تحفظ پاکستان آرڈیننس کی متعدد شقیں آئین سے متصادم ہیں افراسیاب خٹک
تحفظ پاکستان آرڈیننس کی متعدد شقیں آئین سے متصادم ہیں، سینیٹ میں پیش ہواتومنظور نہیں ہونے دیں گے, افراسیاب خٹک
تحفظ پاکستان آرڈیننس کی متعدد شقیں آئین سے متصادم ہیں، سینیٹ میں پیش ہواتومنظور نہیں ہونے دیں گے, افراسیاب خٹک
لاہور:
سینیٹ کی فنکشنل کمیٹی برائے انسانی حقوق نے تحفظ پاکستان آرڈیننس سے آئین میں دیے گئے بعض بنیادی حقوق متاثرہونیکا نوٹس لیتے ہوئے وزارت قانون کو بریفنگ کے لیے طلب کرلیا ہے ۔
جمعے کو پارلیمنٹ ہائوس میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کمیٹی کے چیئرمین افراسیاب خٹک نے بتایاکہ تحفظ پاکستان آرڈیننس کی متعدد شقیں آئین سے متصادم ہیں، سینیٹ میں پیش ہواتومنظور نہیں ہونے دیں گے، آرڈیننس سے آئین میں دیے گئے بعض بنیادی حقوق متاثرہونیکاخدشہ ہے ۔کمیٹی نے وزارت قانون و انصاف کو جاری خط جاری کیاہے کہ تحفظ پاکستان آرڈیننس آئینی آزادیوں پرقدغن لگاتا ہے لہٰذا اس پر تفصیلی بریفنگ دی جائے کہ کیا حکومت کی جانب سے مذکورہ آرڈی ننس کے نفاذ سے قبل وزارت قانون سے رالئے مانگی گئی تھی یانہیں۔
افراسیاب خٹک کا کہنا تھا کہ تحفظ پاکستان آرڈیننس ایک مارشل لائی قانون ہے جس کے ذریعے پولیس کو شک کی بنیاد پر کسی بھی شخص کو گولی مارنے اور بغیر مقدمہ درج کیے گرفتار کرنے کی کھلی چھٹی دیدی گئی ہے جبکہ مذکورہ آرڈیننس جاری کرکے حکومت نے عوام سے احتجاج کا حق بھی چھین لیا ہے۔ سینیٹر افراسیاب خٹک نے کہا کہ بحیثیت چیئرمین فنکشنل کمیٹی وزارت قانون کونوٹس جاری کرکے وضاحت طلب کی کہ تحفظ پاکستان آرڈیننس جوکہ بنیادی انسانی حقوق اورآئین کی بعض شقوںسے متصادم ہے اس کانفاذکیونکرعمل میںآیا،جبکہ اسپر پر فنکشنل کمیٹی کے اراکین کو بریفنگ بھی دی جائے۔
سینیٹ کی فنکشنل کمیٹی برائے انسانی حقوق نے تحفظ پاکستان آرڈیننس سے آئین میں دیے گئے بعض بنیادی حقوق متاثرہونیکا نوٹس لیتے ہوئے وزارت قانون کو بریفنگ کے لیے طلب کرلیا ہے ۔
جمعے کو پارلیمنٹ ہائوس میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کمیٹی کے چیئرمین افراسیاب خٹک نے بتایاکہ تحفظ پاکستان آرڈیننس کی متعدد شقیں آئین سے متصادم ہیں، سینیٹ میں پیش ہواتومنظور نہیں ہونے دیں گے، آرڈیننس سے آئین میں دیے گئے بعض بنیادی حقوق متاثرہونیکاخدشہ ہے ۔کمیٹی نے وزارت قانون و انصاف کو جاری خط جاری کیاہے کہ تحفظ پاکستان آرڈیننس آئینی آزادیوں پرقدغن لگاتا ہے لہٰذا اس پر تفصیلی بریفنگ دی جائے کہ کیا حکومت کی جانب سے مذکورہ آرڈی ننس کے نفاذ سے قبل وزارت قانون سے رالئے مانگی گئی تھی یانہیں۔
افراسیاب خٹک کا کہنا تھا کہ تحفظ پاکستان آرڈیننس ایک مارشل لائی قانون ہے جس کے ذریعے پولیس کو شک کی بنیاد پر کسی بھی شخص کو گولی مارنے اور بغیر مقدمہ درج کیے گرفتار کرنے کی کھلی چھٹی دیدی گئی ہے جبکہ مذکورہ آرڈیننس جاری کرکے حکومت نے عوام سے احتجاج کا حق بھی چھین لیا ہے۔ سینیٹر افراسیاب خٹک نے کہا کہ بحیثیت چیئرمین فنکشنل کمیٹی وزارت قانون کونوٹس جاری کرکے وضاحت طلب کی کہ تحفظ پاکستان آرڈیننس جوکہ بنیادی انسانی حقوق اورآئین کی بعض شقوںسے متصادم ہے اس کانفاذکیونکرعمل میںآیا،جبکہ اسپر پر فنکشنل کمیٹی کے اراکین کو بریفنگ بھی دی جائے۔