بلوچستان امن کی کوششیں تیز کی جائیں
یہ المیہ ہے کہ پرامن اور بے ضرر ہزارہ برادری کو وقفہ وقفہ سے ٹارگٹ کیا جا رہا ہے
یہ المیہ ہے کہ پرامن اور بے ضرر ہزارہ برادری کو وقفہ وقفہ سے ٹارگٹ کیا جا رہا ہے. فوٹو: ایکسپریس نیوز/فائل
سانحہ مستونگ میں جاں بحق ہونے والے 28 زائرین کو کوئٹہ کے مختلف قبرستانوں میں آہوں اور سسکیوں کے ساتھ سپرد خاک کر دیا گیا۔ اس موقع پر رقت آمیز مناظر دیکھنے میں آئے، ہزارہ برادری کے 22 افراد کی بہشت زینب قبرستان جب کہ چار افراد کی ہزارہ ٹاؤن قبرستان میں تدفین کی گئی، جس میں ہزارہ برادری اور دیگر افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ کوئٹہ میں ہزارہ برادری کو یخ بستہ ہواؤں اور شدید موسمیاتی سختیوں میں دھرنے کا ایک بار پھر عذاب سہنا پڑا جو حملہ آوروں کی طرف سے درد انگیز، انسانیت سوز اور ملک کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی تہ در تہ سازشوں کی ایک کڑی ہے۔ اگرچہ صوبائی وزیر اعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک نے دھرنے کے خاتمہ کے لیے ہزارہ غمزدگان سے ملاقات کی اور صوبائی حکومت کی طرف سے ہر ممکن امداد کا یقین دلایا تاہم بپھرے ہوئے لواحقین اسی وقت مطمئن ہوئے جب انھوں نے وفاقی وزیر داخلہ نثار علی خان اور وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید کو اپنے درمیان پا کر دھرنا ختم کرنے کا اعلان کیا۔
صورتحال کی بر وقت سنگینی کا ادراک کرتے ہوئے حکومت نے مستونگ میں کالعدم تنظیم لشکر جھنگوی کے خلاف بڑے پیمانے پر آپریشن شروع کر کے ایک اہم اقدام کیا، جس کی وزیر اعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک براہ راست نگرانی کریں گے، لیکن یہ آپریشن ملکی سیاسی حالات کے سیاق و سباق میں کوئی الگ کارروائی نہیں ہے۔ حکومتی پالیسی میں واضح تبدیلی کا اشارہ دیتے ہوئے شمالی وزیرستان میں آپریشن کا عندیہ دیا جا رہا ہے جو مذاکرات یا پھر جنگ کے فیصلہ جاتی بحران اور گنجلک صورتحال میں ایک فیصلہ کن پالیسی شفٹ ہے۔ طالبان قیادت کا اصرار ہے کہ حکومت مذاکرات کے لیے سنجیدگی دکھائے۔ یہ بھی ایک چشم کشا امکان ہے کہ فوج کو مکمل عوامی اور سیاسی حمایت کے ساتھ ٹارگٹڈ اور سرجیکل آپریشن کے لیے فری ہینڈ دینے پر اتفاق ہو گیا ہے جو وقت کا تقاضا بھی ہے۔
تاہم حکمرانوں کو میڈیا، عدلیہ، سول سوسائٹی، ملکی معیشت اور عالمی طاقتوں کے ردعمل کو بھی پیش نظر رکھنا چاہیے، مثلاً ایک نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق شمالی وزیرستان میں پاکستان کی جانب سے ممکنہ آپریشن پر پاکستان، افغانستان اور امریکا کے درمیان رابطے ہوئے ہیں، جس میں امریکا نے آپریشن پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ آپریشن سے افغانستان میں انتخابات کا عمل متاثر ہو سکتا ہے، جب کہ پاکستان نے اپنے موقف میں کہا ہے کہ افغانستان ان دہشتگردوں کو پناہ نہ دے جو آپریشن کے ڈر سے بھاگ کر وہاں پناہ لینا چاہتے ہیں۔ ملک دشمن عناصر اس آپریشن کی یک طرفہ اور من مانی توجیحات اور محرکات پر گوہر افشانی کے ساتھ ساتھ ہولناک تبصروں سے ارباب حل و عقد کے صبر و تدبر کو بھی آزمائیں گے لیکن یہی وقت ہے کہ تمام سیاسی رہنما، اپوزیشن سمیت حکومت کی رہنمائی اور اس سے مشاورت میں دور اندیشی، کشادہ دلی اور اعلیٰ ظرفی کا مظاہرہ کریں۔ یہ قومی کاز ہے، منزل سب کی امن، استحکام، ترقی اور لاقانونیت و دہشت گردی کا خاتمہ ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق گزشتہ رات وزیر داخلہ چوہدری نثار اور وزیر اطلاعات و نشریات پرویز رشید کی زیر صدارت کوئٹہ آمد کے بعد اعلی سطح کا اجلاس ہوا جس میں کور کمانڈرز، آئی جی بلوچستان، چیف سیکریٹری اور وزیر اعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک نے شرکت کی۔ اجلاس میں فیصلہ ہوا کہ فرقہ واریت کے جتنے بھی واقعات ہو رہے ہیں ان میں لشکر جھنگوی ملوث ہے لہٰذا اس کے خلاف آپریشن ضروری ہو گیا ہے۔ اس کے علاوہ بھی جو گروپس ہیں ان کے خلاف بھی کارروائی ہونی چاہیے تا کہ بدامنی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ ادھر طالبان سے مذاکرات یا آپریشن کے حوالے سے حکومتی ذمے داروں نے سیاسی رہنماؤں سے رابطے شروع کر دیئے ہیں۔ وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے جمعے کو جماعت اسلامی کے امیر سید منور حسن سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے موجودہ ملکی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ وزیر داخلہ کے رابطے پر امیر جماعت اسلامی نے باور کرایا کہ نمائشی مشاورت یا اجلاس کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا، حکومت کو بتانا پڑے گا کہ 9 ستمبر کے مینڈیٹ پر کہاں تک پیش رفت ہوئی۔
چوہدری نثار کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے سدباب کے لیے جو ممکنہ اقدامات ہوں گے، کریں گے اور تمام فیصلے سیاسی قیادت کی مشاورت سے کیے جائیں گے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم میاں نواز شریف کو کھل کر سامنے آنا چاہیے اور بتانا چاہیے کہ اے پی سی کے بعد ہم نے مذاکرات کی کوشش کی تھی لیکن دوسری طرف سے مذکرات کے لیے سنجیدگی نظر نہیں آئی اور مذاکرات کے ساتھ ساتھ ہماری فوج، میڈیا، پولیو ورکرز اور عام شہریوں پر حملے ہوتے رہے، ان کو بتانا چاہیے کہ وہ کیا حالات تھے کہ ہمیں دوسرا آپشن استعمال کرنا پڑا۔ خیبر پختونخوا حکومت نے مرکز کی جانب سے شمالی وزیرستان میں آپریشن کے معاملہ پر صوبہ کو اعتماد میں لیے جانے تک خاموشی اختیار کرنے اور معاملہ سے خود کو الگ تھلگ رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ المیہ ہے کہ پرامن اور بے ضرر ہزارہ برادری کو وقفہ وقفہ سے ٹارگٹ کیا جا رہا ہے، ان پر دو عشروں سے بلاجواز مظالم اور ٹارگٹ کلنگ کا سلسلہ روکنے کے لیے دہشت گردی مخالف حکمت عملی کا از سر نو جائزہ لیا جائے اور چابک دستی و مستعدی کے ساتھ سانحہ کے ذمے داروں کو گرفتار کر کے قرار واقعی سزا دلائی جائے۔ قانون شکنی کے وسیع تر دائرے کا ادارک کرتے ہوئے یہ یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ اب جب کہ پانی سر سے اونچا ہو گیا ہے ارباب اختیار کسی قسم کے تذبذب اور ''ویٹ اینڈ سی'' کے بغیر اہداف پر فوکس کریں گے اور ملک کو بدامنی، دہشت گردی، شورش اور بہیمانہ جرائم سے پاک کرنے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے۔ قانون نافذ کرنے والی فورسز کا ہدف کوئٹہ سے لے کر ہر اس علاقے تک محیط ہونا چاہیے جہاں ملزمان کے روپوش ہونے کے امکانات ہو سکتے ہیں۔ آپریشن مربوط اور صوبائی حکام، فورسز کا بین الصوبائی اشتراک عمل اور انٹیلی جنس کی شیئرنگ کا موثر نیٹ ورک ہمہ وقت فعال رہنا چاہیے کیونکہ پورا ملک دہشت گردی کی زد میں ہے، گزشتہ روز کراچی، حیدرآباد، کوٹری، جامشورو سمیت اندرون سندھ کے مختلف شہروں میں نامعلوم افراد کی جانب سے 46 کریکر حملے کیے گئے تاہم حملوں میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، لیکن معمول بنا ہوا ہے کہ ہر روز ہلاکتیں ہو رہی ہیں، زمینی حقائق انتہائی اعصاب شکن ہیں، بلوچستان کی سیاسی اور سماجی صورتحال آتش فشاں ہے اور جب تک بلوچستان میں فرقہ وارانہ اور سیاسی ہلاکتوں میں ملوث افراد کو قانون کی گرفت میں نہیں لایا جائے گا۔
قتل و غارت کا سلسلہ نہیں رکے گا۔ یہ امر خوش آئند ہے کہ وفاقی حکومت نے وزیر اعظم کی ہدایت پر بلوچستان حکومت کو سی ون تھرٹی طیارہ فراہم کیا تا کہ وہ تفتان بارڈر کے علاقے میں حکومتی مدد کے منتظر بے یار و مددگار زائرین کو اس خصوصی طیارے کے ذریعے واپس ان کے گھروں تک پہنچا سکیں، علاوہ ازیں تفتان پہنچنے والے ڈیڑھ سو سے زائد زائرین کو سخت سیکیورٹی میں دالبندین ایئرپورٹ سے بذریعہ طیارہ کوئٹہ منتقل کردیا گیا، اسی مستعدی کے ساتھ سانحہ کے ذمے داروں کو گرفتار کر کے قرار واقعی سزا دلائی جائے۔ یاد رہے کہ بلوچستان میں بگٹیوں کی نقل مکانی ختم کر کے اپنے گھروں کو واپسی کا منظر بھی دھرنے سے جڑ گیا۔ شاہ زین بگٹی نے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ سے مذاکرات کے بعد دھرنا ختم کرنے کے بجائے اس کا مقام تبدیل کر دیا ہے۔ اس تمام منظر نامے میں صائب ہو گا کہ اندرون خانہ مفاہمت اور مصالحت کی کوششیں مزید تیز کی جائیں۔
صورتحال کی بر وقت سنگینی کا ادراک کرتے ہوئے حکومت نے مستونگ میں کالعدم تنظیم لشکر جھنگوی کے خلاف بڑے پیمانے پر آپریشن شروع کر کے ایک اہم اقدام کیا، جس کی وزیر اعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک براہ راست نگرانی کریں گے، لیکن یہ آپریشن ملکی سیاسی حالات کے سیاق و سباق میں کوئی الگ کارروائی نہیں ہے۔ حکومتی پالیسی میں واضح تبدیلی کا اشارہ دیتے ہوئے شمالی وزیرستان میں آپریشن کا عندیہ دیا جا رہا ہے جو مذاکرات یا پھر جنگ کے فیصلہ جاتی بحران اور گنجلک صورتحال میں ایک فیصلہ کن پالیسی شفٹ ہے۔ طالبان قیادت کا اصرار ہے کہ حکومت مذاکرات کے لیے سنجیدگی دکھائے۔ یہ بھی ایک چشم کشا امکان ہے کہ فوج کو مکمل عوامی اور سیاسی حمایت کے ساتھ ٹارگٹڈ اور سرجیکل آپریشن کے لیے فری ہینڈ دینے پر اتفاق ہو گیا ہے جو وقت کا تقاضا بھی ہے۔
تاہم حکمرانوں کو میڈیا، عدلیہ، سول سوسائٹی، ملکی معیشت اور عالمی طاقتوں کے ردعمل کو بھی پیش نظر رکھنا چاہیے، مثلاً ایک نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق شمالی وزیرستان میں پاکستان کی جانب سے ممکنہ آپریشن پر پاکستان، افغانستان اور امریکا کے درمیان رابطے ہوئے ہیں، جس میں امریکا نے آپریشن پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ آپریشن سے افغانستان میں انتخابات کا عمل متاثر ہو سکتا ہے، جب کہ پاکستان نے اپنے موقف میں کہا ہے کہ افغانستان ان دہشتگردوں کو پناہ نہ دے جو آپریشن کے ڈر سے بھاگ کر وہاں پناہ لینا چاہتے ہیں۔ ملک دشمن عناصر اس آپریشن کی یک طرفہ اور من مانی توجیحات اور محرکات پر گوہر افشانی کے ساتھ ساتھ ہولناک تبصروں سے ارباب حل و عقد کے صبر و تدبر کو بھی آزمائیں گے لیکن یہی وقت ہے کہ تمام سیاسی رہنما، اپوزیشن سمیت حکومت کی رہنمائی اور اس سے مشاورت میں دور اندیشی، کشادہ دلی اور اعلیٰ ظرفی کا مظاہرہ کریں۔ یہ قومی کاز ہے، منزل سب کی امن، استحکام، ترقی اور لاقانونیت و دہشت گردی کا خاتمہ ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق گزشتہ رات وزیر داخلہ چوہدری نثار اور وزیر اطلاعات و نشریات پرویز رشید کی زیر صدارت کوئٹہ آمد کے بعد اعلی سطح کا اجلاس ہوا جس میں کور کمانڈرز، آئی جی بلوچستان، چیف سیکریٹری اور وزیر اعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک نے شرکت کی۔ اجلاس میں فیصلہ ہوا کہ فرقہ واریت کے جتنے بھی واقعات ہو رہے ہیں ان میں لشکر جھنگوی ملوث ہے لہٰذا اس کے خلاف آپریشن ضروری ہو گیا ہے۔ اس کے علاوہ بھی جو گروپس ہیں ان کے خلاف بھی کارروائی ہونی چاہیے تا کہ بدامنی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ ادھر طالبان سے مذاکرات یا آپریشن کے حوالے سے حکومتی ذمے داروں نے سیاسی رہنماؤں سے رابطے شروع کر دیئے ہیں۔ وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے جمعے کو جماعت اسلامی کے امیر سید منور حسن سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے موجودہ ملکی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ وزیر داخلہ کے رابطے پر امیر جماعت اسلامی نے باور کرایا کہ نمائشی مشاورت یا اجلاس کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا، حکومت کو بتانا پڑے گا کہ 9 ستمبر کے مینڈیٹ پر کہاں تک پیش رفت ہوئی۔
چوہدری نثار کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے سدباب کے لیے جو ممکنہ اقدامات ہوں گے، کریں گے اور تمام فیصلے سیاسی قیادت کی مشاورت سے کیے جائیں گے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم میاں نواز شریف کو کھل کر سامنے آنا چاہیے اور بتانا چاہیے کہ اے پی سی کے بعد ہم نے مذاکرات کی کوشش کی تھی لیکن دوسری طرف سے مذکرات کے لیے سنجیدگی نظر نہیں آئی اور مذاکرات کے ساتھ ساتھ ہماری فوج، میڈیا، پولیو ورکرز اور عام شہریوں پر حملے ہوتے رہے، ان کو بتانا چاہیے کہ وہ کیا حالات تھے کہ ہمیں دوسرا آپشن استعمال کرنا پڑا۔ خیبر پختونخوا حکومت نے مرکز کی جانب سے شمالی وزیرستان میں آپریشن کے معاملہ پر صوبہ کو اعتماد میں لیے جانے تک خاموشی اختیار کرنے اور معاملہ سے خود کو الگ تھلگ رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ المیہ ہے کہ پرامن اور بے ضرر ہزارہ برادری کو وقفہ وقفہ سے ٹارگٹ کیا جا رہا ہے، ان پر دو عشروں سے بلاجواز مظالم اور ٹارگٹ کلنگ کا سلسلہ روکنے کے لیے دہشت گردی مخالف حکمت عملی کا از سر نو جائزہ لیا جائے اور چابک دستی و مستعدی کے ساتھ سانحہ کے ذمے داروں کو گرفتار کر کے قرار واقعی سزا دلائی جائے۔ قانون شکنی کے وسیع تر دائرے کا ادارک کرتے ہوئے یہ یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ اب جب کہ پانی سر سے اونچا ہو گیا ہے ارباب اختیار کسی قسم کے تذبذب اور ''ویٹ اینڈ سی'' کے بغیر اہداف پر فوکس کریں گے اور ملک کو بدامنی، دہشت گردی، شورش اور بہیمانہ جرائم سے پاک کرنے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے۔ قانون نافذ کرنے والی فورسز کا ہدف کوئٹہ سے لے کر ہر اس علاقے تک محیط ہونا چاہیے جہاں ملزمان کے روپوش ہونے کے امکانات ہو سکتے ہیں۔ آپریشن مربوط اور صوبائی حکام، فورسز کا بین الصوبائی اشتراک عمل اور انٹیلی جنس کی شیئرنگ کا موثر نیٹ ورک ہمہ وقت فعال رہنا چاہیے کیونکہ پورا ملک دہشت گردی کی زد میں ہے، گزشتہ روز کراچی، حیدرآباد، کوٹری، جامشورو سمیت اندرون سندھ کے مختلف شہروں میں نامعلوم افراد کی جانب سے 46 کریکر حملے کیے گئے تاہم حملوں میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، لیکن معمول بنا ہوا ہے کہ ہر روز ہلاکتیں ہو رہی ہیں، زمینی حقائق انتہائی اعصاب شکن ہیں، بلوچستان کی سیاسی اور سماجی صورتحال آتش فشاں ہے اور جب تک بلوچستان میں فرقہ وارانہ اور سیاسی ہلاکتوں میں ملوث افراد کو قانون کی گرفت میں نہیں لایا جائے گا۔
قتل و غارت کا سلسلہ نہیں رکے گا۔ یہ امر خوش آئند ہے کہ وفاقی حکومت نے وزیر اعظم کی ہدایت پر بلوچستان حکومت کو سی ون تھرٹی طیارہ فراہم کیا تا کہ وہ تفتان بارڈر کے علاقے میں حکومتی مدد کے منتظر بے یار و مددگار زائرین کو اس خصوصی طیارے کے ذریعے واپس ان کے گھروں تک پہنچا سکیں، علاوہ ازیں تفتان پہنچنے والے ڈیڑھ سو سے زائد زائرین کو سخت سیکیورٹی میں دالبندین ایئرپورٹ سے بذریعہ طیارہ کوئٹہ منتقل کردیا گیا، اسی مستعدی کے ساتھ سانحہ کے ذمے داروں کو گرفتار کر کے قرار واقعی سزا دلائی جائے۔ یاد رہے کہ بلوچستان میں بگٹیوں کی نقل مکانی ختم کر کے اپنے گھروں کو واپسی کا منظر بھی دھرنے سے جڑ گیا۔ شاہ زین بگٹی نے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ سے مذاکرات کے بعد دھرنا ختم کرنے کے بجائے اس کا مقام تبدیل کر دیا ہے۔ اس تمام منظر نامے میں صائب ہو گا کہ اندرون خانہ مفاہمت اور مصالحت کی کوششیں مزید تیز کی جائیں۔