کاٹھور موڑ لنک کے قریب سے ملنے والی3لاشوں کی شناخت ہو گئی
18 سالہ عبدالرزاق،28 سالہ احسان اﷲ اور24 سالہ عنایت اﷲ کی لاشیں ان کے ورثا نے شناخت کیں، ایک لاش کی شناخت نہیں ہوسکی
رزاق اور عنایت اللہ3ماہ سے لا پتہ تھے،گمشدگی کے حوالے سے شہر کے کئی تھانوں میں درخواستیں بھی جمع کرائیں، ورثا کی گفتگو فوٹو: فائل
بدھ کو میمن گوٹھ تھانے کی حدود سپر ہائی وے کاٹھور موڑ لنک کے قریب سے ملنے والی4 افراد کی لاشوں میں سے3 لاشوں کی شناخت 18سالہ عبدالرزاق ولد عبدالقیوم رحمانی،28 سالہ احسان اﷲ ولد غلام یوسف اور24 سالہ عنایت اﷲ ولد محمد ابراہیم کے ناموں سے مقتولین کے اہلخانہ نے ایدھی سرد خانے جا کرکر لی۔
مقتولین مسلم آباد ، نیو مظفر آباد کالونی اور شیر پائوکالونی کے رہائشی تھے، مقتول عبدالرزاق کے چچا نے بتایا کہ عبدالرزاق گزشتہ 3 ماہ سے لاپتہ تھا اور مقتول کی گمشدگی کے حوالے سے انھوں نے27 اکتوبر 2013 کو قائد آباد تھانے میں رپورٹ درج کرائی تھی تاہم پولیس کی جانب سے کوئی مثبت کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی ،انھوں نے بتایا مقتول ان کے ہمراہ کباڑ کا کاروبار کرتا تھا، مقتول احسان اﷲ کے بھائی یوسف کا کہنا ہے کہ احسان اﷲ بھی گزشتہ 3 ماہ سے غائب تھا اور اس دوران انھوں نے پولیس اور رینجرز کے اعلیٰ حکام سمیت 12 اعلیٰ شخصیات کے دفاتر میں ٹی سی ایس کے ذریعے درخواستیں ارسال کی تھیں۔
تاہم کوئی شنوائی نہیں ہوئی، مقتول شبیر ٹائلز میں ملازمت کرتا تھا جبکہ بھائی کی ہلاکت کی اطلاع انھیں اخبارات میں شائع ہونے والی تصاویر سے ہوئی، شناخت ہونے والے تیسرے مقتول عنایت اﷲ کے بھائی نے بتایا کہ ان کا بھائی بھی3ماہ سے لاپتہ تھا اور انھوں نے اسے ہر جگہ تلاش کیا تاہم اس کا کوئی سراغ نہیں ملا، انھوں نے بتایا کہ بھائی کی گمشدگی کے حوالے سے شہر کے کئی تھانوں میں درخواستیں بھی جمع کرائی لیکن حسب روایت پولیس کی جانب سے کوئی جواب نہیں آیا انھوں نے بتایا کہ مقتول موبائل فون سرکٹ کی خرید و فروخت کا کاروبار کرتا تھا جبکہ وہ7 بہن بھائیوں میں تیسرے نمبر پر تھا،انھوں نے بتایا کہ مقتول کو بعد نماز جنازہ شیر پائو قبرستان میں سپرد خاک کردیاگیا، میمن گوٹھ پولیس کا کہنا ہے کہ قتل کیے جانے والے4 افراد میں سے3 افراد کی شناخت کر لی گئی جبکہ چوتھے شخص کی شناخت تاحال ممکن نہیں ہو سکی ہے اور اس کی شناخت کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔
مقتولین مسلم آباد ، نیو مظفر آباد کالونی اور شیر پائوکالونی کے رہائشی تھے، مقتول عبدالرزاق کے چچا نے بتایا کہ عبدالرزاق گزشتہ 3 ماہ سے لاپتہ تھا اور مقتول کی گمشدگی کے حوالے سے انھوں نے27 اکتوبر 2013 کو قائد آباد تھانے میں رپورٹ درج کرائی تھی تاہم پولیس کی جانب سے کوئی مثبت کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی ،انھوں نے بتایا مقتول ان کے ہمراہ کباڑ کا کاروبار کرتا تھا، مقتول احسان اﷲ کے بھائی یوسف کا کہنا ہے کہ احسان اﷲ بھی گزشتہ 3 ماہ سے غائب تھا اور اس دوران انھوں نے پولیس اور رینجرز کے اعلیٰ حکام سمیت 12 اعلیٰ شخصیات کے دفاتر میں ٹی سی ایس کے ذریعے درخواستیں ارسال کی تھیں۔
تاہم کوئی شنوائی نہیں ہوئی، مقتول شبیر ٹائلز میں ملازمت کرتا تھا جبکہ بھائی کی ہلاکت کی اطلاع انھیں اخبارات میں شائع ہونے والی تصاویر سے ہوئی، شناخت ہونے والے تیسرے مقتول عنایت اﷲ کے بھائی نے بتایا کہ ان کا بھائی بھی3ماہ سے لاپتہ تھا اور انھوں نے اسے ہر جگہ تلاش کیا تاہم اس کا کوئی سراغ نہیں ملا، انھوں نے بتایا کہ بھائی کی گمشدگی کے حوالے سے شہر کے کئی تھانوں میں درخواستیں بھی جمع کرائی لیکن حسب روایت پولیس کی جانب سے کوئی جواب نہیں آیا انھوں نے بتایا کہ مقتول موبائل فون سرکٹ کی خرید و فروخت کا کاروبار کرتا تھا جبکہ وہ7 بہن بھائیوں میں تیسرے نمبر پر تھا،انھوں نے بتایا کہ مقتول کو بعد نماز جنازہ شیر پائو قبرستان میں سپرد خاک کردیاگیا، میمن گوٹھ پولیس کا کہنا ہے کہ قتل کیے جانے والے4 افراد میں سے3 افراد کی شناخت کر لی گئی جبکہ چوتھے شخص کی شناخت تاحال ممکن نہیں ہو سکی ہے اور اس کی شناخت کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔