مسئلہ کشمیر کا پرامن حل ضروری

کشمیریوں کی جدوجہد گواہ ہے کہ انھوں نے ظلم وستم سہنے کے باوجود اپنی جدوجہد آزادی کو جاری رکھا ہوا ہے۔

کشمیریوں کی جدوجہد گواہ ہے کہ انھوں نے ظلم وستم سہنے کے باوجود اپنی جدوجہد آزادی کو جاری رکھا ہوا ہے۔ فوٹو : فائل

ملک بھر میں یوم استحصال کشمیرکے حوالے سے نکالی گئی احتجاجی ریلیوں میں بھارت کی جانب سے دو سال قبل مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ کرکے کشمیری عوام پر ظلم و ستم کا نیا سلسلہ روا رکھنے کے خلاف احتجاج کیا گیا۔

اقوام متحدہ کی منظورکردہ قراردادوں کے مطابق کشمیریوں کو حق خود ارادیت کی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی سطح پر حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے پاکستان کی سیاسی وعسکری قیادت نے بین الاقوامی طاقتوں، اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی علمبردار تنظیموں سے مطالبہ کیا کہ کشمیری عوام کو ان کی مرضی سے جینے کا حق دلوانے میں اپنا کردار ادا کریں، جوکہ بنیادی انسانی حقوق میں شامل ہے۔

مسئلہ کشمیر کے حوالے سے وزیراعظم پاکستان عمران خان کا موقف بہت واضح، قابل قبول اور مبنی برحقائق ہے، اپنی کئی تقاریر اور انٹرویوز میں انھوں نے واضح طور پر کہا ہے کہ کشمیر کے مسئلے کا واحد حل اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق کشمیریوں کو استصواب رائے دینا ہے۔

بھارت نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں 5اگست 2019 کو تحریک آزادی کی صدا کو دبانے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے قانون میں تبدیلی کی اور کشمیریوں پر ظلم و ستم کے نئے دور کا آغاز کیا، ویسے تو کشمیریوں پر ظلم و ستم کئی دہائیاںپہلے شروع ہوا تھا اور کشمیر کی تقسیم اور بندر بانٹ اونے پونے داموں کرنے کا آغاز کیا گیا تھا مگر ان سب کے باوجود کشمیریوں کی صدائے حریت بھی تہتر برسوں سے ہی گونج رہی ہے۔

بھارت کی ماضی کی حکومتوں، چاہے کانگریس ہو یا بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی)، نے اپنے آئین کے آرٹیکل 35اے اور 370کے تحت کشمیر کی متنازع حیثیت کو کبھی نہیں چھیڑا، یہ الگ بات ہے کہ مقبوضہ علاقے میں فوج، پولیس اور دیگر نوعیت کے ظلم و ستم بدستور جاری رہے لیکن کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم نہیں کی گئی مگر 2019 میں نریندر مودی کی حکومت نے وزیر داخلہ امیت شا کی سرکردگی میں اس تار کو بھی چھیڑ دیا اور 80لاکھ سے زائد آبادی کا حامل یہ خطہ متنازع طور پر تقسیم کرکے رکھ دیا گیا، جہاں تعلیمی ادارے مستقل بند ہیں۔

غذائی اجناس کی صورت حال سے دنیا ناواقف ہے، اسپتالوں میں ڈاکٹر نہیں بلکہ وہاں پر بھارتی فوج کا ڈیرہ ہے، کسی کو نہیں معلوم لیکن پاکستان سمیت پوری دنیا کو یہ معلوم ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں اسلحے کے زور پر ظلم و جبر کا نیا سلسلہ شروع کردیا گیا ہے۔پانچ اگست دو ہزار انیس سے لے کر آج تک کشمیر میں انسانی حقوق کا چراغ گل ہے اور روشنیوں کے اس خطے میں جبر کی تاریک رات جاری ہے۔

تاریخ کا مطالعہ کریں تو یہ حقیقت کھل کر سامنے آتی ہے کہ بین الاقوامی سطح پر ہندوستان کا کیس تین وجوہات کی بنیاد پر انتہائی کمزور ہے، پہلی وجہ یہ کہ اگر مہاراجہ ہری سنگھ نے چھبیس اکتوبر کو ہندوستان کے ساتھ الحاق پر دستخط کر بھی دیے تھے تو یہ بات جان لینی چاہیے کہ اس واقعے سے دو روز قبل، چوبیس اکتوبر کو آزاد کشمیر، گلگت و دیگر شمالی علاقہ جات ہری سنگھ کے دائرہ اختیار سے نکل چکے تھے، اس لیے ہری سنگھ ان علاقوں کی قسمت کے فیصلے کا حق نہ رکھتا تھا۔

دوسری وجہ یہ کہ اقوامِ متحدہ اور تمام جمہوری اصولوں کے مطابق ہر قوم کو حقِ خود ارادیت حاصل ہے، اور یہاں ہندوستان اس بنیادی اصول کی خلاف ورزی کرتا دکھائی دیتا ہے، اور تیسری وجہ یہ کہ آج تک یہ بات معلوم نہ ہو سکی، کہ چھبیس اکتوبر کو ہری سنگھ، جو اپنی جان بچانے کے لیے سری نگر سے جموں کی طرف، راستے میں تھا، ہندوستان کے ساتھ الحاق کی دستاویزات پر اس نے کہاں اور کس حالت میں دستخط کیے؟، اس معاملے پر مورخ کیوں خاموش ہیں؟ انھی وجوہات کی بنیاد پر ہندوستان مسئلہ کشمیر کو بین الاقوامی سطح پر لانے سے گریزاں رہا، باوجود اس کے اگلے کئی سالوں،1951، 1952اور 1957میں اقوامِ متحدہ میں کشمیریوں کے حقِ خودارادیت کے حوالے سے مذکورہ بالا ریزولوشنز کی تجدید ہوتی رہی۔

1951 میں جموں اور کشمیر میں ایک اسمبلی کا قیام عمل میں آیا، اور اسی اسمبلی نے، جو کہ سیاسی طور پر ہندوستان کے زیر اثر تھی، جموں و کشمیر کے ہندوستان کے ساتھ الحاق کی قراد دار منظور کر ڈالی، جو کہ کشمیریوں کی امنگوں کے سراسر خلاف تھی، اس سے معاملہ گھمبیر تر ہوتا گیا۔اگلے سالوں میں پاکستان اور ہندوستان کے درمیان دو مزید جنگیں، 1965 اور 1971میں لڑی گئیں اور ہر دفعہ اقوامِ متحدہ اور بین الاقوامی مداخلت سے نہ صرف جنگ بندی، بلکہ کشمیر سمیت تمام مسائل کے جمہوری و پرامن حل پر اتفاق رائے قائم ہوا، مگر افسوس کہ اس کو عملی جامہ کبھی نہ پہنایا جا سکا،وہ دن اور آج کا دن کشمیر کا تنازع اپنی جگہ بغیر کسی پیش رفت کے موجود ہے۔


کشمیر کے تنازعے کی حقیقی تصویر دیکھنے کے لیے ضروری ہے کہ کشمیر سے گزرتے دریاؤں کی اہمیت، جو ہند و پاک کی زمینی سیرابی کے لیے ناگزیر ہیں، پر غور کیا جائے، انیسویں صدی کے آخر میں، پنجاب (متحدہ) کی زرخیز زمین کی سیرابی کو دریاؤں اور نہروں کے جس نظام کی تعمیر کی گئی، اس میں سندھ کو مزید پانچ شاخوں میں تقسیم کر دیا گیا، جس میں سے دو، جہلم اور چناب، اور خود سندھ بھی، جو موجودہ پاکستان کے پنجاب کو سیراب کرتے ہیں، جموں اور کشمیر سے گزرتے ہیں، جب کہ راوی، بیاس اور ستلج ہندوستانی پنجاب کی زرخیزی کا ذریعہ ہیں، 1948 میں بڑھتی چپقلش کے نتیجے میں ہندوستان نے پاکستان کو ان پانیوں کی فراہمی میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی، لیکن تنازع پرامن طریقے سے حل ہوا، اگرچہ ان دریاؤں کے پانی کے حوالے سے ہندوستان اب بھی دھونس دھمکی سے نہیں چوکتا۔

بڑھتا ہوا بھارتی جنگی جنون کچھ یوں ہے کہ میڈیا اطلاعات کے مطابق بھارتی بحری بیڑے میں دوسرے طیارہ بردار جہاز (ایئر کرافٹ کیریئر) کا اضافہ ہوا ہے جب کہ تیسرے طیارہ بردار جہاز کے لیے کوششیں تیزکردی گئی ہیں۔بھارت نے اپنی بحری طاقت بڑھاتے ہوئے پہلے دیسی ساختہ ایئر کرافٹ کیریئر کی آزمائش شروع کردی ہے اور امریکا سمیت دیگر اتحادیوں کے ساتھ مشترکہ مشقوں کیلیے ٹاسک فورس بھی تشکیل دے دی ہے۔

بھارت کے دوسرے ایئر کرافٹ کیریئر آئی این ایس وکرانت نے جنوبی ریاست کیرالہ سے مشقوں کا آغاز کیا۔ بھارتی بحریہ نے کہا ہے کہ44 دیگر بحری جہاز اور آبدوزیں مقامی طور پر تعمیر کی جا رہی ہیں۔اس کے ساتھ حکومت نے تیسرے ایئر کرافٹ کیریئر کے لیے کوششیں تیز کردی ہیں ۔

اس وقت بھارت میں ایک انتہائی متعصب ترین شخص وزیراعظم کے عہدے پر فائز ہے، جسے دہشت گرد اورانتہا پسند عناصر کی بھرپور حمایت اور تائید حاصل ہے، اسی تناظر میں وزیراعظم پاکستان عمران خان، مودی کو ہٹلرثانی قراردے چکے ہیں۔

کشمیریوں کی جدوجہد گواہ ہے کہ انھوں نے ظلم وستم سہنے کے باوجود اپنی جدوجہد آزادی کو جاری رکھا ہوا ہے، اور وہ وقت اب زیادہ دور نہیں ہے کہ جب اہل کشمیر کو آزادی کا سورج دیکھنا نصیب ہوگا اور وہ بھی آزاد فضاؤں میں سانس لے سکیں گے کیونکہ بھارتی جبر کے دن اب بہت کم رہ گئے ہیں۔ مقبوضہ کشمیر کے ساتھ ساتھ آسام ، ناگا ریاست اور خالصتان کی تحریک بھارت کے ٹکڑے ٹکڑے کرنے کے لیے کافی ہے۔ اس سے پہلے ہندوستان ایک بند گلی میں داخل ہو اسے کشمیر پر رائے شماری کروا لینی چاہیے۔

مسئلہ کشمیرکا حل اقوام متحدہ کی قراردادوں کے عین مطابق اگر نکال لیا جاتا تو آج مقبوضہ کشمیر کی جو صورتحال ہے وہ ہرگز نہیں ہوتی بلکہ مظلوم کشمیری بھارتی جبری تسلط سے آزادی حاصل کرچکے ہوتے۔ اقوام عالم اگر جنوبی ایشیاء کے خطے میںامن چاہتی ہیں تو اس کے لیے ضروری ہے کہ مسئلہ کشمیر کا پرامن حل ہرصورت میں نکالنے میں اپنا فعال کردار اداکریں، تاکہ خطہ، ترقی اور خوشحالی کی راہوں پر گامزن ہوسکے۔

بلاشبہ مسئلہ کشمیر جب تک حل نہیں ہوتا، خطے میں امن کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیںہوسکے گا۔ عالمی برادری کو بھارت پر اپنا دباؤ بڑھاتے ہوئے مسئلہ کشمیر کے مستقل ، پائیدار اور پرامن حل کے لیے مذاکرات کی میز پر لانا ہوگا، اور اگر ایسا نہ کیا گیا تو یہ عالمی ضمیر پر ایک سوالیہ نشان ہوگا۔

پاکستان کے پاس اس وقت سنہری موقع ہے کہ وہ بین الاقوامی طور پر اپنے آپ کو ہندوستان کی نسبت ایک معتدل، انصاف پسند اور بہتر ملک ثابت کر کے دنیا میں اپنا بہتر امیج بنائے ۔ اندرونی سیاسی استحکام، معاشی ترقی اور باہمی اتفاق ہی سے طاقتور اندرونی محاذ تیار کیا جا سکتا ہے۔

پاکستان کو عالمی رائے عامہ اپنے حق میں ہموار کرنے کے لیے کوشاں رہنا چاہیے، جس میں ذرائع ابلاغ مثبت کردار ادا کر سکتا ہے۔ سماجی اور معاشی ترقی کے لیے دوسروں پر انحصار سے گریز کرنا چاہیے۔ مضبوط سیاسی، سماجی اور معاشی اقدامات اٹھائے جائیں تاکہ کشمیر اور شمالی علاقہ جات کی ترقی کو یقینی بنایا جا سکے۔

طلبہ یونین، وکالتی گروپ، تعلیمی گروپ اور تھنک ٹینکس بنا کر عالمی ذرائع ابلاغ، پاکستانی اور کشمیری علماء کو ان کا حصہ بنانا چاہیے تا کہ وہ کشمیر کے حقائق سے دنیا کو آگاہ کر سکیں۔ایک جامع اور ٹھوس پالیسی تیار کی جانی چاہیے جو مقبوضہ کشمیر کے متعلق قومی قوت کے عناصر کا احاطہ کرتی ہو۔
Load Next Story