اپنی حدود جاننے کیلیے بے تاب ہیں کرپشن چھوٹا ایشو نہیں جسے چھوڑ دیں سپریم کورٹ

آسٹریلیا نے اپنے قانون میں لکھ دیا تحقیقاتی ادارے تساہل سے کام لیں تو عدالت کو نوٹس لینے کا اختیار ہے، جسٹس جواد

قانون کے دائرے میں مسائل حل کرائیں عدالت کے لیے سب برابر ہیں، ججوں اور وکلا سمیت کوئی بھی اپنے لیے خصوصی مراعات کا مطالبہ نہیںکر سکتا، وکلا ہائوسنگ سوسائٹی کیس میں ریمارکس۔ فوٹو: فائل

سپریم کورٹ نے اوگرا عملدرآمدکیس میں اٹارنی جنرل اور پراسیکیوٹر جنرل نیب کو اپنی معروضات تحریری صورت میں جمع کرانے کی ہدایت کی ہے۔

عدالت نے آبزرویشن دی ہے اس بات کاتعین کرنا ضروری ہے کہ عدالت نیب کی تحقیقات میں مداخلت کر سکتی ہے یا نہیں، سپریم کورٹ کوئی بادشاہ نہیں جو چاہے کرے، وہ آئین کے مطابق ہی چلتی ہے۔آن لائن کے مطابق جسٹس جوادنے ریمارکس دیئے کہ کرپشن چھوٹا ایشو نہیں جس کو چھوڑ دیں، یہ بہت بڑا ایشو ہے جس میں اپنی حدود جاننے کیلیے بیتاب ہیں، بتایا جائے کہ اگر بدعنوانی روکنے والے ادارے سو جائیں توکیا عدالتیں بھی آنکھیں بندکرلیں؟ فاضل جج نے کہا 45دن کا ٹائم تھا 26مہینے گزرگئے، مہربان کہتے ہیں جلد بازی میں فیصلہ نہیںکرسکتے ۔جسٹس جواد نے کہا آسٹریلیا نے اپنے قانون میں لکھ دیا ہے تحقیقاتی ادارے تساہل سے کام لیں تو عدالت کو نوٹس لینے کا اختیار ہے۔ عدالت نے اسلام آباد کی احتساب عدالت میں دائر اوگراکرپشن کے دوریفرنسوںکی نقول بھی طلب کرلی ہیں۔فاضل بنچ نے کلرکہار میں 115 کنال اراضی کے معاملے پرحکومت پنجاب کی جانب سے زائد المیعاد درخواست خارج کردی اورلاء افسر مدثر خالد عباسی کی سرزنش کی۔




جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا حکومت کی ہر درخواست مقررہ مدت کے بعدکیوں دائرکی جارہی ہے؟ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو اس کا نوٹس لینا چاہیے، اگر حکومت اپنے مفادات کو تحفظ نہیں دے سکتی تو پھر عدالت ان کیلیے کیا کر سکتی ہے۔خصوصی خبر نگار کے مطابق اسلام آبادکے سیکٹر ایف14میںوکلاء کیلیے ہائوسنگ سوسائٹی سے متعلق مقدمہ میں فاضل بنچ کوبتایاگیاکہ سی ڈی اے قوانین زون ون میں پرائیویٹ ہائوسنگ سوسائٹی بنانے کی اجازت نہیں دیتے، حکومت نے اراضی دینے سے انکارکردیا ہے۔جسٹس جواد نے کہا عدالت کیلیے سب برابر ہیں، ججوں اور وکلاء سمیت کوئی بھی اپنے لیے خصوصی مراعات کا مطالبہ نہیںکر سکتا ، حکومت سمجھتی ہے کہ معاملہ قانون کے مطابق نہیں تو ٹھیک ہی کہا ہوگا،قوانین میں امتیازی برتائوکی اجازت نہیں ،اگر یہ درکھل گیا تو نہ جانے کون کون پلاٹ مانگنے آجائیگا ۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل شاہ خاور نے بتایا کہ زون ون میں ہائوسنگ سکیم کی سمری وزیر اعظم نے مستردکر دی ہے لیکن وکلاء کو زون ٹو ،فور یا فائیو میں اراضی دی جاسکتی ہے۔سپریم کورٹ بارکے سابق سیکرٹری نے مشاورت کیلیے مہلت طلب کی جس پرسماعت دوہفتے کیلیے ملتوی کردی گئی ۔آن لائن کے مطابق جسٹس جواد نے کہا میری رائے میں ججز اور وکلاء کو اپنی ذات بارے خصوصی مراعات کیلیے قانون میں ترمیم کی کوشش نہیں کرنی چاہئے کیونکہ اس سے ایک درکھلا تو نجانے اورکتنے در کھل جائیںگے ،ہر چیز قانون کے مطابق ہونی چاہئے وکلاء اور ججزکو بھی قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنے مسائل حل کرانے چاہئیں۔
Load Next Story