’’بگ تھری‘‘ کے سونامی سے آئی سی سی کو پریشانی

انتہائی متنازع ڈرافٹ کی منظوری کیلیے غیرمعمولی اکثریت درکارہوگی،نائب صدر

انتہائی متنازع ڈرافٹ کی منظوری کیلیے غیرمعمولی اکثریت درکارہوگی،نائب صدر۔ فوٹو: فائل

''بگ تھری'' کے سونامی سے آئی سی سی کی پریشانی بڑھنے لگی، البتہ کسی آفیشل نے کھل کر معاملے پر اظہار خیال نہیں کیا ہے۔

کونسل کے نائب صدر مصطفیٰ کمال نے ایک انٹرویو میں کہا کہ انتہائی متنازع ڈرافٹ کی منظوری کیلیے غیرمعمولی اکثریت درکار ہوگی، انھوں نے کہا کہ اس مرحلے پر دنیائے کرکٹ میں ایسی تبدیلیاں مناسب نہیں ہیں،9 جنوری کی جس میٹنگ میں یہ ڈرافٹ پیش کیا گیا مصطفیٰ کمال اس میں موجود نہ تھے، انھوں نے کہا کہ ایسی تبدیلیوں میں طویل عرصہ لگ جاتا ہے، میں نہیں سمجھتا کہ اتنے مختصر نوٹس پر ایسا ہوسکے گا،گذشتہ دہائی کے دوران مقبولیت، آمدنی اور انتظامی لحاظ سے کرکٹ نے بہت ترقی کی، اب کوئی بھی ایسا کام جس سے کھیل متاثر ہو نہیں کرنا چاہیے، بنگلہ دیشی بورڈ کے سابق سربراہ نے کہا کہ میں نے اس حوالے سے دنیائے کرکٹ کے مختلف بورڈز آفیشلز سے بات چیت کی وہ بھی حیران نظر آتے ہیں، کسی کو اس کا اندازہ نہیں ہے۔




کونسل کے چیف ایگزیکٹیو ڈیو رچرڈسن کا کہنا ہے کہ ابھی صرف تجاویز دی گئی ہیں،اس پر ہماری فنانس کمیٹی اور فل بورڈ ارکان میٹنگ میں غور کریں گے،اس موقع پر زیادہ تبصرہ قبل از وقت ہوگا، ہم ابھی تجاویز کا جائزہ اور مزید وضاحتیں طلب کر رہے ہیں، بورڈ میٹنگ میں ہی صورتحال واضح ہو گی۔ یاد رہے کہ بھارت اور آسٹریلیا ساتھ مل کر کونسل کی نئی ایگزیکٹیو کمیٹی کو چلانا چاہتے ہیں، ان کی خواہش ہے کہ فیوچر ٹور پروگرام سے آئی سی سی کا عمل دخل ختم کر کے باہمی رضامندی سے سیریز کھیلیں، بھارتی بورڈ کا دعویٰ ہے کہ 80 فیصد آمدنی اس کی وجہ سے ہوتی ہے لہذا21 فیصد حصہ تو ملنا چاہیے، اسی طرح انگلینڈ اور آسٹریلیا کا شیئر بھی زیادہ کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے، یہ تینوں بورڈز چاہتے ہیں کہ مجوزہ ٹیسٹ چیمپئن شپ ختم کر کے چیمپئنز ٹرافی کا دوبارہ انعقاد کیا جائے، ٹیسٹ کرکٹ کو زندہ رکھنے کیلیے نیا فنڈ قائم کرنے کی بھی تجویز تیار کی گئی ہے۔ یہ تجاویز منگل اور بدھ کو دبئی میں شیڈول ایگزیکٹیو بورڈ میٹنگ میں پیش کی جائینگی،منظوری کیلیے 7ٹیسٹ اقوام کے ووٹ ضروری ہیں۔
Load Next Story