من پسند بھرتیوں سے ادارے کمزور ہوئے بڑے افسر بوجھ ہیں سینیٹ کمیٹی

وزارت پٹرولیم سابق ایم ڈی پی ایس او 2008 میں پی ایس او میں بھرتیوں کے بارے میں تفصیلات فراہم نہ کرسکی

وزارت پٹرولیم سابق ایم ڈی پی ایس او 2008 میں پی ایس او میں بھرتیوں کے بارے میں تفصیلات فراہم نہ کرسکی. فوٹو: فائل

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی قواعدواستحقاق نے سابق وزیرپٹرولیم وقدرتی وسائل، پاکستان اسٹیٹ آئل کے سابق ایم ڈی اورپی ایس اوبورڈ کے خلاف عدالتی کارروائی کے لیے قانونی ماہرین سے مشاورت کی تفصیلی رپورٹ آئندہ اجلاس میںطلب کرلی۔

اجلاس چیئرمین کرنل ریٹائرڈ طاہرحسین مشہدی کی زیر صدارت ہوا۔ وزارت پٹرولیم کی طرف سے سابق ایم ڈی پی ایس اوکی تعلیم، شہریت، تنخواہ مع الائونسزاور 2008میں پی ایس اومیں مستقل اورڈیلی ویجزپر بھرتی اور تھرڈپارٹی بنیادپر بھرتیوںکے بارے میںتفصیلات فراہم نہ کی جاسکیں۔ چیئرمین کمیٹی نے کہاکہ اداروںمیں من پسندافراد کی بھرتیوں، اعلیٰ عہدوںپر تعیناتیوںکی وجہ سے ادارے کمزورہوئے۔ بھاری معاوضے پرتعینات افسران ملکی خزانے پربوجھ ہیں۔ پارلیمانی کمیٹیوںکے احترام اوروقار کو ملحوظ خاطررکھا جاناچاہیے۔ سابق ایم ڈی کی مستقل تعیناتی کاحکم نامہ اب تک شعبہ آڈٹ کوفراہم نہیںکیا گیا۔ لہٰذایہ تعیناتی شکوک وشبہات کوجنم دیتی ہے۔




زاہدخان کاکہنا تھاکہ پی ایس اوکے سابق ایم ڈی اورترقی حاصل کرنے والے افسران کامعاملہ 2بارکمیٹی میں آچکا لیکن تفصیلات سے آگاہی میںکوتاہی برتی گئی۔ تمام محکموںمیں بلاتفریق کالی بھیڑوںکا احتساب کیاجائے۔ وفاقی وزیر پٹرولیم شاہدخاقان عباسی نے کہاکہ حکومت نے اعلیٰ تعیناتی کمیشن قائم کردیا۔ اداروںمیں اعلیٰ عہدوںکی تعیناتیاں میرٹ پرکی جائینگی۔ سیکریٹری پٹرولیم عابد سعید نے بتایاکہ پی ایس اومیں باقاعدہ اشتہارات کے ذریعے ایم ڈی کی شفاف اندازمیں میرٹ پربھرتی کی جائیگی۔
Load Next Story