یورپی تجارتی مراعات کیلئے نجی شعبہ متحرک پیداواری گنجائش بڑھانے کیلیے سرمایہ کاری تیز
نجی شعبے کے قرضوں کے اجرا کی رفتار 8 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے،قرضے ٹیکسٹائل اورپاورسیکٹر کیلئے حاصل کیے گئے
بجلی گیس وپانی کے شعبے کی سرمایہ کاری ضروریات میں اضافہ،6ماہ میں 31 ارب کیلیے بینکوں سے رجوع کیا، اسٹیٹ بینک فوٹو: فائل
توانائی کے بحران اور سیکیوریٹی مسائل کے باوجود بینکنگ انڈسٹری کی جانب سے نجی شعبے کے قرضوں کے اجرا کی رفتار 8 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے، نجی شعبے میں سب سے زیادہ قرضے ٹیکسٹائل اور پاور سیکٹر کے لیے حاصل کیے گئے۔
ماہرین کے مطابق یورپی یونین کی جانب سے جی ایس پی پلس (تجارتی مراعات) کی سہولت کے لیے استعداد کار میں اضافے، صلاحیت و معیار کو بہتر بنانے کے لیے ٹیکسٹائل سیکٹر نے پہلے سے تیاریاں شروع کردی تھیں، دوسری جانب ملک میں ہائیڈل اور کول بیس پاور پلانٹس کی تنصیب کے لیے سرگرمیاں تیز ہونے سے اس شعبے میں بھی نجی قرضوں کی طلب بڑھ گئی ہے، یہی وجہ ہے کہ نجی شعبوں کے لیے جاری کردہ مجموعی قرضوں میں ٹیکسٹائل سیکٹر کا حصہ 19فیصد اور پاور سیکٹر کا حصہ 8فیصد تک پہنچ گیا ہے۔
اسٹیٹ بینک کے اعدادوشمار کے مطابق رواں مالی سال کی پہلی ششماہی کے دوران نجی شعبے کو 296.2 ارب روپے کے قرضے جاری کیے گئے، دسمبر 2013کے اختتام تک نجی شعبے کے قرضوں کی مجموعی مالیت 3200 ارب روپے تک پہنچ چکی ہے، ششماہی کے دوران نجی شعبے کے لیے قرضوں میں 9.9فیصد اضافہ ہوا، جو گزشتہ 8سال کے دوران نجی شعبے کے لیے قرضوں میں اضافے کی بلند ترین شرح قرار پائی ہے، سب سے زیادہ 100ارب روپے کے قرضے ٹیکسٹائل کے شعبے نے حاصل کیے دسمبر 2013تک ٹیکسٹائل کے مجموعی قرضوں کی مالیت 614.9ارب روپے تک پہنچ چکی ہے، کامرس اینڈ ٹریڈ کے شعبے نے 6ماہ کے دوران 34ارب روپے جبکہ بجلی گیس پانی کے لیے 31ارب روپے کے نجی قرضے جاری کیے گئے، کنزیومر فنانسنگ کی مد میں 18ارب روپے کے نئے قرضے جاری کیے گئے جبکہ ایگری کلچر سیکٹر نے 17ار ب روپے کے قرضے حاصل کیے۔
ماہرین کے مطابق یورپی یونین کی جانب سے جی ایس پی پلس (تجارتی مراعات) کی سہولت کے لیے استعداد کار میں اضافے، صلاحیت و معیار کو بہتر بنانے کے لیے ٹیکسٹائل سیکٹر نے پہلے سے تیاریاں شروع کردی تھیں، دوسری جانب ملک میں ہائیڈل اور کول بیس پاور پلانٹس کی تنصیب کے لیے سرگرمیاں تیز ہونے سے اس شعبے میں بھی نجی قرضوں کی طلب بڑھ گئی ہے، یہی وجہ ہے کہ نجی شعبوں کے لیے جاری کردہ مجموعی قرضوں میں ٹیکسٹائل سیکٹر کا حصہ 19فیصد اور پاور سیکٹر کا حصہ 8فیصد تک پہنچ گیا ہے۔
اسٹیٹ بینک کے اعدادوشمار کے مطابق رواں مالی سال کی پہلی ششماہی کے دوران نجی شعبے کو 296.2 ارب روپے کے قرضے جاری کیے گئے، دسمبر 2013کے اختتام تک نجی شعبے کے قرضوں کی مجموعی مالیت 3200 ارب روپے تک پہنچ چکی ہے، ششماہی کے دوران نجی شعبے کے لیے قرضوں میں 9.9فیصد اضافہ ہوا، جو گزشتہ 8سال کے دوران نجی شعبے کے لیے قرضوں میں اضافے کی بلند ترین شرح قرار پائی ہے، سب سے زیادہ 100ارب روپے کے قرضے ٹیکسٹائل کے شعبے نے حاصل کیے دسمبر 2013تک ٹیکسٹائل کے مجموعی قرضوں کی مالیت 614.9ارب روپے تک پہنچ چکی ہے، کامرس اینڈ ٹریڈ کے شعبے نے 6ماہ کے دوران 34ارب روپے جبکہ بجلی گیس پانی کے لیے 31ارب روپے کے نجی قرضے جاری کیے گئے، کنزیومر فنانسنگ کی مد میں 18ارب روپے کے نئے قرضے جاری کیے گئے جبکہ ایگری کلچر سیکٹر نے 17ار ب روپے کے قرضے حاصل کیے۔