’’بات سے بات‘‘ میں کراچی کے حفاظتی انتظامات کا پول کھل گیا
جب تک دہشتگردی ختم نہیں ہوتی ٹارگٹڈ آپریشن جاری رہے گا،شرجیل میمن،پروگرام میں گفتگو
جب تک دہشتگردی ختم نہیں ہوتی ٹارگٹڈ آپریشن جاری رہے گا،شرجیل میمن،پروگرام میں گفتگو. فوٹو: فائل
شہر قائد کراچی جہاں ہرروز خون کی آندھی چلتی ہے جو نہ جانے ہر روز کتنے بے گناہ اور معصوم شہریوں کی زندگی کے خاتمے کے پیغام چھوڑ جاتی ہے۔
ہلاکتوں اور معصوم شہریوں کی زندگی کو ریزہ ریزہ کرنے والی خبروں سے بطور پاکستانی نہ صرف دل دہل جاتا ہے بلکہ یہ خیال بھی اختتام پذیر نہیںہوتا کہ اگلی مرتبہ یہ خونی آندھی کتنی جانیں لے گی۔عوام کی تفکر بھری زندگی کے دوران خود ساختہ احتیاطی انتظامات اپنی جگہ پر لیکن آئے روز کی ہلاکتیں ہماری سیکورٹی فورسز پر کیا اثرات مرتب کرتی ہیں ۔یہ جاننے کے لئے ایکسپریس نیوزکے پروگرام بات سے بات کی ٹیم نے فرضی سرکاری نمبر پلیٹ لگی گاڑی پر شہرقائد کے مختلف حساس علاقوں کا دورہ کیا جہاں کسی نے اس گاڑی کو نہیں روکا۔کراچی میں 2007کے بعد کوئی بھی گاڑی رجسٹرڈنہیں کی گئی ۔سندھ کے وزیراطلاعات شرجیل میمن نے کہا کہ یہ نہیں کہا جاسکتا کہ کراچی میں جاری ٹارگٹڈ آپریشن کامیاب نہیں ہورہا ۔یہ آپریشن چھ ماہ بھی چل سکتا ہے اور چھ سال بھی لیکن یہ تب تک جاری رہیگا جب تک دہشتگردی ختم نہیں ہوجاتی۔
اب تک دس ہزارسے زائد دہشتگرد پکڑے جاچکے ہیں۔کراچی ایساشہرہے جہاں پاکستان بھر سے لوگ آکر آباد ہوئے ہیں ۔مجرم پکڑے جاتے ہیں وہ اپنے جرائم مان بھی جاتے ہیں لیکن عدالت سے وہ چھوٹ جاتے ہیںجب تک ان کو سزا نہیں ملے گی تب تک آپریشن کامیاب نہیںہوسکتا۔کراچی میں ہم نے بہت سا ناجائز اسلحہ برآمد کیاہے دنیا کے ہر معاشرے میں کالی بھیڑیں ہوتی ہیں اسلحہ کراچی میں نہیںبنتا بلکہ باہر سے لایا جاتا ہے۔کراچی میں گاڑیوںکی رجسٹریشن کا معاملہ ہے ہم نے ایکسائز کے محکمے کوپیسے دینے ہیں جیسے ہی یہ معاملہ کلیئر ہوتا ہے رجسٹریشن شروع کردی جائیگی۔ہم لوگ دہشتگردی کیخلاف جنگ لڑرہے ہیں اس میں ہرشخص کو اپنا کردار ادا کرنا چاہئے جعلی نمبر پلیٹ بنانے والوں کے خلاف بھی آپریشن کررہے ہیں نمبر پلیٹ بنانے والوں کو چاہئے کہ وہ اصل کاغذات دیکھ کر نمبر پلیٹ بنائیں۔
ہلاکتوں اور معصوم شہریوں کی زندگی کو ریزہ ریزہ کرنے والی خبروں سے بطور پاکستانی نہ صرف دل دہل جاتا ہے بلکہ یہ خیال بھی اختتام پذیر نہیںہوتا کہ اگلی مرتبہ یہ خونی آندھی کتنی جانیں لے گی۔عوام کی تفکر بھری زندگی کے دوران خود ساختہ احتیاطی انتظامات اپنی جگہ پر لیکن آئے روز کی ہلاکتیں ہماری سیکورٹی فورسز پر کیا اثرات مرتب کرتی ہیں ۔یہ جاننے کے لئے ایکسپریس نیوزکے پروگرام بات سے بات کی ٹیم نے فرضی سرکاری نمبر پلیٹ لگی گاڑی پر شہرقائد کے مختلف حساس علاقوں کا دورہ کیا جہاں کسی نے اس گاڑی کو نہیں روکا۔کراچی میں 2007کے بعد کوئی بھی گاڑی رجسٹرڈنہیں کی گئی ۔سندھ کے وزیراطلاعات شرجیل میمن نے کہا کہ یہ نہیں کہا جاسکتا کہ کراچی میں جاری ٹارگٹڈ آپریشن کامیاب نہیں ہورہا ۔یہ آپریشن چھ ماہ بھی چل سکتا ہے اور چھ سال بھی لیکن یہ تب تک جاری رہیگا جب تک دہشتگردی ختم نہیں ہوجاتی۔
اب تک دس ہزارسے زائد دہشتگرد پکڑے جاچکے ہیں۔کراچی ایساشہرہے جہاں پاکستان بھر سے لوگ آکر آباد ہوئے ہیں ۔مجرم پکڑے جاتے ہیں وہ اپنے جرائم مان بھی جاتے ہیں لیکن عدالت سے وہ چھوٹ جاتے ہیںجب تک ان کو سزا نہیں ملے گی تب تک آپریشن کامیاب نہیںہوسکتا۔کراچی میں ہم نے بہت سا ناجائز اسلحہ برآمد کیاہے دنیا کے ہر معاشرے میں کالی بھیڑیں ہوتی ہیں اسلحہ کراچی میں نہیںبنتا بلکہ باہر سے لایا جاتا ہے۔کراچی میں گاڑیوںکی رجسٹریشن کا معاملہ ہے ہم نے ایکسائز کے محکمے کوپیسے دینے ہیں جیسے ہی یہ معاملہ کلیئر ہوتا ہے رجسٹریشن شروع کردی جائیگی۔ہم لوگ دہشتگردی کیخلاف جنگ لڑرہے ہیں اس میں ہرشخص کو اپنا کردار ادا کرنا چاہئے جعلی نمبر پلیٹ بنانے والوں کے خلاف بھی آپریشن کررہے ہیں نمبر پلیٹ بنانے والوں کو چاہئے کہ وہ اصل کاغذات دیکھ کر نمبر پلیٹ بنائیں۔