سندھ میں غیر قانونی بلڈ بینکوں کیخلاف کارروائی کی ہدایت
رجسٹرڈ بلڈ بینکوں میں مانیٹرنگ سسٹم موثر بنایا جائے، خلاف ورزی پر کارروائی کی جائے، گورنر ڈاکٹر عشرت العباد
رجسٹرڈ بلڈ بینکوں میں مانیٹرنگ سسٹم موثر بنایا جائے، خلاف ورزی پر کارروائی کی جائے، گورنر ڈاکٹر عشرت العباد فوٹو: فائل
گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد نے کراچی سمیت صوبے میں مریضوں کو محفوظ انتقال خون کو یقینی بنانے کیلیے غیر قانونی بلڈ بینکوں کے خلاف کارروائی کی ہدایت کی ہے اورکہا ہے کہ ڈاکٹروں کوبھی اس بات کا پابند کیاجائے کہ وہ سندھ بلڈ ٹرانسفیوژن اتھارٹی سے منظور شدہ رجسٹرڈ بلڈ بینکوں سے محفوظ خون لینے کی ہدایت کریں وہ گزشتہ روزگورنر ہاؤس میں محفوظ انتقال خون سے متعلق اجلاس کی صدارت کررہے تھے۔
اجلاس میں کمشنر کراچی شعیب صدیقی، گورنر کے پرنسپل سیکریٹری اورمشیرگورنر پروفیسر نوشاد شیخ، اختر غوری اور سندھ بلڈ ٹرانسفیوژن اتھارٹی کے سربراہ ڈاکٹر زاہد انصاری سمیت دیگر حکام بھی موجود تھے، گورنر سندھ کا کہنا تھا کہ ضرورت مندمریضوں کو محفوظ انتقال خون فراہم کرنا مریضوں کا بنیادی حق ہوتا ہے انھوں نے کہا کہ سندھ بلڈ ٹرانسفیوژن اتھارٹی بھی رجسٹرڈ بلڈ بینکوں میں مانیٹرنگ سسٹم وضع کریں اور اس بات کو بھی یقینی بنایا جائے کہ رجسٹرڈ بلڈ بینک مریضوں کو قواعد کے مطابق محفوظ خون فراہم کررہے ہیں یا نہیں اس حوالے سے اتھارٹی مانیٹرنگ بھی جاری رکھے اور خلاف ورزی کرنے والوں کوایکٹ کے تحٹ سزا بھی دی جائے۔
صوبے میں تمام رجسٹرڈ اور اسٹک ہولڈرز کا فوری اجلاس بھی طلب کیا جائے اورصوبے میں غیر قانونی بلڈ بینکوں کے خلاف فوری کارروائی شروع کی جائے کیونکہ یہ افراد انسانی جانوں سے کھیل رہے ہیں اورانسانی جانوں سے کھیلنے والوں کو معاف نہیں کیا جائیگا، اجلاس میں بلڈ ٹرانسفیوژن اتھارٹی کے سربراہ ڈاکٹر زاہد انصاری نے گورنر سندھ کو بتایا کہ صوبے میں 169 بلڈ بینک اتھارٹی سے رجسٹرڈ ہیں ان میں 41 بلڈ بینک سرکاری اسپتالوں میں کام کررہے ہیں جبکہ 44 غیر سرکاری تنظیموں کے ماتحت چل رہے ہیں اور 84 بلڈ بینک نجی شعبے میں کام کررہے ہیں، انھوں نے گورنر سندھ کو یقین دہانی کرائی کہ جلد ہی صوبے میں غیر قانونی بلڈ بینکوں کے خلاف کارروائی شروع کردی جائیگی۔
اجلاس میں کمشنر کراچی شعیب صدیقی، گورنر کے پرنسپل سیکریٹری اورمشیرگورنر پروفیسر نوشاد شیخ، اختر غوری اور سندھ بلڈ ٹرانسفیوژن اتھارٹی کے سربراہ ڈاکٹر زاہد انصاری سمیت دیگر حکام بھی موجود تھے، گورنر سندھ کا کہنا تھا کہ ضرورت مندمریضوں کو محفوظ انتقال خون فراہم کرنا مریضوں کا بنیادی حق ہوتا ہے انھوں نے کہا کہ سندھ بلڈ ٹرانسفیوژن اتھارٹی بھی رجسٹرڈ بلڈ بینکوں میں مانیٹرنگ سسٹم وضع کریں اور اس بات کو بھی یقینی بنایا جائے کہ رجسٹرڈ بلڈ بینک مریضوں کو قواعد کے مطابق محفوظ خون فراہم کررہے ہیں یا نہیں اس حوالے سے اتھارٹی مانیٹرنگ بھی جاری رکھے اور خلاف ورزی کرنے والوں کوایکٹ کے تحٹ سزا بھی دی جائے۔
صوبے میں تمام رجسٹرڈ اور اسٹک ہولڈرز کا فوری اجلاس بھی طلب کیا جائے اورصوبے میں غیر قانونی بلڈ بینکوں کے خلاف فوری کارروائی شروع کی جائے کیونکہ یہ افراد انسانی جانوں سے کھیل رہے ہیں اورانسانی جانوں سے کھیلنے والوں کو معاف نہیں کیا جائیگا، اجلاس میں بلڈ ٹرانسفیوژن اتھارٹی کے سربراہ ڈاکٹر زاہد انصاری نے گورنر سندھ کو بتایا کہ صوبے میں 169 بلڈ بینک اتھارٹی سے رجسٹرڈ ہیں ان میں 41 بلڈ بینک سرکاری اسپتالوں میں کام کررہے ہیں جبکہ 44 غیر سرکاری تنظیموں کے ماتحت چل رہے ہیں اور 84 بلڈ بینک نجی شعبے میں کام کررہے ہیں، انھوں نے گورنر سندھ کو یقین دہانی کرائی کہ جلد ہی صوبے میں غیر قانونی بلڈ بینکوں کے خلاف کارروائی شروع کردی جائیگی۔