ایکسپریس کے کارکنوں کی ہلاکت پولیس تفتیش تیز کرے سندھ ہائیکورٹ کی ہدایت
واقعے سے متعلق کسی بھی پیشرفت سے عدالت کومسلسل آگاہ رکھاجائے،چیف جسٹس مقبول باقر
واقعے سے متعلق کسی بھی پیشرفت سے عدالت کومسلسل آگاہ رکھاجائے،چیف جسٹس مقبول باقر. فوٹو: فائل
چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ جسٹس مقبول باقرنے ایکسپریس نیوزکے 3 کارکنوں کی ہلاکت کے بارے میںپولیس کوتفتیش میں تیزی پیدا کرنے کی ہدایت کی ہے اورحکم دیاہے کہ اس واقعے کے متعلق کسی بھی پیشرفت سے عدالت کومسلسل آگاہ رکھا جائے۔
فاضل چیف جسٹس نے یہ ہدایات پولیس کی جانب سے 17جنوری کوسیکنڈری بورڈ آفس کے قریب ایکسپریس نیوزکی ڈی ایس این جی پرحملے کے نتیجے میں 3کارکنوں گارڈاشرف آرائیں، ٹیکنیشن وقاص عزیزاور ڈرائیورخالد خان کی ہلاکت کے مقدمے سے متعلق پیش کردہ رپورٹ کے جائزے کے بعدجاری کیں۔ کراچی بدامنی کیس کے بعدقانون نافذکرنے والے ادارے شہرمیں امن وامان سے متعلق سندھ ہائیکورٹ میںرپورٹ پیش کرتے رہتے ہیں۔ پولیس رپورٹ کے مطابق ایڈیشنل آئی جی کراچی نے اس مقدمے کی تفتیش کے لیے ڈی آئی جی سی آئی اے کی سربراہی میںکمیٹی تشکیل دے دی ہے ۔
جوضروری کارروائی کررہی ہے تاکہ ملزمان کوانصاف کے کٹہرے میںلایا جاسکے۔ تفتیش کسی نتیجے پرپہنچ جانے کی صورت میںفاضل چیف جسٹس کوارسال کردی جائے گی۔ رپورٹ میں 17جنوری کوہونے والے وقوعے کی تفصیلات، ایف آئی آرکے اندراج، جائے وقوعہ سے حاصل کی گئی شہادتوںاور انھیںفارنسک تجزیے کے لیے بھیجنے کے متعلق تفصیلات فراہم کی گئی ہیںاورملزمان کی گرفتاری کے لیے ہرممکن کوشش کرنے کاعزم ظاہرکیا گیاہے۔
فاضل چیف جسٹس نے یہ ہدایات پولیس کی جانب سے 17جنوری کوسیکنڈری بورڈ آفس کے قریب ایکسپریس نیوزکی ڈی ایس این جی پرحملے کے نتیجے میں 3کارکنوں گارڈاشرف آرائیں، ٹیکنیشن وقاص عزیزاور ڈرائیورخالد خان کی ہلاکت کے مقدمے سے متعلق پیش کردہ رپورٹ کے جائزے کے بعدجاری کیں۔ کراچی بدامنی کیس کے بعدقانون نافذکرنے والے ادارے شہرمیں امن وامان سے متعلق سندھ ہائیکورٹ میںرپورٹ پیش کرتے رہتے ہیں۔ پولیس رپورٹ کے مطابق ایڈیشنل آئی جی کراچی نے اس مقدمے کی تفتیش کے لیے ڈی آئی جی سی آئی اے کی سربراہی میںکمیٹی تشکیل دے دی ہے ۔
جوضروری کارروائی کررہی ہے تاکہ ملزمان کوانصاف کے کٹہرے میںلایا جاسکے۔ تفتیش کسی نتیجے پرپہنچ جانے کی صورت میںفاضل چیف جسٹس کوارسال کردی جائے گی۔ رپورٹ میں 17جنوری کوہونے والے وقوعے کی تفصیلات، ایف آئی آرکے اندراج، جائے وقوعہ سے حاصل کی گئی شہادتوںاور انھیںفارنسک تجزیے کے لیے بھیجنے کے متعلق تفصیلات فراہم کی گئی ہیںاورملزمان کی گرفتاری کے لیے ہرممکن کوشش کرنے کاعزم ظاہرکیا گیاہے۔