تیونس میں نیا دستور منظور پہلی مرتبہ جمہوری عمل کی راہ ہموار
سابق آمر کی حکومت کے خاتمہ کے 3 سال بعد اسمبلی نے شق وار بحث کے بعد منظوری دی
سابق آمر کی حکومت کے خاتمہ کے 3 سال بعد اسمبلی نے شق وار بحث کے بعد منظوری دی. فوٹو اے ایف پی
RAWALPINDI:
تیونس کی قومی اسمبلی نے نئے دستور کی تمام شقوں پر بحث کے بعد نئے دستور کی منظوری دیدی۔
قومی اسمبلی کے منتخب ارکان نے نئے دستور کی منظوری سابق آمر زین العابدین بن علی کی حکومت کے خاتمے کے 3سال بعد دی ہے تاکہ ملک کو ٹھیک جمہوری سمت دی جا سکے۔ نئے دستور کی شق وار بحث کے بعد دی گئی منظوری کے بعد حتمی منظوری کے لیے اب پورے آئین کو اسمبلی میں پیش کیا جائے گا جس کے بعد نیا آئین باضابطہ طور پر ملک میں نافذ کیے جانے کی راہ ہموار ہو جائے گی۔
آئین کی حتمی منظوری کے بعد تیونس کو یہ اعزاز حاصل ہوگا کہ2011 ء کی عرب بہار کے نتیجے میں مصر کے بعد پہلا ملک ہو گا جس کی منتخب قیادت اتفاق رائے سے آئین کی تیاری میں کامیاب رہی۔ تیونس کی قومی اسمبلی میں آئین کی شق وار منظوری کے بعد قومی ترانہ پڑھ کر ملکی سلامتی، استحکام اور عوام کی خوشحالی و ترقی کے لیے دعا کی گئی۔ اسمبلی کے اسپیکر مصطفی بن جعفر نے اس لمحے کو تریخی قرار دیا کہ عوامی نمائندوں نے عوامی امنگوں کے مطابق ملک کو آئینی حکمرانی کی راہ پر ڈال دیا۔
تیونس کی قومی اسمبلی نے نئے دستور کی تمام شقوں پر بحث کے بعد نئے دستور کی منظوری دیدی۔
قومی اسمبلی کے منتخب ارکان نے نئے دستور کی منظوری سابق آمر زین العابدین بن علی کی حکومت کے خاتمے کے 3سال بعد دی ہے تاکہ ملک کو ٹھیک جمہوری سمت دی جا سکے۔ نئے دستور کی شق وار بحث کے بعد دی گئی منظوری کے بعد حتمی منظوری کے لیے اب پورے آئین کو اسمبلی میں پیش کیا جائے گا جس کے بعد نیا آئین باضابطہ طور پر ملک میں نافذ کیے جانے کی راہ ہموار ہو جائے گی۔
آئین کی حتمی منظوری کے بعد تیونس کو یہ اعزاز حاصل ہوگا کہ2011 ء کی عرب بہار کے نتیجے میں مصر کے بعد پہلا ملک ہو گا جس کی منتخب قیادت اتفاق رائے سے آئین کی تیاری میں کامیاب رہی۔ تیونس کی قومی اسمبلی میں آئین کی شق وار منظوری کے بعد قومی ترانہ پڑھ کر ملکی سلامتی، استحکام اور عوام کی خوشحالی و ترقی کے لیے دعا کی گئی۔ اسمبلی کے اسپیکر مصطفی بن جعفر نے اس لمحے کو تریخی قرار دیا کہ عوامی نمائندوں نے عوامی امنگوں کے مطابق ملک کو آئینی حکمرانی کی راہ پر ڈال دیا۔