گاڑیاں ضبط کر کے قانون توڑنے والوں پر مقدمے کیے جائیں پاما

بے ایمان امپورٹرز ایک کھیپ میں ہزار پرانی گاڑیاں خلاف قانون منگواکرتمام حدود پارکرچکے،مینوفیکچررز ایسوسی ایشن

پالیسی میں چھوٹ سے تاجروں کوخوش کرنے کے اقدامات صنعت تباہ کردیں گے،ڈی جی۔ فوٹو: فائل

پاکستان آٹوموٹیو مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (پاما) نے مقررہ حد سے زیادہ پرانی گاڑیوں کی درآمد پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے درآمدی پالیسی سے انحراف کو صارف اور معیشت دونوں کے لیے نقصان دہ قرار دیا ہے۔

پاکستان آٹوموٹیو مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے مطابق متعلقہ اداروں کو یہ سمجھنا چاہیے کہ مینوفیکچرنگ اور ٹریڈنگ ایک ساتھ نہیں چل سکتے، استعمال شدہ گاڑیوں کی پالیسی میں بڑی چھوٹ کے ذریعے تاجروں کو خوش کرنے کے لیے بارہا اٹھائے گئے اقدام مقامی صنعت کو تباہ کر دیں گے۔ ایسوسی ایشن کے مطابق گزشتہ سال کے نصف اوّل میں ان گاڑیوں کی درآمدات کی تعداد5ہزار512 تھی جبکہ نصف آخر میں یہ تعداد 11ہزار314تک پہنچ گئی جس کی بظاہر اور کوئی وجہ نہیں سوائے یہ کہ تاجر اس سہولت کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں، اگرچہ ایک ہزار سے زائد ایسی گاڑیوں کو بندرگاہ پر روک لیا گیا ہے جو قانونًا جائز حد سے زیادہ پرانی ہیں لیکن ایسی غیرقانونی گاڑیوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے جن کو ماضی میں بِلا کسی کارروائی کے چھوڑ دیا گیا ہو۔




ڈائریکٹر جنرل پاما کے مطابق بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کیلیے مخصوص اسکیموں کے ناجائز استعمال کے مسئلے کو مقامی صنعت منظرعام پر لاتی رہی ہے لیکن بد قسمتی سے ایسے بے ایمان درآمد کنندگان کے خلاف کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا جو بلا کسی روک ٹوک اپنی غیر قانونی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں اور اب وہ قانون کی صریح خلاف ورزی کرکے ایک کھیپ میں ایک ہزار پرانی گاڑیوں کی درآمد کر کے تمام حدود پار کر چکے ہیں، ایسی تمام غیر قانونی گاڑیوں کو ضبط کر کے قانون کی توہین کرنے والوں کے خلاف فوجداری مقدمات دائر کیے جانے چاہئیں۔ ڈی جی پاما نے کہاکہ قانون کی خلاف ورزی میں کی جانے والی ان درآمدات پر صنعت کو گہری تشویش لاحق ہے اور جائز حد سے زیادہ پرانی گاڑیوں کی منظوری نہ دینے کے اقدام پر صنعت ایف بی آر اور کسٹمز اتھارٹیز کو خراجِ تحسین پیش کرتی ہے۔
Load Next Story