کراچی پھر لہو لہان 7پولیس اہلکاروں سمیت16افراد جاںبحق
لانڈھی میں گزشتہ روز پیش آنے والا واقعہ پولیس پرحملہ ہے،اس کا کسی سیاسی جماعت سے کوئی تعلق نہیں،ڈی آئی جی ایسٹ
کراچی:لانڈھی میں آفاق احمد کی رہائش گاہ کے باہر دستی بم حملے کا نشانہ بننے والی پولیس موبائل کے گرد امدادی کارکن کھڑے ہیں ۔فوٹو : ایکسپریس
کراچی میں پولیس موبائلوں پرحملوں،فائرنگ اورپرتشددواقعات میں7پولیس اہلکاروں سمیت16افرادہلاک ہوگئے۔جبکہ متحدہ قومی موومنٹ سے تعلق رکھنے والے رکن سندھ اسمبلی محمدکامران قاتلانہ حملے میں معجزانہ طورپرمحفوظ رہے۔
تفصیلات کے مطابق ہفتے کادن کراچی پولیس بہت بھاری گزرا، لانڈھی6نمبرپرتعینات کوئیک رسپانس فورس (کیوآرایف)کی پولیس موبائل رجسٹریشن نمبر SP-3255 پرموٹر سائیکل سوارملزمان نے فائرنگ کی اورفرارہوتے وقت دستی بم پھینک دیا،فائرنگ ودستی بم حملے کے نتیجے میں اے ایس آئی45سالہ محمدنعیم خان، کانسٹیبل 30 سالہ آصف علی الٰہی بخش اور کانسٹیبل 40سالہ خلیل احمدجاں بحق ہوگئے۔ تینوں کی لاشیں جناح اسپتال منتقل کی گئیں۔واقعے کے چندلمحوں بعدہی جائے وقوع کے قریب ہی لانڈھی الغازی اسپتال کے قریب موٹرسائیکل سواروں نے پولیس موبائل پر فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں اے ایس آئی40سالہ جاویدخان،ہیڈکانسٹیبل 40 سالہ عاصم خان ، ہیڈ کانسٹیبل 35 سالہ فدا حسین جاں بحق جبکہ50 سالہ سب انسپکٹرشہزادوخان زخمی ہوگیا۔جناح اسپتال کے شعبہ حادثات کی انچارج سیمی جمالی نے ایکسپریس کو بتایاکہ دونوں واقعات میں6 پولیس اہلکاروںکی لاشیں جبکہ ایک زخمی کوجناح اسپتال لایاگیا،زخمی اہلکارکی حالت خطرے سے باہرہے۔
ڈی آئی جی ایسٹ منیرشیخ نے بتایاکہ واقعہ پولیس پرحملہ ہے،اس کا کسی سیاسی جماعت کے رہنماکی رہائش گاہ سے کوئی تعلق نہیں،پولیس موبائل بھی اسی مقام پراکثرتعینات ہوتی ہے جبکہ ملزمان نے کسی بھی راہگیرکونشانہ نہیں بنایا،واقعہ کراچی میں جاری آپریشن کاردعمل ہوسکتاہے،دونوں واقعات میں ایک ہی گروہ ملوث ہوسکتاہے،لانڈھی 6نمبر پرفائرنگ کے واقعے کے بعدفرار ہونے والے ملزمان نے ہی لانڈھی 3نمبر پر پولیس موبائل پرفائرنگ کی۔واقعے کے بعدنامعلوم افرادنے لانڈھی کے مختلف علاقوں میں ہوائی فائرنگ کرکے دکانیں وکاروباری مراکز بند کرادیے۔فائرنگ کے واقعات کے بعدپولیس ورینجرزکی بھاری نفری علاقے میں پہنچ گئی اورمختلف گلیوں میں سرچ آپریشن شروع کردیا،رینجرزنے متعددمشتبہ افرادکوحراست میں لے کرنامعلوم مقام پرمنتقل کردیا۔
سرجانی ٹاؤن سیکٹر35-Bتیسرٹاؤن میں حجام کی دکان پرفائرنگ سے اے ایس آئی 43 سالہ صابرعلی جاں بحق ہوگیا،مقتول سرجانی تیسرٹاؤن کارہائشی تھاجواینٹی کارلفٹنگ سیل شریف آبادمیں تعینات اورڈیوٹی جانے سے قبل گھرکے قریب واقع حجام کی دکان پرشیو بنوارہاتھا،مقتول اے ایس آئی صابرعلی سی آئی ڈی کے ایس ایس پی چوہدری اسلم کی ٹیم میں بھی شامل تھااوراس نے 1992 کے آپریشن اہم کرداادا کیا تھا۔نارتھ کراچی کے علاقے سیکٹر5-C/2 میں اوصاف کلینک کے سامنے مرکزی شاہراہ پرنامعلوم افرادنے متحدہ قومی موومنٹ سے تعلق رکھنے والے رکن صوبائی اسمبلی محمدکامران کی گاڑی پرفائرنگ کردی جس کے نتیجے میں وہ معجزانہ طور پر محفوظ رہے۔ایس ایچ او بلال کالونی ساجد جاوید نے ایکسپریس کو بتایاکہ محمد کامران اپنے ایک عزیز کی رہائش گاہ سے نکلے تھے اوروہاں سے واپس جارہے تھے کہ موٹرسائیکل پر سوار 2 ملزمان نے فائرنگ کردی جبکہ ایک اورموٹر سائیکل پردو افراد ان کے بیک اپ پرتھے،محمد کامران فائرنگ کے نتیجے میں محفوظ رہے۔
ان کے پولیس گارڈنے ملزمان پرجوابی فائرنگ کی جس کے نتیجے میں ایک حملہ آورکے زخمی ہونے کی بھی اطلاع ملی ہے ، واقعے کے بعدپولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی۔پولیس نے علاقے کے نجی اسپتالوں اورکلینکس پر بھی چھاپے مارے جبکہ سرکاری اسپتالوں سے بھی معلومات حاصل کیں تاہم کہیں بھی کوئی مشکوک زخمی نہیں پہنچا۔محمد کامران صوبائی اسمبلی کے حلقہ PS-111 سے متحدہ قومی موومنٹ کے ٹکٹ پررکن اسمبلی منتخب ہوئے ہیں۔لیاقت آبادکے علاقے5نمبرسندھی ہوٹل کے قریب واقع درزی کی دکان پرموٹرسائیکل سوارملزمان نے فائرنگ کر دی جس کے نتیجے میں پیپلزپارٹی PS-107 کاکارکن 26 سالہ ایازعلی اورفائرنگ کی زدمیں آکر11 سالہ اسحاق جاں بحق ہوگیا،فائرنگ کے بعدعلاقے میں خوف وہراس پھیل گیااور نامعلوم افرادنے دکانیں و کاروبار بند کرا دیا،فائرنگ کی زدمیں آکرجاں بحق ہونے والا اسحاق لیاقت آباد5 نمبر کا رہائشی تھاجس کی ہلاکت کی اطلاع اہلخانہ کوپہنچی تو گھرمیں کہرام مچ گیا۔پولیس کاکہناہے کہ پیپلزپارٹی کے مقتول کارکن ایازعلی کے والدبھی پارٹی کے سینئر ورکرہیں،مقتول اسلامیہ کالج میں نائب قاصداوربلاول ہاؤس میں سیکیورٹی پرماموربھی بتایاجاتاہے۔اورنگی ٹاؤن صابری چوک کے قریب فائرنگ سے 35 سالہ صابر علی پر جاں بحق ہوگیا،مقتول کی سیاسی ومذہبی وابستگی کے حوالے سے کچھ معلوم نہیں ہوسکا۔رسالہ کے علاقے میں بابائے اردوروڈ پرفائرنگ سے 50 سالہ عسکرعلی ہلاک ہوگیا،مقتول ملک بیکری کے قریب کباب والے کے پاس بیٹھاہوا تھا کہ موٹر سائیکل سوار 2ملزمان نے اس پر فائرنگ کردی،مقتول اکال بونگاکا رہائشی اورٹرانسپورٹرتھا۔
مبینہ ٹاؤن کے علاقے میں جھنگوی روڈپرپارک کے قریب نامعلوم افراد کی فائرنگ سے 25 سالہ منظوراحمد ہلاک ہوگیااس کی کسی سیاسی یا مذہبی تنظیم سے فوری طورپر وابستگی کاعلم نہیں ہوسکا۔ماڈل کالونی کے علاقے کاظم آبادمیں فائرنگ سے 55 سالہ رضوان احمدصدیقی ہلاک ہوگیا،مقتول سیلز مین تھا، موٹر سائیکل سوار ملزمان نے اسے روکااور نہ رکنے پرگولی ماردی،مقتول ملیر جناح اسکوائر کارہائشی تھا۔لسبیلہ پل کے نیچے ندی کے قریب سے 2افرادکی تشدد زدہ ہاتھ بندھی لاشیں ملیں،مقتولین کی عمریں 25 سے30 سال کے درمیان ہیں ،انھیں نامعلوم ملزمان نے اغواکے بعد بہیمانہ تشددکا نشانہ بناکر سر پر گولیاں مار کر قتل کیا،ایک کی شناخت لیاقت آباد سی ون ایریا کے رہائشی کی حیثیت سے ہوئی ہے اور اسے بلی کے نام سے پکارا جاتاہے اور وہ لیاری گینگ وار سے تعلق رکھنے والے ساجدکے پاک کالونی میں واقع منشیات کے اڈے پرکام کرتا تھا۔شیرشاہ کے علاقے میں اکبر روڈ پرمیراں ناکہ پل کے قریب ہاتھ پاؤں بندھی 25سالہ نوجوان کی لاش ملی،مقتول کو نامعلوم ملزمان نے اغوا کے بعدبدترین تشدد کا نشانہ بنایا اور فائرنگ کرکے ہلاک کردیا،مقتول کی شناخت نہیں ہوسکی۔
سی ویو کے قریب فائرنگ سے 30 سالہ اسد،بلدیہ ٹاؤن سیکٹر 19-D میں30سالہ اسلم،لانڈھی چشمہ گوٹھ کے قریب 22 سالہ شہزاد اورسرجانی میں کے ڈی اے فلیٹس کے قریب فائرنگ سے25سالہ عثمان زخمی ہوگیا۔ وزیراعلیٰ سندھ سیدقائم علی شاہ نے لانڈھی میں پولیس موبائلوں پرحملوں اوردیگرعلاقوں میں فائرنگ کے واقعات کاسخت نوٹس لیتے ہوئے آئی جی پولیس سندھ اورایڈیشنل آئی جی پولیس کراچی سے تفصیلی رپورٹ طلب کرلی ہے اوران واقعات کی سخت مذمت کی ہے۔ وزیراعلیٰ نے پولیس اہلکاروں اورعام شہریوںکی ہلاکت پرافسوس کااظہارکر تے ہوئے غمزدہ خاندانوں سے تعزیت کااظہارکیاہے۔انھوں نے کہاکہ قانون نافذکرنے والے اہلکارعوام کی جان ومال کاتحفظ کرنے کیلیے اپنی جانوں کانذرانہ پیش کررہے ہیں،ان کی شہادتیںاورقربانیاں رائیگاں نہیں جائیںگی اوردہشت گردوں اورسماج دشمن عناصر کا قلعہ قمع کیاجائے گا،دہشت گردوں کے بزدلانہ حملوں سے پولیس اوررینجرزکے حوصلے کمزورنہیں ہونگے۔
تفصیلات کے مطابق ہفتے کادن کراچی پولیس بہت بھاری گزرا، لانڈھی6نمبرپرتعینات کوئیک رسپانس فورس (کیوآرایف)کی پولیس موبائل رجسٹریشن نمبر SP-3255 پرموٹر سائیکل سوارملزمان نے فائرنگ کی اورفرارہوتے وقت دستی بم پھینک دیا،فائرنگ ودستی بم حملے کے نتیجے میں اے ایس آئی45سالہ محمدنعیم خان، کانسٹیبل 30 سالہ آصف علی الٰہی بخش اور کانسٹیبل 40سالہ خلیل احمدجاں بحق ہوگئے۔ تینوں کی لاشیں جناح اسپتال منتقل کی گئیں۔واقعے کے چندلمحوں بعدہی جائے وقوع کے قریب ہی لانڈھی الغازی اسپتال کے قریب موٹرسائیکل سواروں نے پولیس موبائل پر فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں اے ایس آئی40سالہ جاویدخان،ہیڈکانسٹیبل 40 سالہ عاصم خان ، ہیڈ کانسٹیبل 35 سالہ فدا حسین جاں بحق جبکہ50 سالہ سب انسپکٹرشہزادوخان زخمی ہوگیا۔جناح اسپتال کے شعبہ حادثات کی انچارج سیمی جمالی نے ایکسپریس کو بتایاکہ دونوں واقعات میں6 پولیس اہلکاروںکی لاشیں جبکہ ایک زخمی کوجناح اسپتال لایاگیا،زخمی اہلکارکی حالت خطرے سے باہرہے۔
ڈی آئی جی ایسٹ منیرشیخ نے بتایاکہ واقعہ پولیس پرحملہ ہے،اس کا کسی سیاسی جماعت کے رہنماکی رہائش گاہ سے کوئی تعلق نہیں،پولیس موبائل بھی اسی مقام پراکثرتعینات ہوتی ہے جبکہ ملزمان نے کسی بھی راہگیرکونشانہ نہیں بنایا،واقعہ کراچی میں جاری آپریشن کاردعمل ہوسکتاہے،دونوں واقعات میں ایک ہی گروہ ملوث ہوسکتاہے،لانڈھی 6نمبر پرفائرنگ کے واقعے کے بعدفرار ہونے والے ملزمان نے ہی لانڈھی 3نمبر پر پولیس موبائل پرفائرنگ کی۔واقعے کے بعدنامعلوم افرادنے لانڈھی کے مختلف علاقوں میں ہوائی فائرنگ کرکے دکانیں وکاروباری مراکز بند کرادیے۔فائرنگ کے واقعات کے بعدپولیس ورینجرزکی بھاری نفری علاقے میں پہنچ گئی اورمختلف گلیوں میں سرچ آپریشن شروع کردیا،رینجرزنے متعددمشتبہ افرادکوحراست میں لے کرنامعلوم مقام پرمنتقل کردیا۔
سرجانی ٹاؤن سیکٹر35-Bتیسرٹاؤن میں حجام کی دکان پرفائرنگ سے اے ایس آئی 43 سالہ صابرعلی جاں بحق ہوگیا،مقتول سرجانی تیسرٹاؤن کارہائشی تھاجواینٹی کارلفٹنگ سیل شریف آبادمیں تعینات اورڈیوٹی جانے سے قبل گھرکے قریب واقع حجام کی دکان پرشیو بنوارہاتھا،مقتول اے ایس آئی صابرعلی سی آئی ڈی کے ایس ایس پی چوہدری اسلم کی ٹیم میں بھی شامل تھااوراس نے 1992 کے آپریشن اہم کرداادا کیا تھا۔نارتھ کراچی کے علاقے سیکٹر5-C/2 میں اوصاف کلینک کے سامنے مرکزی شاہراہ پرنامعلوم افرادنے متحدہ قومی موومنٹ سے تعلق رکھنے والے رکن صوبائی اسمبلی محمدکامران کی گاڑی پرفائرنگ کردی جس کے نتیجے میں وہ معجزانہ طور پر محفوظ رہے۔ایس ایچ او بلال کالونی ساجد جاوید نے ایکسپریس کو بتایاکہ محمد کامران اپنے ایک عزیز کی رہائش گاہ سے نکلے تھے اوروہاں سے واپس جارہے تھے کہ موٹرسائیکل پر سوار 2 ملزمان نے فائرنگ کردی جبکہ ایک اورموٹر سائیکل پردو افراد ان کے بیک اپ پرتھے،محمد کامران فائرنگ کے نتیجے میں محفوظ رہے۔
ان کے پولیس گارڈنے ملزمان پرجوابی فائرنگ کی جس کے نتیجے میں ایک حملہ آورکے زخمی ہونے کی بھی اطلاع ملی ہے ، واقعے کے بعدپولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی۔پولیس نے علاقے کے نجی اسپتالوں اورکلینکس پر بھی چھاپے مارے جبکہ سرکاری اسپتالوں سے بھی معلومات حاصل کیں تاہم کہیں بھی کوئی مشکوک زخمی نہیں پہنچا۔محمد کامران صوبائی اسمبلی کے حلقہ PS-111 سے متحدہ قومی موومنٹ کے ٹکٹ پررکن اسمبلی منتخب ہوئے ہیں۔لیاقت آبادکے علاقے5نمبرسندھی ہوٹل کے قریب واقع درزی کی دکان پرموٹرسائیکل سوارملزمان نے فائرنگ کر دی جس کے نتیجے میں پیپلزپارٹی PS-107 کاکارکن 26 سالہ ایازعلی اورفائرنگ کی زدمیں آکر11 سالہ اسحاق جاں بحق ہوگیا،فائرنگ کے بعدعلاقے میں خوف وہراس پھیل گیااور نامعلوم افرادنے دکانیں و کاروبار بند کرا دیا،فائرنگ کی زدمیں آکرجاں بحق ہونے والا اسحاق لیاقت آباد5 نمبر کا رہائشی تھاجس کی ہلاکت کی اطلاع اہلخانہ کوپہنچی تو گھرمیں کہرام مچ گیا۔پولیس کاکہناہے کہ پیپلزپارٹی کے مقتول کارکن ایازعلی کے والدبھی پارٹی کے سینئر ورکرہیں،مقتول اسلامیہ کالج میں نائب قاصداوربلاول ہاؤس میں سیکیورٹی پرماموربھی بتایاجاتاہے۔اورنگی ٹاؤن صابری چوک کے قریب فائرنگ سے 35 سالہ صابر علی پر جاں بحق ہوگیا،مقتول کی سیاسی ومذہبی وابستگی کے حوالے سے کچھ معلوم نہیں ہوسکا۔رسالہ کے علاقے میں بابائے اردوروڈ پرفائرنگ سے 50 سالہ عسکرعلی ہلاک ہوگیا،مقتول ملک بیکری کے قریب کباب والے کے پاس بیٹھاہوا تھا کہ موٹر سائیکل سوار 2ملزمان نے اس پر فائرنگ کردی،مقتول اکال بونگاکا رہائشی اورٹرانسپورٹرتھا۔
مبینہ ٹاؤن کے علاقے میں جھنگوی روڈپرپارک کے قریب نامعلوم افراد کی فائرنگ سے 25 سالہ منظوراحمد ہلاک ہوگیااس کی کسی سیاسی یا مذہبی تنظیم سے فوری طورپر وابستگی کاعلم نہیں ہوسکا۔ماڈل کالونی کے علاقے کاظم آبادمیں فائرنگ سے 55 سالہ رضوان احمدصدیقی ہلاک ہوگیا،مقتول سیلز مین تھا، موٹر سائیکل سوار ملزمان نے اسے روکااور نہ رکنے پرگولی ماردی،مقتول ملیر جناح اسکوائر کارہائشی تھا۔لسبیلہ پل کے نیچے ندی کے قریب سے 2افرادکی تشدد زدہ ہاتھ بندھی لاشیں ملیں،مقتولین کی عمریں 25 سے30 سال کے درمیان ہیں ،انھیں نامعلوم ملزمان نے اغواکے بعد بہیمانہ تشددکا نشانہ بناکر سر پر گولیاں مار کر قتل کیا،ایک کی شناخت لیاقت آباد سی ون ایریا کے رہائشی کی حیثیت سے ہوئی ہے اور اسے بلی کے نام سے پکارا جاتاہے اور وہ لیاری گینگ وار سے تعلق رکھنے والے ساجدکے پاک کالونی میں واقع منشیات کے اڈے پرکام کرتا تھا۔شیرشاہ کے علاقے میں اکبر روڈ پرمیراں ناکہ پل کے قریب ہاتھ پاؤں بندھی 25سالہ نوجوان کی لاش ملی،مقتول کو نامعلوم ملزمان نے اغوا کے بعدبدترین تشدد کا نشانہ بنایا اور فائرنگ کرکے ہلاک کردیا،مقتول کی شناخت نہیں ہوسکی۔
سی ویو کے قریب فائرنگ سے 30 سالہ اسد،بلدیہ ٹاؤن سیکٹر 19-D میں30سالہ اسلم،لانڈھی چشمہ گوٹھ کے قریب 22 سالہ شہزاد اورسرجانی میں کے ڈی اے فلیٹس کے قریب فائرنگ سے25سالہ عثمان زخمی ہوگیا۔ وزیراعلیٰ سندھ سیدقائم علی شاہ نے لانڈھی میں پولیس موبائلوں پرحملوں اوردیگرعلاقوں میں فائرنگ کے واقعات کاسخت نوٹس لیتے ہوئے آئی جی پولیس سندھ اورایڈیشنل آئی جی پولیس کراچی سے تفصیلی رپورٹ طلب کرلی ہے اوران واقعات کی سخت مذمت کی ہے۔ وزیراعلیٰ نے پولیس اہلکاروں اورعام شہریوںکی ہلاکت پرافسوس کااظہارکر تے ہوئے غمزدہ خاندانوں سے تعزیت کااظہارکیاہے۔انھوں نے کہاکہ قانون نافذکرنے والے اہلکارعوام کی جان ومال کاتحفظ کرنے کیلیے اپنی جانوں کانذرانہ پیش کررہے ہیں،ان کی شہادتیںاورقربانیاں رائیگاں نہیں جائیںگی اوردہشت گردوں اورسماج دشمن عناصر کا قلعہ قمع کیاجائے گا،دہشت گردوں کے بزدلانہ حملوں سے پولیس اوررینجرزکے حوصلے کمزورنہیں ہونگے۔