صنعتی پلاٹس کی تجارت کرنے والوں کے احتساب کا فیصلہ

وفاقی حکومت نے مختلف اداروں سے ماضی میں رعایتی قیمتوں پر صنعتی پلاٹ حاصل کرنے والوں کا ڈیٹا حاصل کرنے کا فیصلہ کیا ہے

آئندہ صنعتوں کے لیے پلاٹس کی الاٹمنٹ کاروباری یونٹ کے قیام، پیداوار اور آپریشنل ہونے کے ٹائم فریم، معائنہ کاری سے مشروط کرنے کی بھی تجویزہے، ذرائع۔ فوٹو: فائل

وفاقی حکومت نے ملک بھر میں صنعتوں کے فروغ کیلیے ایف پی سی سی آئی اور چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کی سفارش پر رعایتی نرخوں پر الاٹ کردہ صنعتی پلاٹوں کی ٹریڈنگ اوران کا غلط استعمال کرنے والے عناصر کے خلاف کارروائی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اس ضمن میں ذرائع نے بتایا کہ وفاقی حکومت نے سی ڈی اے، ایل ٹی ڈی اے، پی ڈی اے اور کے ڈی اے سمیت ملک کے دیگر اداروں سے ماضی میں رعایتی قیمتوں پر صنعتی پلاٹ حاصل کرنے والوں کا ڈیٹا حاصل کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس میں یہ چیک کیا جائے گا کہ ماضی میں ایف پی سی سی آئی اور چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹریز سمیت دیگر ٹریڈ آرگنائزیشنز کی سفارش اور مطالبے پر جو رعایتی قیمت پر صنعتی و کمرشل پلاٹس الاٹ کیے گئے تھے وہ کن لوگوں کو الاٹ ہوئے اور ان میں سے کتنے فیصد پلاٹس پر وہی صنعتیں قائم کی گئی ہیں جن صنعتوں کے قیام کے نام پر یہ پلاٹ حاصل کیے گئے تھے اور کتنے فیصد ایسے پلاٹس ہیں جو صنعتیں لگانے کے نام پر حاصل کیے گئے مگر بعد میں انہیں فروخت کیا جاتا رہا ہے اور جو لوگ رعایتی پلاٹس حاصل کرکے ان کی ٹریڈنگ میں ملوث رہے ہیں وہ کون لوگ ہیں کیا وہ حقیقت میں صنعتکار تھے یا نہیں تھے۔




علاوہ ازیں یہ بھی چیک کیا جائیگا کہ کتنے فیصد صنعتی پلاٹس کا متعلقہ اتھارٹیز کے حکام کی ملی بھگت سے چینج آف ٹریڈ کے ذریعے غلط استعمال کیا گیا ہے اور صنعتوں کے قیام پر حاصل کردہ کتنے پلاٹس ویئر ہاوسز کے لیے استعمال ہورہے ہیں اور کتنے فیصد پلاٹس پر عمارت تعمیر کرکے انہیں گودام کے طور پر کرائے پر دیا گیا ہے، اسی طرح کتنے پلاٹس عمارتیں تعمیر کرکے غیر ملکیوں کو کرائے پر دے رکھے ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ مذکورہ ڈیٹا مرتب ہونے کے بعد جو عناصر غلط اور غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث پائے جائیں گے ان کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

اس کے علاوہ چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹریز سمیت دیگر ٹریڈ یونینز کی طرف سے اب نئے صنعتی و کمرشل پلاٹس کی الاٹمنٹس کے مطالبے پر ریکارڈ چیک کیا جائے گا جس میں یہ دیکھا جائیگا کہ کس چیمبر آف کامرس یا ٹریڈ یونین کی طرف سے صنعت کاروں و تاجروں کو پلاٹس الاٹ کرنے کا مطالبہ کیا جارہا ہے اس چیمبر اور ٹریڈ یونین کی سفارش پر پہلے کتنے پلاٹس دیے گئے ہیں اور ان کا استعمال کیسا رہا ہے، اس ریکارڈ کی بنیاد پر پلاٹس کی الاٹمنٹس ہوں گی اور کسی کو صنعتوں کے نام پر پلاٹ حاصل کرکے مال بنانے کی اجازت نہیں دی جائیگی، جس مقصد کیلیے پلاٹ لیا جائے گا اسی مقصد کیلیے استعمال کو بھی یقینی بنایا جائیگا۔ ذرائع کے مطابق ایک یہ تجویز بھی زیر غور ہے کہ اگر آئندہ صنعتوں کے لیے کمرشل یا صنعتی پلاٹس الاٹ ہونگے تو ان کیلیے شرائط عائد کی جائیں گی اور صنعتوں و کاروباری یونٹ کے قیام، پیداوار اور آپریشنل ہونے کا ٹائم فریم دیا جائے گا جس کی انسپیکشن بھی کی جائیگی اور جو لوگ طے شدہ ٹائم فریم پر پورا نہیں اتریں گے انہیں جرمانے کیے جائیں گے اور مسلسل خلاف ورزی پر پلاٹس بھی منسوخ کیے جاسکیں گے۔
Load Next Story