سندھ میں بجلی کے منصوبوں میں وفاقی ادارے رکاوٹیں ڈال رہے ہیں قائم علی شاہ

تھر کول پاکستان کی انرجی لائف لائن ہے وفاقی حکومت ہماری مدد کرے،وزیراعلیٰ سندھ

2008سے پہلے یہ تنازع موجودتھا کہ کوئلہ وفاق کی ملکیت ہے یاصوبوں کی،، قائم علی شاہ فوٹو: فائل

وزیراعلیٰ سندھ سیدقائم علی شاہ نے کہاہے کہ تھرکول سمیت سندھ میں بجلی پیداکرنے کے دیگرمنصوبوں کی راہ میں وفاقی ادارے رکاوٹیں پیدا کررہے ہیں،وفاقی حکومت ان رکاوٹوں کودور کرنے میں ہماری مددکرے۔

کراچی میں''توانائی میں خود کفالت، تھرکول کی تیزترترقی اورپاورپروجیکٹس کی تنصیب'' کے موضوع پر2روزہ کانفرنس کے افتتاحی اجلاس سے خطاب میں وزیراعلیٰ سندھ نے کہاکہ تھرکے کوئلے کی ترقی پاکستان کااہم ایشوہے،2008سے پہلے یہ تنازع موجودتھا کہ کوئلہ وفاق کی ملکیت ہے یاصوبوں کی،پیپلزپارٹی کی حکومت نے یہ تنازع ہمیشہ کیلیے طے کرادیا،اب یہ بات واضح ہے کہ کوئلہ سندھ کی ملکیت ہے،1971کی پاک بھارت جنگ میں تھرکایہ علاقہ بھارت کے قبضے میں چلا گیاتھاجہاں کوئلے کے ذخائر ہیں اور ہمارے 90 ہزار فوجی بھی بھارت کی قیدمیں چلے گئے تھے،شہید ذوالفقار علی بھٹو نے بھارتی وزیراعظم اندرا گاندھی سے بات کرکے یہ علاقہ واپس لیا،یہ اب ہمیں توانائی فراہم کرے گی اوریہاں سے ہزاروں میگاواٹ بجلی پیدا ہوگی۔

کافی عرصے تک یہ سوال اٹھایاجاتارہاکہ تھرکاکوئلہ قابل استعمال ہے یانہیں،مغربی جرمنی میں ایک کانفرنس ہوئی تھی جس میں ماہرین کی رائے یہ تھی کہ تھرکا کوئلہ بجلی پیدا کرنے کے لیے نہ صرف قابل استعمال ہے بلکہ جرمنی کے کوئلے سے بھی بہترہے،عالمی بینک نے بھی تھر کے کوئلے پرلندن میں ایک کانفرنس منعقد کی تھی،اس کانفرنس میں تھر کے کوئلے کی اہمیت اجاگرکی،تھر کے کوئلے کی ترقی کے منصوبوں میں سب سے بڑی رکاوٹ مالی وسائل کی کمی ہے،ہم اینگروکے شکرگزارہیں کہ اس نے حکومت سندھ کے ساتھ مل کرسرمایہ کاری کی،31جنوری کوتھرکول فیلڈکے بلاک1میں کول مائننگ اورکول پاور جنریشن کے منصوبے کا سنگ بنیاد رکھا جائے گا،پہلے مرحلے میں660میگاواٹ بجلی پیداکی جائے گی اورپھرمرحلہ واربجلی کی پیداوار4ہزار میگاواٹ تک بڑھائی جائے گی،تھرکول کے10 بلاک ہیں اورہر بلاک سے4سے 5 ہزارمیگاواٹ بجلی پیداکی جا سکتی ہے،مجموعی طور پر 40سے50ہزارمیگاواٹ بجلی پیداہو سکے گی،نوری آبادپاورپلانٹ کی نیپرانے اب تک کلیئرنس نہیں دی اورنیپراکے دفاترکے چکرلگاتے لگاتے ہمارے جوتے گھس گئے ۔




اس طرح اگر کام ہواتو بڑے منصوبوں پرعملدرآمد کیسے ہو گا،ہم نے تھر میں انفرااسٹرکچر کی ترقی کے لیے اپنے طور پر20 ارب روپے اب تک خرچ کردیے،وزیراعظم نواز شریف نے تھرکول اینڈ انرجی بورڈ کااجلاس اسلام آبادمیں طلب کرلیا ہے،یہ بورڈ کا پہلا اجلاس ہوگاجو ان کی صدارت میں ہو گا،اس سے ان کی دلچسپی کا اندازہ لگایا جا سکتاہے۔وفاقی وزیرپٹرولیم و قدرتی وسائل شاہدخاقان عباسی نے کہا کہ اس بات میںکوئی شک نہیں کہ تھرکاکوئلہ پاکستان میں توانائی کامستقبل ہے،اس بات پر سیاسی اتفاق رائے موجودہے کہ تھر کے کوئلے سے بجلی پیدا کی جائے لیکن فنی( ٹیکنیکل )معاملات پر بھی اتفاق رائے پیدا کرنے کی ضرورت ہے اوران ٹیکنیکل ایشوزکاحل سادہ نہیں ہے ،ایک مرحلے پر ماہرین کی رائے یہ تھی کہ تھرسے کوئلے کی مائننگ ممکن نہیں،انڈر گراؤنڈ مائننگ اور گیسی فکیشن (Gasification ) کے ایشوزپربھی ہمیں سوچناہوگا،میں وفاق کی طرف سے اپنے مکمل تعاون کا یقین دلاتاہوں،وفاق کے ریگولیشن والے اداروں کی طرف سے جومسائل پیدا کیے جاتے ہیں،انھیں بھی حل کیا جائے گا،تمام ایشوز کو حل کرنے اورٹیکنیکل ایشوز پر اتفاق رائے پیدا کرنے کے لیے وفاقی اور سندھ حکومت کو مل کر کام کرناہوگا۔

وزیر اعلیٰ سندھ کے مشیر برائے خزانہ سیدمراد علی شاہ نے کہا کہ پاکستان میں توانائی کے شعبے میں خود کفالت حاصل کرنے کا انحصار اس بات پرہے کہ سندھ کے کوئلے کو ترقی دی جائے اور وہاں پاور پروجیکٹس تیزی سے قائم کیے جائیں،وفاق اور سندھ میں اس بات پر مکمل اتفاق ہے کہ تھر کے کوئلے پر کام کیاجائے۔اینگروکارپوریشن کے چیف ایگزیکٹو آفیسر علی الدین انصاری،سان ڈیگو امریکا کے انرجی کنسلٹنٹ ظہور احمد عباسی،سندھ اینگرو کول مائننگ کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر شمس الدین شیخ،وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر سکندر میندھرو،داؤد یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر فیض اللہ عباسی،بلال گروپ آف کمپنیز یو اے ای کے ڈائریکٹر ٹیکنیکل خالد عبدالحمید،برطانیہ کی کمپنی اوریکل کے چیف ایگزیکٹو آفیسر شاہ رخ خان ، سندھ اینگرو کول مائننگ کمپنی کے چیئرمین خورشیدجمالی،مہران یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر ایم اسلم عقیلی اور دیگر نے بھی کانفرنس سے خطاب کیا۔
Load Next Story