جی ایس پی پلس سے فائدے کے لئے 5 ارب کی ٹی یو ایف اسکیم پر زور

کالے قوانین ختم اورون ونڈوآپریشن سے ٹیکسٹائل برآمدات25 ارب ڈالر تک پہنچائی جا سکتی ہیں،ذرائع ٹیکسٹائل سیکٹر

ھارت نے ٹی یو ایف اسکیم کے تحت اپنی ٹیکسٹائل ویونگ اور پروسیسنگ انڈسٹری کی ترقی کے لیے 1 کھرب بھارتی روپے سے زائد مالیت کا فنڈ مختص کیا فوٹو: فائل

شعبہ ٹیکسٹائل نے جی ایس پی پلس کے درجے سے بھرپوراستفادے کے لیے بھارت کی طرز پرٹی یو ایف اسکیم متحرک کرکے ابتدائی طور پر5 ارب روپے کی رقم مختص کرنے کا مطالبہ کردیا ہے۔

انڈسٹری کے باخبرذرائع نے ''ایکسپریس'' کو بتایا کہ پاکستان میں بھی بھارت کی طرز پر ٹی یو ایف اسکیم کو متحرک، رائج لیبرقوانین میں چندکالے قوانین ختم اور وفاقی وصوبائی لیبرڈپارٹمنٹس کے نظام کو شفاف بناکرون ونڈو آپریشن شروع کیا جائے تو پاکستان سے صرف ٹیکسٹائل سیکٹر کی برآمدات 25 ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ بھارت نے ٹی یو ایف اسکیم کے تحت اپنی ٹیکسٹائل ویونگ اور پروسیسنگ انڈسٹری کی ترقی کے لیے 1 کھرب بھارتی روپے سے زائد مالیت کا فنڈ مختص کیا جبکہ استعمال شدہ شٹل لیس لومزکی درآمد پرقرضوں کی شرح سود میں2 فیصد اور نئی شٹل لیس لومز کی درآمد پر سود میں6 فیصدکی رعایت دی، بھارت میںٹی یو ایف اسکیم کے تحت ٹیکسٹائل صنعتوں میں مجموعی سرمایہ کاری کا 15 فیصد انکے اخراجات میں معاونت اور30 فیصد فنڈنگ مارجن منی کی مد میںفراہم کی جارہی ہے۔




ذرائع نے بتایا کہ پاکستان میں بھی سال2009 میں ٹی یو ایف اسکیم متعارف کی گئی تھی لیکن اس اسکیم کے لیے انتہائی محدود فنڈ مختص کیا گیا تھا جو صرف ٹیکسٹائل اسپننگ سیکٹر کی ترقی پر استعمال کیے گئے اور فی الوقت ٹی یو ایف اسکیم نہ صرف غیرمتحرک ہے بلکہ اس میں فنڈ بھی صفر ہے۔ اس ضمن نے ٹاول مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین افتخار ملک نے بتایا کہ پاکستان میں فی الوقت 162 لیبر قوانین رائج ہیں جبکہ یورپین یونین کی جانب سے جی ایس پی پلس کا درجہ ملنے کے بعد پاکستانی برآمدکنندہ انڈسٹری پر27 کنونشنز پر عمل درآمد لازم قراردیا گیا ہے لیکن ان کنونشنز پر عمل درآمد اس وقت تک ممکن نہیں کہ جب تک لیبرقوانین کو آسان بناکرتمام لیبر ڈپارٹمنٹس میں تعیناتی اور آپریشنل سسٹم کوشفاف نہ بنایا جائے اور مشترکہ طور پرون ونڈوآپریشن شروع نہ کیا جائے۔

انہوں نے بتایا کہ ملک میں رائج لیبرقوانین صرف اور صرف صنعتی شعبے میں خوف وہراس کا باعث ہیں، اگر کالے قوانین کو ختم کرکے شفاف اور قابل قبول نظام متعارف کرایا جائے تو پاکستان کے شعبہ ٹیکسٹائل میں نہ صرف سرمایہ کاری بڑھے گی بلکہ نئی صنعتوں کا قیام اور برآمدات میں تیز رفتاری کے ساتھ اضافہ ممکن ہے۔ انہوں نے بتایا کہ فی الوقت مقامی ٹیکسٹائل انڈسٹری جی ایس پی پلس سے بھرپور استفادے کیلیے اپنی پیداواری استعداد بڑھانے کی حکمت عملی وضع کررہی ہے لیکن ملک میں جاری توانائی بحران بالخصوص گیس کی لوڈشیڈنگ جیسے عوامل پیداواری استعداد بڑھانے کی راہ میں رکاوٹ کا باعث بن رہے ہیں۔
Load Next Story