2ہفتے گزر گئے چوہدری اسلم کے قتل کی تحقیقات میں ٹھوس پیش رفت نہیں ہوسکی
ڈی این اے کی رپورٹ موصول ہونے کے بعد بھی کوئی کامیابی سامنے نہ آسکی
بم ڈسپوزل اسکواڈ اور پولیس کے درمیان دھماکا خیز مواد کی مقدار کے بارے میں تضاد برقرار، تحقیقات کرنے والے حکام معلومات کا بھی تبادلہ نہیں کررہے۔ فوٹو: فائل
ایس پی سی آئی ڈی چوہدری اسلم کے قتل کی تحقیقات میں 2 ہفتے بعد بھی کوئی ٹھوس پیش رفت نہیں ہوسکی ہے، ڈی این اے کی رپورٹ موصول ہونے کے بعد بھی کوئی کامیابی سامنے نہیں آسکی ، مبینہ خود کش حملہ آور کے بارے میں بھی پولیس مزید تفصیلات بتانے سے گریز کررہی ہے ۔
تفصیلات کے مطابق 9 جنوری کو لیاری ایکسپریس وے عیسیٰ نگری انٹرچینج پر دھماکے میں ایس پی سی آئی ڈی چوہدری اسلم اپنے 2ساتھیوں سمیت ہلاک ہوگئے تھے ، واقعے کے بعد پولیس حکام نے متضاد بیانات دیے ، پہلے کہا گیا کہ سوزوکی پک اپ کے ذریعے دھماکا کیا گیا جبکہ بعد میں اسے خود کش حملہ قرار دے دیا گیا ، جائے وقوع سے ملنے والے انسانی اعضا کا ڈی این اے ٹیسٹ کرایا گیا جس کے بعد خود کش حملہ آور کی شناخت نعیم اللہ صدیقی کے نام سے کی گئی جوکہ پیرآباد کا رہائشی بتایا گیا ، پولیس نے نعیم کے بھائی اور والد کو بھی حراست میں لیا لیکن 2 ہفتے بعد بھی ان سے تفتیش میں کوئی ٹھوس معلومات نہیں مل سکیں ، بعدازاں پولیس نے نعیم اللہ کے والد کے ڈی این اے ٹیسٹ کے لیے نمونے حاصل کیے اور ڈی این اے کی رپورٹ موصول ہونے کے بعد بھی کوئی ٹھوس پیش رفت نہیں ہوسکی ہے ، پولیس قتل کی تحقیقات کے سلسلے میں اب تک بند گلی میں کھڑی ہے۔
پولیس حکام اب تک اپنے ہی ایس پی کے قتل کے بارے میں کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے ہیں ، بم ڈسپوزل اسکواڈ اور پولیس کے درمیان دھماکا خیز مواد کی مقدار کے بارے میں بھی تضاد برقرار ہے، بم ڈسپوزل اسکواڈ کا کہنا ہے دھماکا خیز مواد کی مقدار محض 25 سے 30 کلو گرام ہے جبکہ پولیس حکام نے اسے 100 کلو سے 150 کلو تک بتایا تھا ، دھماکا خیز مواد کے بارے میں بھی کچھ بتانے سے گریز کیا جارہا ہے، تحقیقاتی حکام آپس میں ہی الجھے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے ایک دوسرے سے معلومات کا بھی تبادلہ نہیں کررہے اور ہر ٹیم اپنی کارکردگی کر بڑھا چڑھا کر پیش کرنے میں ہی مصروف عمل ہے ، اس سلسلے میں ایس ایس پی ایسٹ انویسٹی گیشن منیر شیخ سے ایکسپریس نے رابطہ کیا تو انھوں نے کہا کہ فی الحال چوہدری اسلم کے مقدمے کی تفتیش میں کوئی پیش رفت نہیں ہے ، پولیس تاحال نعیم اللہ کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنے کی کوشش کررہی ہے ۔
تفصیلات کے مطابق 9 جنوری کو لیاری ایکسپریس وے عیسیٰ نگری انٹرچینج پر دھماکے میں ایس پی سی آئی ڈی چوہدری اسلم اپنے 2ساتھیوں سمیت ہلاک ہوگئے تھے ، واقعے کے بعد پولیس حکام نے متضاد بیانات دیے ، پہلے کہا گیا کہ سوزوکی پک اپ کے ذریعے دھماکا کیا گیا جبکہ بعد میں اسے خود کش حملہ قرار دے دیا گیا ، جائے وقوع سے ملنے والے انسانی اعضا کا ڈی این اے ٹیسٹ کرایا گیا جس کے بعد خود کش حملہ آور کی شناخت نعیم اللہ صدیقی کے نام سے کی گئی جوکہ پیرآباد کا رہائشی بتایا گیا ، پولیس نے نعیم کے بھائی اور والد کو بھی حراست میں لیا لیکن 2 ہفتے بعد بھی ان سے تفتیش میں کوئی ٹھوس معلومات نہیں مل سکیں ، بعدازاں پولیس نے نعیم اللہ کے والد کے ڈی این اے ٹیسٹ کے لیے نمونے حاصل کیے اور ڈی این اے کی رپورٹ موصول ہونے کے بعد بھی کوئی ٹھوس پیش رفت نہیں ہوسکی ہے ، پولیس قتل کی تحقیقات کے سلسلے میں اب تک بند گلی میں کھڑی ہے۔
پولیس حکام اب تک اپنے ہی ایس پی کے قتل کے بارے میں کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے ہیں ، بم ڈسپوزل اسکواڈ اور پولیس کے درمیان دھماکا خیز مواد کی مقدار کے بارے میں بھی تضاد برقرار ہے، بم ڈسپوزل اسکواڈ کا کہنا ہے دھماکا خیز مواد کی مقدار محض 25 سے 30 کلو گرام ہے جبکہ پولیس حکام نے اسے 100 کلو سے 150 کلو تک بتایا تھا ، دھماکا خیز مواد کے بارے میں بھی کچھ بتانے سے گریز کیا جارہا ہے، تحقیقاتی حکام آپس میں ہی الجھے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے ایک دوسرے سے معلومات کا بھی تبادلہ نہیں کررہے اور ہر ٹیم اپنی کارکردگی کر بڑھا چڑھا کر پیش کرنے میں ہی مصروف عمل ہے ، اس سلسلے میں ایس ایس پی ایسٹ انویسٹی گیشن منیر شیخ سے ایکسپریس نے رابطہ کیا تو انھوں نے کہا کہ فی الحال چوہدری اسلم کے مقدمے کی تفتیش میں کوئی پیش رفت نہیں ہے ، پولیس تاحال نعیم اللہ کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنے کی کوشش کررہی ہے ۔