کینیڈا کے اولڈ ہوم میں خوفناک آتشزدگی 30 افراد ہلاک
آگ آدھی رات کو لگی جس سے بڑے پیمانے پر جانی نقصان ہوا، اولڈ ہوم میں تقریباً 50 سے 60 افراد رہائش پذیر تھے، انتظامیہ
ریٹائرمنٹ ہوم میں آگ آدھی رات کو لگی جس سے بڑے پیمانے پر جانی نقصان ہوا، اولڈ ہوم میں تقریباً 50 سے 60 افراد رہائش پذیر تھے، انتظامیہ. فوٹو اے پی
KARACHI:
کینیڈا کے صوبے کوبیک میں ایک اولڈ ہوم میں خوفناک آتشزدگی کے نتیجے میں کم ازکم 30 معمر افراد ہلاک ہوگئے۔
حکام کے مطابق ریٹائرمنٹ ہوم میں آگ آدھی رات کو لگی جسکی وجہ سے بڑے پیمانے پر جانی نقصان ہوا۔ آگ نے دیکھتے ہی دیکھتے عمارت کے بڑے حصے کواپنی لپیٹ میں لے لیا۔ عالمی میڈیا کی رپورٹوں کے مطابق جب تک امدادی کارکن اور فائر بریگیڈ کا عملہ موقع پر پہنچتا، اس وقت تک بہت دیر ہوچکی تھی۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اولڈ ہوم میں تقریباً 50 سے 60 افراد رہائش پذیر تھے، امدادی کارکنوں نے چند لاشیں تو نکال لی ہیں تاہم جلے ہوئی ملبے اور خاکستر چیزوں میں سے باقی افراد کی لاشوں کو نکالنا بڑا مرحلہ ہے۔
قریبی علاقے میں رہنے والوں کا کہنا ہے کہ آگ لگنے کے بعد عمارت سے چیخوں کی آوازیں آتی رہیں، لوگ مدد کیلیے پکارتے رہے لیکن ہم کچھ نہیں کرسکتے تھے کیونکہ آگ بہت زیادہ تھی، پوری بلڈنگ شعلوں کی لپیٹ میں تھی۔ تیز ہوا بھی آگ کے فوری طور بھڑکنے کی وجہ بنی۔ بیشتر ہلاکتیں دم گھٹنے سے بھی ہوئیں جبکہ متعدد افراد آگ کی نذر ہوگئے۔ یہ اولڈ ہوم آئیزل ورٹ L'Isle-Verte نامی قصبے میں پیش آیا۔ بتایا جاتا ہے کہ مرنے والوں میں وہ لوگ شامل ہیں جنھیں سوفیصد دیکھ بھال کی ضرورت ہوتی ہے، اکثر لوگ وہیل چیئر اور واکرز استعمال کرتے تھے اور خود آسانی سے چل پھر کر کام کرنے کے قابل نہیں تھے۔ امدادی کارروائیوں کے دوران 2 فائر فائٹر بھی زخمی ہوئے۔
کینیڈا کے صوبے کوبیک میں ایک اولڈ ہوم میں خوفناک آتشزدگی کے نتیجے میں کم ازکم 30 معمر افراد ہلاک ہوگئے۔
حکام کے مطابق ریٹائرمنٹ ہوم میں آگ آدھی رات کو لگی جسکی وجہ سے بڑے پیمانے پر جانی نقصان ہوا۔ آگ نے دیکھتے ہی دیکھتے عمارت کے بڑے حصے کواپنی لپیٹ میں لے لیا۔ عالمی میڈیا کی رپورٹوں کے مطابق جب تک امدادی کارکن اور فائر بریگیڈ کا عملہ موقع پر پہنچتا، اس وقت تک بہت دیر ہوچکی تھی۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اولڈ ہوم میں تقریباً 50 سے 60 افراد رہائش پذیر تھے، امدادی کارکنوں نے چند لاشیں تو نکال لی ہیں تاہم جلے ہوئی ملبے اور خاکستر چیزوں میں سے باقی افراد کی لاشوں کو نکالنا بڑا مرحلہ ہے۔
قریبی علاقے میں رہنے والوں کا کہنا ہے کہ آگ لگنے کے بعد عمارت سے چیخوں کی آوازیں آتی رہیں، لوگ مدد کیلیے پکارتے رہے لیکن ہم کچھ نہیں کرسکتے تھے کیونکہ آگ بہت زیادہ تھی، پوری بلڈنگ شعلوں کی لپیٹ میں تھی۔ تیز ہوا بھی آگ کے فوری طور بھڑکنے کی وجہ بنی۔ بیشتر ہلاکتیں دم گھٹنے سے بھی ہوئیں جبکہ متعدد افراد آگ کی نذر ہوگئے۔ یہ اولڈ ہوم آئیزل ورٹ L'Isle-Verte نامی قصبے میں پیش آیا۔ بتایا جاتا ہے کہ مرنے والوں میں وہ لوگ شامل ہیں جنھیں سوفیصد دیکھ بھال کی ضرورت ہوتی ہے، اکثر لوگ وہیل چیئر اور واکرز استعمال کرتے تھے اور خود آسانی سے چل پھر کر کام کرنے کے قابل نہیں تھے۔ امدادی کارروائیوں کے دوران 2 فائر فائٹر بھی زخمی ہوئے۔