کورونا وباء کا پھیلاؤ
کورونا وباکے حوالے سے جواعدادوشماردیے جارہے ہیں انھیں دیکھ کرتویہی لگتاہے کہ ملک میں یہ وبادوبارہ تیزی سے پھیل رہی ہے۔
کورونا وباکے حوالے سے جواعدادوشماردیے جارہے ہیں انھیں دیکھ کرتویہی لگتاہے کہ ملک میں یہ وبادوبارہ تیزی سے پھیل رہی ہے۔ (فوٹو: فائل)
اتوار کے روز ''آپ کا وزیراعظم آپ کے ساتھ'' پروگرام میں فون کالز اور سوشل میڈیا پیغامات کے ذریعہ عوام سے براہ راست گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا ہم نے مشکل لیکن بروقت فیصلوں سے عوام اور معیشت کو کورونا سے بچایا۔ کورونا کی چوتھی لہر کے حوالے سے عوام ایس او پیز پر سختی سے عمل کریں۔
سندھ حکومت کے لاک ڈاؤن کے فیصلے کے بارے میں انھوں نے کہا کہ اس سے وائرس کا پھیلاؤ تو کم ہو گا لیکن دوسری طرف ہمیں دیکھنا ہے کہ عوام اور معیشت کو کس طرح بچانا ہے، لاک ڈاؤن کی وجہ سے دیہاڑی دار طبقہ کیسے گزارا کرے گا اور جب تک ان کی خوراک اور دیگر ضروریات کا مکمل بندوبست نہ ہو 'لاک ڈاؤن نہیں ہونا چاہیے۔ بھارت نے لاک ڈاؤن کے فیصلہ سے اپنی تباہی کر لی۔ تین کروڑ سے زائد افراد کو ویکسین لگا چکے، ویکسین کی بروقت فراہمی کے لیے حکومت پوری کوشش کر رہی ہے۔
ادھر ملک بھر میں کورونا وائرس کی وبا کے باعث ایک دن میں مزید62 افراد جاں بحق ہو گئے۔یومیہ مثبت کیسز کی شرح بڑھ کر 8.8 فیصد ہو گئی۔وفاقی وزیر اسد عمر کا کہنا ہے کہ کورونا کی خراب صورتحال کے باعث بڑے شہروں میں پابندیوں میں اضافے کا امکان ہے۔ ملک میں ویکسین لگانے والوںکی تعداد تین کروڑ سے تجاوز کر گئی ہے۔
پنجاب میں محرم الحرام کے دوران موبائل ویکسینیشن کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی)کے مطابق اگلے روز تک ملک میں مجموعی کورونا متاثرین 10لاکھ34 ہزار837 ہو چکے ہیں۔ 9لاکھ 41ہزار 659 صحت یاب ہو چکے ہیں۔ اس وقت فعال مریض بڑھ کر69 ہزار 756 ہو گئے ہیں۔ اب تک کورونا سے23 ہزار 422 اموات ہو چکی ہیں۔
اگلے روز سندھ میں30، پنجاب18، خیبر پختونخوا 6، اسلام آباد2، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں 3،3 کورونا مریض انتقال کر گئے۔ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر اسد عمر نے کہا ہے کہ خطے کے ممالک میں کورونا صورتحال بد تر ہورہی ہے۔
ملک میں کورونا کی چوتھی لہر کی بنیاد کورونا کی بھارتی قسم ہے جس سے صورتحال خراب ہو رہی ہے۔ جس کے نتیجے میں کچھ بڑے شہروں میں پابندیوں میں اضافے کا امکان ہے۔ این سی اوسی کے پلیٹ فارم کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں۔ ہم ایک ٹارگٹڈ طریقے سے بندشیں لگاتے ہیں تاکہ لوگوں کو پریشانی نہ ہو۔ ہر بار کورونا پھیلاؤ روکنے میں کامیاب ہوئے۔ پاکستان میں ایسی صورتحال نہیں دیکھی گئی جو خطے میں تھی۔ وبا علاقائی حدود اور سرحدیں نہیں دیکھتی۔ عوام ماسک پہنیں اور سماجی فاصلہ اختیار کریں۔ جنھوں نے ویکسین نہیں لگوائی وہ جلد ازجلد لگوائیں۔
انھوں نے کہا کہ ملک میں اربوں روپے کی ویکسین منگوائی گئی ہے۔ملک میں تین کروڑپانچ لاکھ 90 ہزار سے زائد افراد کو ویکسین لگائی جا چکی ہے۔ پہلی ایک کروڑ ویکسین 113 دن میں لگی۔ دوسرے کروڑ میں28 دن، تیسرے مرحلہ پر ایک کروڑافراد کی ویکسینیشن میں صرف16 دن لگے۔پچھلے چھ دنوں میں روزانہ ویکسین لگانے کے نئے ریکارڈ قائم ہوئے۔ اگلے روز 9لاکھ 34 ہزار افراد کو ویکسین لگی۔ 3ہزارموبائل یونٹس لوگوں کوگھرگھرجاکرویکسی نیشن کررہے ہیں ۔اس موقع پر ڈاکٹر فیصل سلطان نے کہا کہ چوتھی لہر سے اسپتالو ں پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔
کورونا ویکسی نیشن کرانے سے ہی ہم چوتھی لہر سے نکل سکیںگے۔ سرگودھا سے مسلم لیگ (ن) کے رکن قومی اسمبلی حامد حمیدکورونا کا شکار' گھر میں قرنطینہ ہو گئے۔ پنجاب حکومت نے صوبے میں محرم الحرام کے دوران موبائل ویکسینیشن ٹیمیں تعینات کرنے کا فیصلہ کرلیا ۔ سیکریٹری محکمہ پرائمری اینڈ سکینڈری ہیلتھ پنجاب سارہ اسلم کاکہنا ہے کہ تمام اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز کو مراسلہ جاری کر دیا گیا ہے۔مجالس اور جلوس میں شرکت سے پہلے ویکسین لازمی لگوالیں۔
عزاداروں کی سہولت کے لیے ویکسینیشن ٹیمیں امام بارگاہوں، مجالس اور جلوسوں کے داخلی راستوں پر تعینات ہوںگی۔ یکم اگست سے اندرون ملک ویکسینیشن سرٹیفکیٹ کے بغیر فضائی سفر پر پابندی پر عمل درآمد شروع ہو گیا۔ تمام ایئر پورٹس کے ڈومیسٹک لاؤجز میں ویکسین سرٹیفیکیٹ کی چیکنگ کے لیے خصوصی کاؤنٹر قائم کیے گئے ہیں۔
این سی او سی کے مطابق مسافروں کو ویکسین کی کم از کم ایک خوراک لگوانا لازمی ہے۔ 18 سال سے کم عمر مسافروں، بیرون ملک سفر کرنے والے اور غیرملکی شہریوں کواستثنیٰ ہے۔نیواسلام آباد انڑنیشنل ائیرپورٹ پر اندرون ملک پروزاوں پر سفر کرنیو الے بتیس مسافروں کو ویکسین سرٹیفیکیٹ نہ ہونے پر سفر سے روک دیاگیا۔جناح ٹرمینل کراچی سے اسلام آباد جانے والی پرواز کے 8 مسافروں کو بھی ویکسین نہ لگوانے کے باعث آف لوڈ کر دیا گیا۔ بورڈنگ پاس ویکسینیشن سے مشروط کیا گیا ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے لاہور سمیت صوبے بھر میں کورونا ایس او پیز پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنانے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ مانیٹرنگ ٹیمیں بازاروں ، مارکیٹوں اور دیگر مقامات کی تسلسل کے ساتھ چیکنگ کریں ، حکومتی ہدایات کی خلاف ورزی پر قانون کے تحت کارروائی کی جائے ، شہریو ں کی زندگیوں کے تحفظ کے لیے ہر ضروری اقدام پہلے بھی اٹھایا آیندہ بھی اٹھائیں گے ، ایس او پیز پر عمل نہ کرنے کے باعث کورونا کیسوں میں اضافہ ہورہا ہے ، بے احتیاطی کے باعث اسپتالوں میں کورونا مریضوں کی تعداد بڑھ رہی ہے ، شہریوں سے اپیل ہے کہ وہ حکومتی ہدایات پر عمل کریں ، کورونا کی چوتھی لہر کی روک تھام کے لیے شہریو ں کا تعاون ضروری ہے۔
علاوہ ازیں عثمان بزدار نے کہا کہ پنجاب حکومت شہریوں کو کورونا کی چوتھی لہر سے بچانے کے لیے ہر ممکن اقدامات اٹھا رہی ہے ، شہریوں کی حفاظت کے لیے حکومت نے گائیڈ لائنز جاری کی ہیں ، حکومتی ہدایات پر عملدرآمد کرنا شہریوں کے مفاد میں ہے۔
ایس او پیز پر عمل کر کے شہری نہ صرف خود کورونا سے محفوظ رہ سکتے ہیں بلکہ دوسروں کو بھی محفوظ بنا سکتے ہیں ، خدانخواستہ مثبت کیسوں کی شرح میں مزید اضافہ ہوا تو ایک بار پھر اسمارٹ لاک ڈاؤن کرنا لگ سکتا ہے ، پابندیوں سے بچنے کے لیے شہریوں کو احتیاط کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے ، شہریوں سے اپیل ہے کہ وہ ماسک کا استعمال کریں اور سماجی فاصلے برقرار رکھیں ، عوام کی زندگیوں کے تحفظ کے لیے ہر ضروری اقدام اٹھایا جائے گا۔
وزیراعظم پاکستان کا یہ موقف درست ہے کہ مکمل لاک ڈاؤن سے ملکی معیشت بری طرح متاثر ہو گی۔ یومیہ اجرت پر کام کرنے والے افراد 'چھابڑی فروش وغیرہ مکمل لاک ڈاؤن سے سب سے زیادہ متاثر ہوں گے' اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کورونا وبا کے پیش نظر کیا طریقہ کار اختیار کیا جائے جس کے نتیجے میں کاروباری سرگرمیاں بھی جاری رہیں اور کورونا وبا کے پھیلاؤ کو بھی روکا جا سکے۔
کورونا وبا کے حوالے سے جو اعدادوشمار دیے جا رہے ہیں انھیں دیکھ کر تو یہی لگتا ہے کہ ملک میں یہ وبا دوبارہ تیزی سے پھیل رہی ہے بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ گزشتہ دو برس سے دنیا اس وبائی مرض کا شکار چلی آ رہی ہے۔ ترقی یافتہ ملکوں کی صورت حال بھی کچھ زیادہ اچھی نہیں ہے تاہم وہاں کی حکومتوں نے بہتر انتظامات کر کے اور حکمت عملی بنا کر کورونا وبا کی شدت کو کم رکھا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکا 'جاپان اور دیگر ترقی یافتہ ملکوں میں ایس او پیز پر عمل بھی ہو رہا ہے اور کاروباری سرگرمیاں بھی جاری و ساری ہیں۔
ان ملکوں میں ویکسینیشن بھی 100فیصد کے قریب پہنچ چکی ہے۔ اس کے برعکس اگر ہم پاکستان کی صورت حال کا جائزہ لیں تو ہمیں حکومت اور عوام دونوں کی طرف سے عدم توجہ نظر آتی ہے' بھارت کے جس وائرس کا ذکر کیا جا رہا ہے ' اس کی روک تھام کے لیے وفاقی حکومت کے جو فرائض ہیں کیا وہ انھیں پوری تندہی سے ادا کر رہی ہے۔
ملک کے تمام ایئرپورٹس پر کڑی نگرانی ہو رہی ہے ؟ کیونکہ ڈیلٹا وائرس پاکستان میں موجود نہیں تھا' یہ بھارت سے پھیل رہا ہے' وفاقی حکومت کو چاہیے تھا کہ وہ بیرون ملک سے پاکستان آنے والے مسافروں کو امیگریشن سے پہلے چیک کرنے کا بندوبست کرے اور انھیں 15دن کا قرنطینہ حکومتی نگرانی میں کرایا جائے اور پھر انھیں باہر نکلنے کی اجازت دی جائے لیکن ایسا نظر نہیں آ رہا۔ اب دو روز کے لیے مارکیٹیں بند کرنے کی اجازت دی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ صوبائی حکومتیں اپنے اپنے حساب سے اقدامات کریں۔ افغانستان میں کورونا کی صورت حال انتہائی خراب ہے' وہاں سے اعدادوشمار بھی نہیں آ رہے اور نہ ہی اس ملک میں اس جانب کوئی کام کیا جا رہا ہے۔
پاکستان کو چاہیے کہ وہ افغانستان کے ساتھ سرحدوں کو مکمل طور پر سیل کر دے۔افغانستان ٹرانزٹ ٹریڈ کے ذریعے جو افراد آتے جاتے ہیں ان کا کورونا ٹیسٹ سرٹیفکیٹ لازم قرار دیا جائے ' اسی طرح ایران کی سرحد کو بھی بند کر دیا جائے تاکہ وہاں سے بھی یہ وائرس پاکستان نہ آ سکے۔
سندھ حکومت کے لاک ڈاؤن کے فیصلے کے بارے میں انھوں نے کہا کہ اس سے وائرس کا پھیلاؤ تو کم ہو گا لیکن دوسری طرف ہمیں دیکھنا ہے کہ عوام اور معیشت کو کس طرح بچانا ہے، لاک ڈاؤن کی وجہ سے دیہاڑی دار طبقہ کیسے گزارا کرے گا اور جب تک ان کی خوراک اور دیگر ضروریات کا مکمل بندوبست نہ ہو 'لاک ڈاؤن نہیں ہونا چاہیے۔ بھارت نے لاک ڈاؤن کے فیصلہ سے اپنی تباہی کر لی۔ تین کروڑ سے زائد افراد کو ویکسین لگا چکے، ویکسین کی بروقت فراہمی کے لیے حکومت پوری کوشش کر رہی ہے۔
ادھر ملک بھر میں کورونا وائرس کی وبا کے باعث ایک دن میں مزید62 افراد جاں بحق ہو گئے۔یومیہ مثبت کیسز کی شرح بڑھ کر 8.8 فیصد ہو گئی۔وفاقی وزیر اسد عمر کا کہنا ہے کہ کورونا کی خراب صورتحال کے باعث بڑے شہروں میں پابندیوں میں اضافے کا امکان ہے۔ ملک میں ویکسین لگانے والوںکی تعداد تین کروڑ سے تجاوز کر گئی ہے۔
پنجاب میں محرم الحرام کے دوران موبائل ویکسینیشن کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی)کے مطابق اگلے روز تک ملک میں مجموعی کورونا متاثرین 10لاکھ34 ہزار837 ہو چکے ہیں۔ 9لاکھ 41ہزار 659 صحت یاب ہو چکے ہیں۔ اس وقت فعال مریض بڑھ کر69 ہزار 756 ہو گئے ہیں۔ اب تک کورونا سے23 ہزار 422 اموات ہو چکی ہیں۔
اگلے روز سندھ میں30، پنجاب18، خیبر پختونخوا 6، اسلام آباد2، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں 3،3 کورونا مریض انتقال کر گئے۔ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر اسد عمر نے کہا ہے کہ خطے کے ممالک میں کورونا صورتحال بد تر ہورہی ہے۔
ملک میں کورونا کی چوتھی لہر کی بنیاد کورونا کی بھارتی قسم ہے جس سے صورتحال خراب ہو رہی ہے۔ جس کے نتیجے میں کچھ بڑے شہروں میں پابندیوں میں اضافے کا امکان ہے۔ این سی اوسی کے پلیٹ فارم کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں۔ ہم ایک ٹارگٹڈ طریقے سے بندشیں لگاتے ہیں تاکہ لوگوں کو پریشانی نہ ہو۔ ہر بار کورونا پھیلاؤ روکنے میں کامیاب ہوئے۔ پاکستان میں ایسی صورتحال نہیں دیکھی گئی جو خطے میں تھی۔ وبا علاقائی حدود اور سرحدیں نہیں دیکھتی۔ عوام ماسک پہنیں اور سماجی فاصلہ اختیار کریں۔ جنھوں نے ویکسین نہیں لگوائی وہ جلد ازجلد لگوائیں۔
انھوں نے کہا کہ ملک میں اربوں روپے کی ویکسین منگوائی گئی ہے۔ملک میں تین کروڑپانچ لاکھ 90 ہزار سے زائد افراد کو ویکسین لگائی جا چکی ہے۔ پہلی ایک کروڑ ویکسین 113 دن میں لگی۔ دوسرے کروڑ میں28 دن، تیسرے مرحلہ پر ایک کروڑافراد کی ویکسینیشن میں صرف16 دن لگے۔پچھلے چھ دنوں میں روزانہ ویکسین لگانے کے نئے ریکارڈ قائم ہوئے۔ اگلے روز 9لاکھ 34 ہزار افراد کو ویکسین لگی۔ 3ہزارموبائل یونٹس لوگوں کوگھرگھرجاکرویکسی نیشن کررہے ہیں ۔اس موقع پر ڈاکٹر فیصل سلطان نے کہا کہ چوتھی لہر سے اسپتالو ں پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔
کورونا ویکسی نیشن کرانے سے ہی ہم چوتھی لہر سے نکل سکیںگے۔ سرگودھا سے مسلم لیگ (ن) کے رکن قومی اسمبلی حامد حمیدکورونا کا شکار' گھر میں قرنطینہ ہو گئے۔ پنجاب حکومت نے صوبے میں محرم الحرام کے دوران موبائل ویکسینیشن ٹیمیں تعینات کرنے کا فیصلہ کرلیا ۔ سیکریٹری محکمہ پرائمری اینڈ سکینڈری ہیلتھ پنجاب سارہ اسلم کاکہنا ہے کہ تمام اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز کو مراسلہ جاری کر دیا گیا ہے۔مجالس اور جلوس میں شرکت سے پہلے ویکسین لازمی لگوالیں۔
عزاداروں کی سہولت کے لیے ویکسینیشن ٹیمیں امام بارگاہوں، مجالس اور جلوسوں کے داخلی راستوں پر تعینات ہوںگی۔ یکم اگست سے اندرون ملک ویکسینیشن سرٹیفکیٹ کے بغیر فضائی سفر پر پابندی پر عمل درآمد شروع ہو گیا۔ تمام ایئر پورٹس کے ڈومیسٹک لاؤجز میں ویکسین سرٹیفیکیٹ کی چیکنگ کے لیے خصوصی کاؤنٹر قائم کیے گئے ہیں۔
این سی او سی کے مطابق مسافروں کو ویکسین کی کم از کم ایک خوراک لگوانا لازمی ہے۔ 18 سال سے کم عمر مسافروں، بیرون ملک سفر کرنے والے اور غیرملکی شہریوں کواستثنیٰ ہے۔نیواسلام آباد انڑنیشنل ائیرپورٹ پر اندرون ملک پروزاوں پر سفر کرنیو الے بتیس مسافروں کو ویکسین سرٹیفیکیٹ نہ ہونے پر سفر سے روک دیاگیا۔جناح ٹرمینل کراچی سے اسلام آباد جانے والی پرواز کے 8 مسافروں کو بھی ویکسین نہ لگوانے کے باعث آف لوڈ کر دیا گیا۔ بورڈنگ پاس ویکسینیشن سے مشروط کیا گیا ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے لاہور سمیت صوبے بھر میں کورونا ایس او پیز پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنانے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ مانیٹرنگ ٹیمیں بازاروں ، مارکیٹوں اور دیگر مقامات کی تسلسل کے ساتھ چیکنگ کریں ، حکومتی ہدایات کی خلاف ورزی پر قانون کے تحت کارروائی کی جائے ، شہریو ں کی زندگیوں کے تحفظ کے لیے ہر ضروری اقدام پہلے بھی اٹھایا آیندہ بھی اٹھائیں گے ، ایس او پیز پر عمل نہ کرنے کے باعث کورونا کیسوں میں اضافہ ہورہا ہے ، بے احتیاطی کے باعث اسپتالوں میں کورونا مریضوں کی تعداد بڑھ رہی ہے ، شہریوں سے اپیل ہے کہ وہ حکومتی ہدایات پر عمل کریں ، کورونا کی چوتھی لہر کی روک تھام کے لیے شہریو ں کا تعاون ضروری ہے۔
علاوہ ازیں عثمان بزدار نے کہا کہ پنجاب حکومت شہریوں کو کورونا کی چوتھی لہر سے بچانے کے لیے ہر ممکن اقدامات اٹھا رہی ہے ، شہریوں کی حفاظت کے لیے حکومت نے گائیڈ لائنز جاری کی ہیں ، حکومتی ہدایات پر عملدرآمد کرنا شہریوں کے مفاد میں ہے۔
ایس او پیز پر عمل کر کے شہری نہ صرف خود کورونا سے محفوظ رہ سکتے ہیں بلکہ دوسروں کو بھی محفوظ بنا سکتے ہیں ، خدانخواستہ مثبت کیسوں کی شرح میں مزید اضافہ ہوا تو ایک بار پھر اسمارٹ لاک ڈاؤن کرنا لگ سکتا ہے ، پابندیوں سے بچنے کے لیے شہریوں کو احتیاط کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے ، شہریوں سے اپیل ہے کہ وہ ماسک کا استعمال کریں اور سماجی فاصلے برقرار رکھیں ، عوام کی زندگیوں کے تحفظ کے لیے ہر ضروری اقدام اٹھایا جائے گا۔
وزیراعظم پاکستان کا یہ موقف درست ہے کہ مکمل لاک ڈاؤن سے ملکی معیشت بری طرح متاثر ہو گی۔ یومیہ اجرت پر کام کرنے والے افراد 'چھابڑی فروش وغیرہ مکمل لاک ڈاؤن سے سب سے زیادہ متاثر ہوں گے' اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کورونا وبا کے پیش نظر کیا طریقہ کار اختیار کیا جائے جس کے نتیجے میں کاروباری سرگرمیاں بھی جاری رہیں اور کورونا وبا کے پھیلاؤ کو بھی روکا جا سکے۔
کورونا وبا کے حوالے سے جو اعدادوشمار دیے جا رہے ہیں انھیں دیکھ کر تو یہی لگتا ہے کہ ملک میں یہ وبا دوبارہ تیزی سے پھیل رہی ہے بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ گزشتہ دو برس سے دنیا اس وبائی مرض کا شکار چلی آ رہی ہے۔ ترقی یافتہ ملکوں کی صورت حال بھی کچھ زیادہ اچھی نہیں ہے تاہم وہاں کی حکومتوں نے بہتر انتظامات کر کے اور حکمت عملی بنا کر کورونا وبا کی شدت کو کم رکھا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکا 'جاپان اور دیگر ترقی یافتہ ملکوں میں ایس او پیز پر عمل بھی ہو رہا ہے اور کاروباری سرگرمیاں بھی جاری و ساری ہیں۔
ان ملکوں میں ویکسینیشن بھی 100فیصد کے قریب پہنچ چکی ہے۔ اس کے برعکس اگر ہم پاکستان کی صورت حال کا جائزہ لیں تو ہمیں حکومت اور عوام دونوں کی طرف سے عدم توجہ نظر آتی ہے' بھارت کے جس وائرس کا ذکر کیا جا رہا ہے ' اس کی روک تھام کے لیے وفاقی حکومت کے جو فرائض ہیں کیا وہ انھیں پوری تندہی سے ادا کر رہی ہے۔
ملک کے تمام ایئرپورٹس پر کڑی نگرانی ہو رہی ہے ؟ کیونکہ ڈیلٹا وائرس پاکستان میں موجود نہیں تھا' یہ بھارت سے پھیل رہا ہے' وفاقی حکومت کو چاہیے تھا کہ وہ بیرون ملک سے پاکستان آنے والے مسافروں کو امیگریشن سے پہلے چیک کرنے کا بندوبست کرے اور انھیں 15دن کا قرنطینہ حکومتی نگرانی میں کرایا جائے اور پھر انھیں باہر نکلنے کی اجازت دی جائے لیکن ایسا نظر نہیں آ رہا۔ اب دو روز کے لیے مارکیٹیں بند کرنے کی اجازت دی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ صوبائی حکومتیں اپنے اپنے حساب سے اقدامات کریں۔ افغانستان میں کورونا کی صورت حال انتہائی خراب ہے' وہاں سے اعدادوشمار بھی نہیں آ رہے اور نہ ہی اس ملک میں اس جانب کوئی کام کیا جا رہا ہے۔
پاکستان کو چاہیے کہ وہ افغانستان کے ساتھ سرحدوں کو مکمل طور پر سیل کر دے۔افغانستان ٹرانزٹ ٹریڈ کے ذریعے جو افراد آتے جاتے ہیں ان کا کورونا ٹیسٹ سرٹیفکیٹ لازم قرار دیا جائے ' اسی طرح ایران کی سرحد کو بھی بند کر دیا جائے تاکہ وہاں سے بھی یہ وائرس پاکستان نہ آ سکے۔