پاکستانی طبی ماہرین کی کامیا بی تھیلیسیمیا سے متاثرہ بچوں کا دوا سے علاج ممکن ہو گیا

دوا Hydroxyurea کے استعمال سے152بچوں میں سے41 فیصد بچوںکو خون چڑھانے سے نجات مل گئی.

ڈاکٹرطاہرسلطان شمسی پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کررہے ہیں۔ فوٹو : ایکسپریس

پاکستانی طبی ماہرین نے تھیلیسمیا کے مرض میں مبتلا بچوں کے علاج میں مسلسل تحقیق کے بعد ایک اور کامیابی حاصل کرلی۔

متاثرہ بچوں کو خون چڑھائے بغیر تھیلیسیمیا کا علاج ممکن ہوگیا،50 سال بعد تھیلیسیمیا کے بچوںکا علاج اب دوا سے ممکن ہوگیا، اس دواکے استعمال سے 40تھیلیسمیاکے بچوں میں خون چڑھانے کی ضرورت نہیں پڑی جبکہ 40فیصد بچوں میں خون چڑھانے میں نمایاںکمی واقع ہوئی، اس کامیاب تحقیق پر جامعہ کراچی نے ماہر امراض خون ڈاکٹر ثاقب انصاری کو پی ایچ ڈی کی سند بھی دی ہے، یہ تحقیق نیشنل انسٹیٹیوٹ آف بلڈ ڈیزیزز سینٹر میں ڈاکٹر طاہر شمسی کی نگرانی میںکی گئی ہے جس میں نمایاںکامیابی حاصل کر لی گئی۔


دس سالہ تحقیقی کے مطابق تھیلیسمیاکے مریضوں میں دوا Hydroxyurea کے استعمال سے40فیصد میں خون چڑھانا بند ہوگیا جبکہ40فیصد بچوں میں خون چڑھانے میںکمی واقع ہوگئی، یہ بات نیشنل انسٹیٹیوٹ آف بلڈ ڈیزیزز کے سربراہ اور ماہر امراض خون ڈاکٹر طاہر شمسی اور تھیلیسمیا کے مرض پرکامیاب تحقیق کرنے والے ڈاکٹر ثاقب انصاری نے بتائی، ماہرین نے بتایا کہ پاکستان میں تھیلیسیما کے مریضوں میں ہیموگلوبن کی جین میں17مختلف اقسام کی خرابیاں تھیلیمیسا کے مرض کا باعث بنتی ہیں، ان میں سے5جنیاتی خرابیوں کی موجودگی میں مذکورہ دوا موثر ثابت ہوئی ہے۔

تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ مذکورہ دوا کے استعمال سے تھیلیسیمیا کے بچوں میں خون چڑھانے کی شرح میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے، پاکستان میں نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف بلڈ ڈیزیزز میں ھیلیسیمیاکے152بچوں میں سے41 فیصد بچوںکو خون چڑھانے سے نجات مل گئی جبکہ 39فیصد مریضوں میں انتقال خون کی ضرورت نصف رہ گئی جبکہ باقی 20فیصد مریضوں میں اس دواکی وجہ سے کوئی تبدیلی رونما نہ ہوسکی، ماہرین نے بتایا کہ یہ تحقیق امریکا سے شائع ہونے والے مؤقر طبی جریدے ''جنرل آف پیڈیا ٹرک ہیماٹالوجی آنکالوجی''میں نمایاں طور پر شایع ہوئی ہے۔

ان ماہرین نے اتوارکو پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس تحقیق کاآغاز اپریل2003 میں23 مریضوں میں اس دوا کے استعمال سے کیا، ڈاکٹر ثاقب حسین انصاری نے بتایا کہ انھوں نے اپنی پی ایچ ڈی کی تحقیق اسی دوا پر کی ہے جس پر جامعہ کراچی نے انھیں اسناد بھی دی، ان کا کہنا تھاکہ یہ دوا خون کی بیماری SICKLE CELL DISEASES میں امریکی ادارے فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن سے منظور شدہ ہے، ڈاکٹر ثاقب حسین انصاری نے بتایاکہ اس دوا کے استعمال کے بعد خون نہ چڑھانے کی وجہ سے کسی مریض کی تلی (spleen) یا جگر کے حجم میںاضافہ نہیں دیکھا گیا۔
Load Next Story