افغان باشندوں سے پاکستانی شناختی کارڈز برآمدگی کی خبریں بے بنیاد نکلیں

افغان کمانڈر کا پاکستانی شناختی کارڈ  2002  میں پرانے نظام کے تحت بنوایا گیا تھا،نادرا 

افغان کمانڈر کا پاکستانی شناختی کارڈ  2002  میں پرانے نظام کے تحت بنوایا گیا تھا،نادرا  فوٹو : فائل

سوشل میڈیا پر افغان باشندوں سے پاکستانی شناختی کارڈ برآمد ہونے کی خبریں بے بنیاد نکلیں۔

ترجمان نادرا کے مطابق درحقیقت یہ کارڈ دیگر برآمدشدہ دستاویزات سمیت لنڈی کوتل کے پولیس اسٹیشن میں موجود ہیں جہاں کے کانسٹیبل (محرر) ایاز خان نے متعلقہ افراد کی شناخت کے لیے ان دستاویزات کی تصاویر اپنے فیس بک پر اپ لوڈ کی تھیں جو اس وقت بھی پولیس اسٹیشن لنڈی کوتل کے ریکارڈ کا حصہ ہے۔

میڈیا میں افغان طالبان کی جانب سے اسپین بولدک ، قندھار میں ان کارڈ کی برامدگی ظاہر کی گئی جو سراسر جھوٹ پر مبنی ہے،2007 سے پہلے شناختی کارڈ کاغذی کارروائی پر مبنی روایتی نظام کے تحت بنائے جاتے تھے، پرانے نظام کے تحت بعض غیر ملکی افراد، دھوکہ دہی اور جعلی کاغذات کی بنیاد پر شناختی کارڈ حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے، 2007 کے بعد نادرا میں ڈیجیٹل بایومیٹرک نظام متعارف کیا گیا اور نئے شناختی کارڈ اسی نظام کے تحت جاری کرنے کا سلسلہ شروع ہو گیا۔


کاغذی کارروائی کی بنیاد پر بنوائے گئے جعلی کارڈز کی تنسیخ پر جب متعلقہ افراد نے نادرا سے رجوع کیا تو یہ کارڈ منسوخ کر دیے گئے اور ڈیٹابیس کو تمام غلطیوں سے پاک کر دیا گیا۔

سوشل میڈیا پر افغان کمانڈر کے پاکستانی شناختی کارڈ کی جو تصویریں گردش کر رہی ہیں وہ دراصل 2002 میں روایتی نظام کے تحت بنوایا گیا جسے 2007میں متعارف کرائے گئے ڈیجیٹل بایومیٹرک نظام کے تحت 2008 میں غیر فعال کر دیا گیا۔

ترجمان کے مطابق عوام الناس سے التماس ہے کہ ایسی افوہوں کو بنا تصدیق نہ پھیلائیں جس سے قومی ادراے کی ساکھ کو ملکی اور بین الاقوامی سطح پر نقصان پہنچے۔
Load Next Story