آپریشن کی نوبت کیوں آئی وزیراعظم کو بتانا چاہیے معید پیرزادہ

میڈیا کے بارے میں طالبان کے فتویٰ کی تحقیقات کی جائیں،پروگرام سیاست اور قانون میں گفتگو

حکومت کوریڈ لائنز بتانی چاہئیں،کسی کوسیاست نہیں کرنی چاہیے،تجزیہ کار بابرستار۔ فوٹو: فائل

تجزیہ کار معید پیرزادہ نے کہا ہے کہ وزیراعظم میاں نواز شریف کوکھل کرسامنے آنا چاہیے اور بتانا چاہیے کہ اے پی سی کے بعد ہم نے مذاکرات کی کوشش کی تھی لیکن دوسری طرف سے مذکرات کے لیے سنجیدگی نظرنہیں آئی اور مذاکرات کے ساتھ ساتھ ہماری فوج، میڈیا، پولیو ورکرز اور عام شہریوں پرحملے ہوتے رہے، انکو بتانا چاہیے کہ وہ کیا حالات تھے کہ ہمیں دوسرا آپشن استعمال کرنا پڑا۔

ایکسپریس نیوز کے پروگرام ''سیاست اورقانون'' میںگفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اگر سب کچھ فوج پر ڈال دیا جائے تو یہ بھی مناسب نہیں ہو گاکیونکہ ہوسکتا ہے فوج کسی اسٹیج پر سمجھے کہ ان کو سیاسی کور ملنا چاہیے ورنہ یہ معاملہ بھی لال مسجد والا ہو سکتا ہے، میڈیا کے بارے میں طالبان کا فتویٰ 2012 کو جاری ہوا تھا لیکن چھپا اب ہے،حکومت کو چاہیے کہ اس فتوے کی تحقیقات کرے اور اس کے حقائق بتائے جائیں۔




میڈیا ہویاعام شہری سب کوحفاظت دینا حکومت کی ذمے داری ہے ۔تجزیہ کاربابرستار نے کہا کہ اگر ہمارا کسی سے کوئی اختلاف ہے تو ہم اس پر بندوق نہیں نکال سکتے، کبھی کسی پارٹی نے یہ طے نہیںکیا کہ ہم نے مذاکرات میں کیا بات کرنی ہے،عمران خان بھی ٹی ٹی پی کی بات نہیںکرتے وہ بھی فاٹا کی بات کرتے ہیں، اگر آپریشن ہوا تو فوج چھوٹے چھوٹے ٹارگٹڈ آپریشن کریگی سوات جیسا ماحول نہیں ہو گا، عوام کو اعتماد میں لینے کے لیے حکومت کو ریڈلائنز بتانی چاہئیں، اس معاملے پرسیاست نہیں ہونی چاہیے، سب کوسنجیدگی کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔
Load Next Story