیکن حکومت کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔ گاڑیوں کی مینٹیننس، بریک فیل، گاڑیوں کی بریک لائٹس کا خراب ہونا، اگلی لائٹس کا خراب ہونا، سب ٹریفک کے حادثات کا باعث ہیں۔

شہر کراچی کا ایک بڑا مسئلہ پانی کی قلت کا ہے ، کے فور منصوبہ نہ جانے کب پایہ تکمیل تک پہنچے گا ، اب صرف اس پانی کے کاروبارمیں ہزاروں بلکہ لاکھوں لوگوں کا سرمایہ لگا ہوا ہے اور یا ان کا روزگار وابستہ ہے۔ جن کے ہزاروں پانی کے ٹینکر چل رہے ہیں اور لاکھوں منرل واٹرکی بوتلوں کی سپلائی کا ٹھیکہ ان کے پاس ہے کیا وہ کبھی کراچی کا یہ مسئلہ حل ہونے دینگے ، یہی حال کراچی کی ٹرانسپورٹ کا ہے۔ ایک زمانہ تھا کہ کراچی میں سرکاری بسیں وقت پر چلتیں اور صاف ستھری ہوتی تھیں۔

اس کے علاوہ ٹرام بھی چلتی تھی۔ سرکار نے اس سب سے ہاتھ کھینچ لیا اور اس خلا کو ٹرانسپورٹ مافیا نے بھر دیا۔ ظاہر ہے اس میں بھی کروڑوں کی سرمایہ کاری ہوچکی ، ہر دفعہ سرکار پیچھے ہٹ گئی اور اس خلا کو کسی مافیا نے پر کر دیا۔

تاہم شہری ماہرین کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی موجودہ صورتحال میں ایک بڑا بریک تھرو کرسکتی ہے، شہر قائد کی سیاست کو کشیدگی اور محاذ آرائی سے نکال کر شہرکی نشاۃ ثانیہ کا ہدف پورا کیا جاسکتا ہے، ابھی دو سال باقی ہیں، پی پی شہری انفرا اسٹرکچر، لیاری کے لیے پیکیج کا اعلان کرکے ہمہ گیر ترقیاتی کام شروع کرا سکتی ہے اور ایک ٹارگٹڈ ماسٹر پلان کے ذریعے مکمل فوکسڈ سماجی اور اقتصادی خوشحالی کے لیے تن دہی سے کام کا آغاز کرے۔ صوبائی حکومت لیاری کے ساتھ ساتھ کراچی کی اردو اسپیکنگ کمیونٹیز کو بھی شہر کی ہمہ جہت ترقی میں شامل کرسکتی ہے۔

اس شہر کی اجتماعی ترقی کا اس سے بہتروقت پھر کب آئے گا، کراچی کا مستقبل تمام ساکنان شہر قائد سے ملتجی ہے کہ یہ وقت جمہوری عمل، ترقیاتی پہیے اور اقتصادی رونقوں کی بحالی کا ہے، حکمران کشادہ نظری، بصیرت و دور اندیشی سے سیاسی منظر نامہ کی کایا پلٹ سکتے ہیں۔ فہم و فراست سے کام لینے کی ضرورت ہے، لیاری اور دیگر آبادیوں مثلاً اورنگی، کورنگی، کیماڑی، منگھوپیر، سرجانی کی ہمہ جہتی ترقی کا پلان صوبائی حکومت کے ٹرانسفارمیشن کو توسیع دیتے ہوئے کراچی کو ترقی دے، فنڈز مہیا کرے، کیا اہل کراچی کا ایک ڈائمنڈ میگا سٹی بنانے کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا۔ جب سارے اسٹیک ہولڈرز ساتھ مل جائیں تو سب کچھ ہوسکتا ہے۔

بس ایک سیاسی اشتراک عمل، جمہوری، اسپرٹ اجتماعی اور شہر کو سنوارنے کے عزم و ارادہ کی ضرورت ہے۔ لیاری کے عوام کی ترقی اب ایک fragmented منصوبہ بندی سے مشروط رہی ہے، عوام میں احساس محرومی اس وجہ سے بھی رہا ہے کہ ارباب اختیار اگر لیاری کے لیے ایک معاہدہ عمرانی کے سماجی، تجارتی، سیاسی اور اسٹرٹیجک بریک تھرو کی کوشش کرتے تو کراچی کو ایک عظیم ثقافتی میٹرو پولیٹن سٹی بننے سے کون روک سکتا، آج شہر قائد کو مائی کولاچی کی اداس آنکھیں سلام کہتی ہیں، اہل شہر نے مائی کولاچی کو ہمیشہ اپنی آنکھوں میں بسایا ہے۔ آج عروس البلاد کو محبت کا استعارہ بنانے کے لیے مائی کولاچی سے تجدید وفا کا وقت ہے، اس وقت کی قدرکیجیے۔
Load Next Story