جیٹ طیاروں سے امن آسکتا ہے نہ خودکش حملوں سے شریعت منور حسن
دینی لوگ آج نہیں اٹھے توکل تمام راستے بند کرکے انھیں بند گلی میں دھکیل دیاجائے گا
بے حسی میں مبتلا حکومت خلوص واختیار ثابت نہ کرسکی، نماز جمعہ کے اجتماع سے خطاب۔ فوٹو: فائل
KARACHI:
امیرجماعت اسلامی پاکستان سید منورحسن نے کہاہے کہ جیٹ طیاروں کی بمباری سے امن قائم ہوسکتاہے، نہ ہی خودکش حملوں سے شریعت نافذہو سکتی ہے۔
حکومت نے توامریکی دبائومیں آکر طالبان سے مذاکرات نہیں کیے مگرملک بچانے اوراسلام کی غلط تصویرکشی کوروکنے کے لیے دینی قوتوںخاص طورپردیوبندی مکتبِ فکرکے علماکو آگے بڑھ کرمذاکرات کی میز بچھانی چاہیے۔ 1973کا آئین بنانے میںدینی جماعتوںکے علمائے کرام نے بنیادی کردارادا کیاتھا، اس کاتحفظ کرنابھی دینی جماعتوںکی ذمے داری ہے۔ شمالی وزیرستان کوتہس نہس کرنے کی امریکاکی دیرینہ خواہش موجودہ حکومت پورا کررہی ہے۔
مرکزی میڈیاآفس کے مطابق ان خیالات کااظہارانھوںن ے جمعے کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ منورحسن نے کہاکہ حکومت ایک خاص قسم کے بچائواور بے حسی میں مبتلا ہے ۔ وہ طالبان سے مذاکرات کارسک نہیںلے سکتی۔ امریکاکسی صورت بھی پسندنہیں کرے گاکہ اس کے بٹھائے ہوئے لوگ اس کے احکام سے روگردانی کریں۔ دینی جماعتوںکافرض ہے کہ وہ طالبان سے مذاکرات کوآگے بڑھائیں۔ دینی لوگ اگرآج نہیں اٹھیںگے توکل ان کے تمام راستے بند کرکے بندگلی میںدھکیل دیاجائے گا۔ ملک میںجاری اینٹی اسلام مہم کوروکنے اوراسلام کی سچی تصویردنیا کے سامنے پیش کرنے کے لیے تمام مکتبہ ہائے فکرکو متحدکرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ حکومت ابھی تک اپنااخلاص اوراختیار ثابت نہیںکرسکی۔
امیرجماعت اسلامی پاکستان سید منورحسن نے کہاہے کہ جیٹ طیاروں کی بمباری سے امن قائم ہوسکتاہے، نہ ہی خودکش حملوں سے شریعت نافذہو سکتی ہے۔
حکومت نے توامریکی دبائومیں آکر طالبان سے مذاکرات نہیں کیے مگرملک بچانے اوراسلام کی غلط تصویرکشی کوروکنے کے لیے دینی قوتوںخاص طورپردیوبندی مکتبِ فکرکے علماکو آگے بڑھ کرمذاکرات کی میز بچھانی چاہیے۔ 1973کا آئین بنانے میںدینی جماعتوںکے علمائے کرام نے بنیادی کردارادا کیاتھا، اس کاتحفظ کرنابھی دینی جماعتوںکی ذمے داری ہے۔ شمالی وزیرستان کوتہس نہس کرنے کی امریکاکی دیرینہ خواہش موجودہ حکومت پورا کررہی ہے۔
مرکزی میڈیاآفس کے مطابق ان خیالات کااظہارانھوںن ے جمعے کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ منورحسن نے کہاکہ حکومت ایک خاص قسم کے بچائواور بے حسی میں مبتلا ہے ۔ وہ طالبان سے مذاکرات کارسک نہیںلے سکتی۔ امریکاکسی صورت بھی پسندنہیں کرے گاکہ اس کے بٹھائے ہوئے لوگ اس کے احکام سے روگردانی کریں۔ دینی جماعتوںکافرض ہے کہ وہ طالبان سے مذاکرات کوآگے بڑھائیں۔ دینی لوگ اگرآج نہیں اٹھیںگے توکل ان کے تمام راستے بند کرکے بندگلی میںدھکیل دیاجائے گا۔ ملک میںجاری اینٹی اسلام مہم کوروکنے اوراسلام کی سچی تصویردنیا کے سامنے پیش کرنے کے لیے تمام مکتبہ ہائے فکرکو متحدکرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ حکومت ابھی تک اپنااخلاص اوراختیار ثابت نہیںکرسکی۔