نئے قانون سے پورا ملک گوانتا نا موبے بن جائیگا عاصمہ جہانگیر
دنیاکا کوئی قانون کسی شخص پر 90دن تشددکی اجازت نہیں دیتا۔ عاصمہ جہانگیر
دنیاکا کوئی قانون کسی شخص پر 90دن تشددکی اجازت نہیں دیتا۔ عاصمہ جہانگیر. فوٹو: فائل
انسانی حقوق کی سرگرم کارکن عاصمہ جہانگیر نے تحفظ پاکستان ترمیمی آرڈیننس کے اجراپر شدیدتحفظات کااظہار کرتے ہوئے کہاہے کہ دہشت گردی سے نمٹنے کے نام پرملک کوسیکیورٹی اسٹیٹ بنانے کی اجازت نہیں دیں گے۔
گزشتہ روزسپریم کورٹ بلڈنگ میںپریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انھوںنے کہاکہ مذکورہ قانون شہریوں کے تحفظ کے لیے نہیں بنایا گیابلکہ سیکیورٹی اداروںکی لاقانونیت کوقبول کرنے کے لیے بناہے۔ اگرایک منتخب حکومت اس طرح کی قانون سازی کرے گی توآئندہ کسی ڈکٹیٹرکو قانون سازی کی ضرورت ہی نہیں رہے گی۔ انھوں نے کہا کہ مہذب معاشروں میں فوج کے سیف ہاوسزکو قانونی بناناممکن نہیں۔ امریکانے اعلان جنگ کرکے غیرملکیوں کوگوانتانامو بے میں رکھا، کسی امریکی کو وہاں نہیں رکھا۔ ہم ملک کے قریے قریے میںگوانتاناموبے نہیں بننے دیںگے۔ عاصمہ جہانگیرنے کہاکہ سیکیورٹی اداروں کو یہ حق دیناکہ وہ بغیر وارنٹ کے کسی کوگرفتار کریں، گھرکی تلاشی لیں۔
جو چاہے لے جائیں اور جائیدادپر قبضہ کریں اور پھرملزم خودثابت کرے کہ وہ بے گناہ ہے بذات خود دہشت گردی ہے۔ انھوںن ے کہاکہ کسی کوغیر ملکی قراردینے سے اس کے انسانی حقوق ختم نہیں ہوتے۔ مذکورہ قانون آئین کے آرٹیکل9 اور10 سے متصادم ہے۔ ان کہناتھا کہ حکومت کے قانون سازی کے حق سے انکارنہیں لیکن قانون وہ ہوناچاہیے جس سے شہریوں کو تحفظ ملے۔ دنیاکا کوئی قانون کسی شخص پر 90دن تشددکی اجازت نہیں دیتا۔ انھوں نے کہاکہ اس قانو ن سے یہ پیغام دیاگیا ہے کہ سیکیورٹی ادارے جوچاہے کرنے کے مجازہیں۔ عاصمہ جہا نگیرنے پروٹیکشن آف پاکستان ترمیمی آرڈیننس فوری طورپر پارلیمنٹ میںپیش کرنے اوراس پر سیرحاصل بحث کرنے کامطالبہ کیا۔
گزشتہ روزسپریم کورٹ بلڈنگ میںپریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انھوںنے کہاکہ مذکورہ قانون شہریوں کے تحفظ کے لیے نہیں بنایا گیابلکہ سیکیورٹی اداروںکی لاقانونیت کوقبول کرنے کے لیے بناہے۔ اگرایک منتخب حکومت اس طرح کی قانون سازی کرے گی توآئندہ کسی ڈکٹیٹرکو قانون سازی کی ضرورت ہی نہیں رہے گی۔ انھوں نے کہا کہ مہذب معاشروں میں فوج کے سیف ہاوسزکو قانونی بناناممکن نہیں۔ امریکانے اعلان جنگ کرکے غیرملکیوں کوگوانتانامو بے میں رکھا، کسی امریکی کو وہاں نہیں رکھا۔ ہم ملک کے قریے قریے میںگوانتاناموبے نہیں بننے دیںگے۔ عاصمہ جہانگیرنے کہاکہ سیکیورٹی اداروں کو یہ حق دیناکہ وہ بغیر وارنٹ کے کسی کوگرفتار کریں، گھرکی تلاشی لیں۔
جو چاہے لے جائیں اور جائیدادپر قبضہ کریں اور پھرملزم خودثابت کرے کہ وہ بے گناہ ہے بذات خود دہشت گردی ہے۔ انھوںن ے کہاکہ کسی کوغیر ملکی قراردینے سے اس کے انسانی حقوق ختم نہیں ہوتے۔ مذکورہ قانون آئین کے آرٹیکل9 اور10 سے متصادم ہے۔ ان کہناتھا کہ حکومت کے قانون سازی کے حق سے انکارنہیں لیکن قانون وہ ہوناچاہیے جس سے شہریوں کو تحفظ ملے۔ دنیاکا کوئی قانون کسی شخص پر 90دن تشددکی اجازت نہیں دیتا۔ انھوں نے کہاکہ اس قانو ن سے یہ پیغام دیاگیا ہے کہ سیکیورٹی ادارے جوچاہے کرنے کے مجازہیں۔ عاصمہ جہا نگیرنے پروٹیکشن آف پاکستان ترمیمی آرڈیننس فوری طورپر پارلیمنٹ میںپیش کرنے اوراس پر سیرحاصل بحث کرنے کامطالبہ کیا۔