پاک سعودی تعلقات کی نئی راہیں
حکومت پاکستان نے سعودی عرب کے ساتھ بہتر تعلقات قائم رکھنے کے لیے بہت کام کیا ہے۔
پاکستان اور سعودی عرب کے تاریخی اور دیرینہ تعلقات نئے دور میں داخل ہو رہے ہیں۔ فوٹو: سوشل میڈیا
یہ امر انتہائی خوش آیند ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب نے اقتصادی ، سرمایہ کاری اور ثفاقت وسفارت کاری سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے پراتفاق کیا ہے۔
پاکستان نے سعودی عرب پر زور دیا کہ وہ کورونا سفری پابندیوں پر نرمی کرے تاکہ چار لاکھ پاکستانی ورکرز سعودی عرب میں جاکر اپنی ملازمتوں پر بحال ہوسکیں۔ پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے سعودی عرب کے وزیرخارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان السعود نے صدر عارف علوی ، وزیراعظم عمران خان اور وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی سے ملاقات کی ہے۔
باہمی رابطوں کے فروغ کے لیے سعودی،پاکستان اعلیٰ مشاورتی کونسل کا قیام اور پاکستانی اور سعودی وزارت خارجہ میں ایک فوکل پرسن کے تقرر کا فیصلہ مستحسن ہے۔ بلاشبہ پاکستان اور سعودی عرب کے تاریخی اور دیرینہ تعلقات نئے دور میں داخل ہو رہے ہیں۔ اب یہ برادرانہ تعلقات تجارتی تعلقات میں تبدیل ہو رہے ہیں، سعودی عرب پاکستان میں بڑی سرمایہ کاری کرنے جا رہا ہے جب کہ کورونا وباکے حالات ٹھیک ہونے کے بعد پاکستانیوں کے لیے سعودی عرب میں بڑی تعداد میں ملازمتوں کے مواقع بھی میسر آئیں گے۔ ان حا لات کے تناظر میں سعودی وزیر خارجہ کا دورہ نہایت اہمیت کا حامل ہے۔
اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ سعودی وزیر خارجہ کے اس دورے سے اعلیٰ سطح کے تبادلے اور مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مزید فروغ ملے گا۔ خطے کی صورتحال، افغانستان کے معاملات، ایران کے ساتھ تعلقات سمیت اہم امور پر مشترکہ لائحہ عمل سامنے آیا ہے۔ حکومت پاکستان نے سعودی عرب کے ساتھ بہتر تعلقات قائم رکھنے کے لیے بہت کام کیا ہے اور ان تعلقات کو خراب کرنے کے لیے ہونے والی تمام سازشوں کے ناکام بنایا ہے۔یہ تاریخی سچائی ہے کہ سعودی عرب ہمیشہ سے ہی پاکستان کی ترقی اور استحکام کا خواہاں رہا ہے۔
پاکستان کی معاشی ترقی کے حوالے سے سعودی عرب کی جانب سے مختلف اوقات میں 20 ترقیاتی قرضے بھی جاری کیے گئے جن کے تحت مختلف شعبوں میں 17ترقیاتی منصوبوں پر کام کیا گیا۔دونوں برادار ممالک کے مابین تعلقات کو مزید مستحکم کرنے اور انھیں بلندی کی انتہا تک پہنچانے کے لیے سال 2019 میں ولی عہد مملکت، نائب وزیر اعظم اور وزیر دفاع شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود نے پاکستان کا سرکاری دورہ کیا تھا، ان کے ہمراہ اعلیٰ سطح وزرا اور تجارتی وفد بھی شامل تھا۔اس دورے کے مثبت اثرات اب ظاہرہونا یقینا شروع ہوگئے ہیں۔
سعودی عرب میں کام کرنے والے پاکستانی وہاں کی معیشت میں اہم ترین کردار ادا کررہے ہیں۔پاکستانی عوام کے دلوں میں بھی سعودی مملکت کا ایک خاص مقام ومرتبہ ہے۔ دونوں ممالک سیاسی اور عوامی سطح پراسلام کی ڈور سے بندھے ہوئے ہیں۔ اسلام کی مشترکہ بنیاد نے دونوں ممالک کے مابین مثالی تعلقات کو مستحکم کیا ہے۔قیام پاکستان سے لے کرآج تک سعودی عرب ہمیشہ اور ہر موقعے پر پاکستان کے ساتھ رہا۔ ارض حرمین شریفین ہونے کی حیثیت سے بھی مملکت کا تقدس ہر سطح پر نمایاں ہے۔مشترکہ حکمت عملی کے تحت سیاسی، عسکری، معاشرتی اور معاشی میدانوں میں باہمی تعاون جاری رہا جس سے دنوں ممالک کے تعلقات میں ہرگزرتے دن کے ساتھ اضافہ ہوا ہے۔
وزیراعظم عمران خان سے سعودی وزیر خارجہ پرنس فیصل بن فرحان نے ملاقات کی، اس ملاقات کے دوران پاک سعودی تعلقات اور مختلف شعبوں میں تعاون کو تیز کرنے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔وزیراعظم نے سعودی عرب میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کی فلاح کے لیے سعودی حکومت کے کردار کی تعریف کی۔
سعودی وزیر خارجہ نے ایوان صدر میں صدر عارف علوی سے بھی ملاقات کی، اس موقعے پرصدر ڈاکٹرعارف علوی نے پاکستان اور سعودی عرب کے مابین تمام شعبوں میں تعلقات کی موجودہ سطح کو وسعت دینے اور تجارت و معیشت کے شعبے میں مزید پیش رفت کے لیے دوطرفہ تعلقات کو ادارہ جاتی سطح پر استوار کرنے کی ضرورت پرزور دیتے ہوئے کہاہے کہ پاکستان سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کو خصوصی اہمیت دیتا ہے،پاکستان برادر ملک کے ساتھ معاشی اور تجارتی تعلقات بڑھانے کا خواہاں ہے۔
جب کہ سعودی وفد سے مذاکرات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہاکہ مسئلہ کشمیر اور مقبوضہ کشمیر میں بھارتی کی جانب سے اٹھائے گئے 5 اگست 2019 کے یکطرفہ اور غیر آئینی اقدامات کے بعد سعودی عرب کی علاقائی و عالمی فورمز پر پاکستان کے موقف کی حمایت قابلِ ستائش ہے، او آئی سی رابطہ گروپ برائے جموں و کشمیر میں سعودی عرب کے مثبت کردار پر سعودی قیادت کے شکر گزار ہیں۔
پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کے سعودی عرب کے حالیہ دورے میں ''سعودی پاکستانی اعلیٰ رابطہ کونسل'' کے قیام کے سمجھوتے کے علاوہ متعدد معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے تھے ۔کورونا کی وبا کے منفی اثرات کے باوجود 2020 کے دوران میں سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان تجارتی تبادلے کا حجم 2.322 ارب ڈالر رہا۔
سعودی عرب اب بھی پاکستان کو برآمدات بھیجنے والے چار بڑے ممالک میں سے ہے۔ ان برآمدات میں تیل کی مصنوعات، پلاسٹک اور کیمیکلز وغیرہ اہم ترین ہیں۔ گزشتہ سال پاکستان سے درآمدات حاصل کرنے والے ممالک میں سعودی عرب کا 12 واں نمبر رہا۔ ان درآمدات میں اجناس (چاول)، گوشت، مصالحہ جات اور ٹیکسٹائل نمایاں ترین ہیں۔اس وقت سعودی عرب میں تقریبا 400 پاکستانی کمپنیاں کام کر رہی ہیں۔
گزشتہ پانچ برسوں کے دوران میں ان کمپنیوں کے بنیادی سرمائے کا حجم 35 کروڑ ڈالر کے قریب پہنچ چکا ہے۔ یہ کمپنیاں مملکت میں تعمیرات، سول انجینئرنگ، کیمیائی مواد، معدنیات اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے سیکٹروں میں کام کر رہی ہیں۔ دوسری جانب گزشتہ پانچ برسوں کے دوران پاکستان میں سعودی عرب کی سرمایہ کاری کا مجموعی حجم ایک ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔ یہ سرمایہ کاری توانائی، پٹرولیم، کیمیکلز، مالی اداروں، بینکنگ، زراعت، انفارمیشن ٹیکنالوجی، ڈیری مصنوعات اور انسانی وسائل کی ترقی کے سیکٹروں میں کی گئی ہے۔ سعودی ویژن 2030 کے اہداف مختلف شعبوں بالخصوص معیشت اور سیاحت میں پاکستان کے ساتھ تعاون مضبوط بنانے کے حوالے سے مطابقت رکھتے ہیں۔
تاریخی طور پر دیکھا جائے تو سعودی عرب ان اولین ممالک میں شامل تھا جس نے دنیا کے نقشے پر سب سے پہلے پاکستان کوتسلیم کیا تھا ، اور سات دہائیاں گزرنے کے بعد بھی دونوں ممالک کے تعلقات مستحکم بنیادوں پر استوار ہیں اور ان میں مزید وسعت پیدا ہورہی ہے ۔ در حقیقت دونوں ممالک کے درمیان تجارت ، سرمایہ کاری اور توانائی کے شعبوں میں تعاون سے پاکستان کے لیے ترقی وسیع امکانات پیدا ہوں گے ۔جوں جوں وقت گزرے گا تو یہ اقتصادی ومعاشی اقدامات پاکستان کو ترقی وخوشحالی کی راہ پر گامزن کرنے میں معاون ومددگار ثابت ہوں گے ۔
پاکستان نے سعودی عرب پر زور دیا کہ وہ کورونا سفری پابندیوں پر نرمی کرے تاکہ چار لاکھ پاکستانی ورکرز سعودی عرب میں جاکر اپنی ملازمتوں پر بحال ہوسکیں۔ پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے سعودی عرب کے وزیرخارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان السعود نے صدر عارف علوی ، وزیراعظم عمران خان اور وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی سے ملاقات کی ہے۔
باہمی رابطوں کے فروغ کے لیے سعودی،پاکستان اعلیٰ مشاورتی کونسل کا قیام اور پاکستانی اور سعودی وزارت خارجہ میں ایک فوکل پرسن کے تقرر کا فیصلہ مستحسن ہے۔ بلاشبہ پاکستان اور سعودی عرب کے تاریخی اور دیرینہ تعلقات نئے دور میں داخل ہو رہے ہیں۔ اب یہ برادرانہ تعلقات تجارتی تعلقات میں تبدیل ہو رہے ہیں، سعودی عرب پاکستان میں بڑی سرمایہ کاری کرنے جا رہا ہے جب کہ کورونا وباکے حالات ٹھیک ہونے کے بعد پاکستانیوں کے لیے سعودی عرب میں بڑی تعداد میں ملازمتوں کے مواقع بھی میسر آئیں گے۔ ان حا لات کے تناظر میں سعودی وزیر خارجہ کا دورہ نہایت اہمیت کا حامل ہے۔
اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ سعودی وزیر خارجہ کے اس دورے سے اعلیٰ سطح کے تبادلے اور مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مزید فروغ ملے گا۔ خطے کی صورتحال، افغانستان کے معاملات، ایران کے ساتھ تعلقات سمیت اہم امور پر مشترکہ لائحہ عمل سامنے آیا ہے۔ حکومت پاکستان نے سعودی عرب کے ساتھ بہتر تعلقات قائم رکھنے کے لیے بہت کام کیا ہے اور ان تعلقات کو خراب کرنے کے لیے ہونے والی تمام سازشوں کے ناکام بنایا ہے۔یہ تاریخی سچائی ہے کہ سعودی عرب ہمیشہ سے ہی پاکستان کی ترقی اور استحکام کا خواہاں رہا ہے۔
پاکستان کی معاشی ترقی کے حوالے سے سعودی عرب کی جانب سے مختلف اوقات میں 20 ترقیاتی قرضے بھی جاری کیے گئے جن کے تحت مختلف شعبوں میں 17ترقیاتی منصوبوں پر کام کیا گیا۔دونوں برادار ممالک کے مابین تعلقات کو مزید مستحکم کرنے اور انھیں بلندی کی انتہا تک پہنچانے کے لیے سال 2019 میں ولی عہد مملکت، نائب وزیر اعظم اور وزیر دفاع شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود نے پاکستان کا سرکاری دورہ کیا تھا، ان کے ہمراہ اعلیٰ سطح وزرا اور تجارتی وفد بھی شامل تھا۔اس دورے کے مثبت اثرات اب ظاہرہونا یقینا شروع ہوگئے ہیں۔
سعودی عرب میں کام کرنے والے پاکستانی وہاں کی معیشت میں اہم ترین کردار ادا کررہے ہیں۔پاکستانی عوام کے دلوں میں بھی سعودی مملکت کا ایک خاص مقام ومرتبہ ہے۔ دونوں ممالک سیاسی اور عوامی سطح پراسلام کی ڈور سے بندھے ہوئے ہیں۔ اسلام کی مشترکہ بنیاد نے دونوں ممالک کے مابین مثالی تعلقات کو مستحکم کیا ہے۔قیام پاکستان سے لے کرآج تک سعودی عرب ہمیشہ اور ہر موقعے پر پاکستان کے ساتھ رہا۔ ارض حرمین شریفین ہونے کی حیثیت سے بھی مملکت کا تقدس ہر سطح پر نمایاں ہے۔مشترکہ حکمت عملی کے تحت سیاسی، عسکری، معاشرتی اور معاشی میدانوں میں باہمی تعاون جاری رہا جس سے دنوں ممالک کے تعلقات میں ہرگزرتے دن کے ساتھ اضافہ ہوا ہے۔
وزیراعظم عمران خان سے سعودی وزیر خارجہ پرنس فیصل بن فرحان نے ملاقات کی، اس ملاقات کے دوران پاک سعودی تعلقات اور مختلف شعبوں میں تعاون کو تیز کرنے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔وزیراعظم نے سعودی عرب میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کی فلاح کے لیے سعودی حکومت کے کردار کی تعریف کی۔
سعودی وزیر خارجہ نے ایوان صدر میں صدر عارف علوی سے بھی ملاقات کی، اس موقعے پرصدر ڈاکٹرعارف علوی نے پاکستان اور سعودی عرب کے مابین تمام شعبوں میں تعلقات کی موجودہ سطح کو وسعت دینے اور تجارت و معیشت کے شعبے میں مزید پیش رفت کے لیے دوطرفہ تعلقات کو ادارہ جاتی سطح پر استوار کرنے کی ضرورت پرزور دیتے ہوئے کہاہے کہ پاکستان سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کو خصوصی اہمیت دیتا ہے،پاکستان برادر ملک کے ساتھ معاشی اور تجارتی تعلقات بڑھانے کا خواہاں ہے۔
جب کہ سعودی وفد سے مذاکرات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہاکہ مسئلہ کشمیر اور مقبوضہ کشمیر میں بھارتی کی جانب سے اٹھائے گئے 5 اگست 2019 کے یکطرفہ اور غیر آئینی اقدامات کے بعد سعودی عرب کی علاقائی و عالمی فورمز پر پاکستان کے موقف کی حمایت قابلِ ستائش ہے، او آئی سی رابطہ گروپ برائے جموں و کشمیر میں سعودی عرب کے مثبت کردار پر سعودی قیادت کے شکر گزار ہیں۔
پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کے سعودی عرب کے حالیہ دورے میں ''سعودی پاکستانی اعلیٰ رابطہ کونسل'' کے قیام کے سمجھوتے کے علاوہ متعدد معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے تھے ۔کورونا کی وبا کے منفی اثرات کے باوجود 2020 کے دوران میں سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان تجارتی تبادلے کا حجم 2.322 ارب ڈالر رہا۔
سعودی عرب اب بھی پاکستان کو برآمدات بھیجنے والے چار بڑے ممالک میں سے ہے۔ ان برآمدات میں تیل کی مصنوعات، پلاسٹک اور کیمیکلز وغیرہ اہم ترین ہیں۔ گزشتہ سال پاکستان سے درآمدات حاصل کرنے والے ممالک میں سعودی عرب کا 12 واں نمبر رہا۔ ان درآمدات میں اجناس (چاول)، گوشت، مصالحہ جات اور ٹیکسٹائل نمایاں ترین ہیں۔اس وقت سعودی عرب میں تقریبا 400 پاکستانی کمپنیاں کام کر رہی ہیں۔
گزشتہ پانچ برسوں کے دوران میں ان کمپنیوں کے بنیادی سرمائے کا حجم 35 کروڑ ڈالر کے قریب پہنچ چکا ہے۔ یہ کمپنیاں مملکت میں تعمیرات، سول انجینئرنگ، کیمیائی مواد، معدنیات اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے سیکٹروں میں کام کر رہی ہیں۔ دوسری جانب گزشتہ پانچ برسوں کے دوران پاکستان میں سعودی عرب کی سرمایہ کاری کا مجموعی حجم ایک ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔ یہ سرمایہ کاری توانائی، پٹرولیم، کیمیکلز، مالی اداروں، بینکنگ، زراعت، انفارمیشن ٹیکنالوجی، ڈیری مصنوعات اور انسانی وسائل کی ترقی کے سیکٹروں میں کی گئی ہے۔ سعودی ویژن 2030 کے اہداف مختلف شعبوں بالخصوص معیشت اور سیاحت میں پاکستان کے ساتھ تعاون مضبوط بنانے کے حوالے سے مطابقت رکھتے ہیں۔
تاریخی طور پر دیکھا جائے تو سعودی عرب ان اولین ممالک میں شامل تھا جس نے دنیا کے نقشے پر سب سے پہلے پاکستان کوتسلیم کیا تھا ، اور سات دہائیاں گزرنے کے بعد بھی دونوں ممالک کے تعلقات مستحکم بنیادوں پر استوار ہیں اور ان میں مزید وسعت پیدا ہورہی ہے ۔ در حقیقت دونوں ممالک کے درمیان تجارت ، سرمایہ کاری اور توانائی کے شعبوں میں تعاون سے پاکستان کے لیے ترقی وسیع امکانات پیدا ہوں گے ۔جوں جوں وقت گزرے گا تو یہ اقتصادی ومعاشی اقدامات پاکستان کو ترقی وخوشحالی کی راہ پر گامزن کرنے میں معاون ومددگار ثابت ہوں گے ۔