ہفتہ رفتہ دنیا بھر میں روئی کی قیمتوں میں تیزی کا رجحان جاری
سوتی دھاگے کی برآمد میں ٹھہراؤ سے کاٹن ائیر کے بلند ترین نرخ 7400 سے قدرے نیچے آگئے،اسپاٹ ریٹ برقرار
سوتی دھاگے کی برآمد میں ٹھہراؤ سے کاٹن ائیر کے بلند ترین نرخ 7400 سے قدرے نیچے آگئے،اسپاٹ ریٹ برقرار۔ فوٹو: فائل
کپاس پیدا کرنے والے دنیا کے چارسرفہرست ممالک چین ،بھارت،امریکا اور پاکستان میں کپاس کی پیداوارابتدائی تخمینوں کی نسبت کم ہونے کے حوالے سے جاری کردہ رپورٹس کے باعث گزشتہ ہفتے کے دوران پاکستان سمیت دنیا بھر میں روئی کی قیمتیں میں تیزی کا رجحان غالب رہا۔
تاہم سوتی دھاگے اور روئی کے دنیا کے سب سے بڑے خریدار چین میں شروع ہونے والی موسم بہار کی تعطیلات اور بھارت کی جانب سے سوتی دھاگے کی برآمد پر مراعات کی بحالی کے باعث پاکستان سے سوتی دھاگے کی برآمدات میں ٹھہرائو آنے سے روئی کی قیمتیں جو قبل ازیں کاٹن ائیر 2013-14 کی بلند ترین سطح 7ہزار 400 روپے فی من تک پہنچ گئیں تھیں ان میں بھی اب قدرے کمی دیکھی جا رہی ہے۔ پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن (پی سی جی اے) کے سابق ایگزیکٹو ممبر احسان الحق نے ''ایکسپریس '' کو بتایا کہ چین میں 2013 کے دوران کپاس کی مجموعی ملکی پیداوار 6.31ملین ٹن بتائی گئی ہے جو کہ پچھلے سال کے مقابلے میں 7.7فیصد کم ہے جبکہ بھارت میں جاری ہونے والے کپاس کی مجموعی ملکی پیداوار کے تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق بھارت میں 12جنوری تک کپاس کی پیداوارایک کروڑ 25لاکھ 67 ہزاربیلز رہی ہے جو کہ پچھلے سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں24لاکھ 41ہزاربیلز ( 16.26فیصد )کم رہی ہے اسی طرح پاکستان اور امریکا میں بھی کپاس کی پیداوار پہلے تخمینوں کے مقابلے میں کم ہونے کے بارے میں رپورٹس آ رہی ہیں۔
یاد رہے کہ کاٹن کراپ ایسسمنٹ کمیٹی نے رواں سال کے لیے کپاس کی پیداوار کا تخمینہ پہلے ایک کروڑ32لاکھ بیلز مختص کیا تھا جسے بعد میں کم کر ایک کروڑ23 لاکھ 60ہزار بیلز کر دیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بھارت سے چین کو بڑے پیمانے پر سوتی دھاگے کی برآمدات ہونے کے باوجود بھارتی حکومت نے چین کی کاٹن مارکیٹ پر مکمل قبضے کیلیے اپنے سوتی دھاگے کے برآمد کنندگان کو اضافی 2فیصد مراعات دینے کا اعلان کیا ہے جس سے پاکستان کی چین کو ہونے والی سوتی دھاگے کی برآمدات متاثر ہو سکتی ہیں، اس لیے حکومت پاکستان کو چاہیے کہ وہ بھی فوری طور پر سوتی دھاگے کی برآمدات پر مراعات کا اعلان کرے تاکہ پاکستان سے بھی زیادہ سے زیادہ سوتی دھاگہ چین کو برآمد ہو سکے۔انہوں نے بتایا کہ گزشتہ ہفتے کے دوران نیویارک کاٹن ایکسچینج میں حاضر ڈلیوری روئی کے سودے معمولی کمی کے ساتھ 93.75سینٹ فی پائونڈ،مارچ ڈلیوری روئی کے سودے 0.41سینٹ فی پائونڈ اضافے کے ساتھ 87.21سینٹ فی پائونڈ،بھارت میں روئی کی قیمتیں 194روپے فی کینڈی کمی کے ساتھ 42 ہزار 704روپے فی کینڈی، چین میں روئی کی قیمتیں معمولی مندی کے ساتھ 19ہزار 565یو آن فی ٹن تک مستحکم رہی جبکہ کراچی کاٹن ایسوسی ایشن میں روئی کے اسپاٹ ریٹ بغیر کسی تبدیلی کے 7ہزار 50روپے فی من تک مستحکم رہے۔
انہوں نے بتایا کہ چین میں0 3 جنوری سے 6فروری تک ہونے والی موسم بہار کی تعطیلات کے باعث آئندہ 15دنوں کے دوران دنیا بھر میں کاٹن مارکیٹس میں ہونے والی ٹریڈنگ میں متوقع کمی دیکھی جا رہی ہے تاہم توقع ہے کہ دنیا بھر میں کپاس کی پیداوار پہلے تخمینوں کے مقابلے میں کم ہونے کے باعث چین میں تعطیلات ختم ہونے کے بعد روئی کی قیمتیں میں تیزی کا رجحان سامنے آئے گا۔انہوں نے بتایا کہ چین نے حتمی طور پر فیصلہ کیا ہے کہ وہ آئندہ سے نیشنل ریزروز کیلئے زمینداروں سے روئی خریداری کی بجائے امریکہ کے طرز پر زمینداروں کو براہ راست سبسیڈی ادا کرے گا تاکہ زمینداروں کی فی ایکڑ آمدنی میں کمی واقع نہ ہو سکے ۔انہوں نے مزید بتایا کہ بھارت میں روئی کی قیمتوں میں زبردست تیزی کے رجحان کے باعث بھارتی روئی برآمد کنندگان نے پاکستان کے بعد چین کے ساتھ کیے گئے بھی روئی کے 7سے 8لاکھ بیلز کے برآمدی معاہدے معطل کرنے کا اعلان کیا ہے جس سے چینی خریداروں میں تشویش کی لہر پائی جا رہی ہے۔
تاہم سوتی دھاگے اور روئی کے دنیا کے سب سے بڑے خریدار چین میں شروع ہونے والی موسم بہار کی تعطیلات اور بھارت کی جانب سے سوتی دھاگے کی برآمد پر مراعات کی بحالی کے باعث پاکستان سے سوتی دھاگے کی برآمدات میں ٹھہرائو آنے سے روئی کی قیمتیں جو قبل ازیں کاٹن ائیر 2013-14 کی بلند ترین سطح 7ہزار 400 روپے فی من تک پہنچ گئیں تھیں ان میں بھی اب قدرے کمی دیکھی جا رہی ہے۔ پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن (پی سی جی اے) کے سابق ایگزیکٹو ممبر احسان الحق نے ''ایکسپریس '' کو بتایا کہ چین میں 2013 کے دوران کپاس کی مجموعی ملکی پیداوار 6.31ملین ٹن بتائی گئی ہے جو کہ پچھلے سال کے مقابلے میں 7.7فیصد کم ہے جبکہ بھارت میں جاری ہونے والے کپاس کی مجموعی ملکی پیداوار کے تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق بھارت میں 12جنوری تک کپاس کی پیداوارایک کروڑ 25لاکھ 67 ہزاربیلز رہی ہے جو کہ پچھلے سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں24لاکھ 41ہزاربیلز ( 16.26فیصد )کم رہی ہے اسی طرح پاکستان اور امریکا میں بھی کپاس کی پیداوار پہلے تخمینوں کے مقابلے میں کم ہونے کے بارے میں رپورٹس آ رہی ہیں۔
یاد رہے کہ کاٹن کراپ ایسسمنٹ کمیٹی نے رواں سال کے لیے کپاس کی پیداوار کا تخمینہ پہلے ایک کروڑ32لاکھ بیلز مختص کیا تھا جسے بعد میں کم کر ایک کروڑ23 لاکھ 60ہزار بیلز کر دیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بھارت سے چین کو بڑے پیمانے پر سوتی دھاگے کی برآمدات ہونے کے باوجود بھارتی حکومت نے چین کی کاٹن مارکیٹ پر مکمل قبضے کیلیے اپنے سوتی دھاگے کے برآمد کنندگان کو اضافی 2فیصد مراعات دینے کا اعلان کیا ہے جس سے پاکستان کی چین کو ہونے والی سوتی دھاگے کی برآمدات متاثر ہو سکتی ہیں، اس لیے حکومت پاکستان کو چاہیے کہ وہ بھی فوری طور پر سوتی دھاگے کی برآمدات پر مراعات کا اعلان کرے تاکہ پاکستان سے بھی زیادہ سے زیادہ سوتی دھاگہ چین کو برآمد ہو سکے۔انہوں نے بتایا کہ گزشتہ ہفتے کے دوران نیویارک کاٹن ایکسچینج میں حاضر ڈلیوری روئی کے سودے معمولی کمی کے ساتھ 93.75سینٹ فی پائونڈ،مارچ ڈلیوری روئی کے سودے 0.41سینٹ فی پائونڈ اضافے کے ساتھ 87.21سینٹ فی پائونڈ،بھارت میں روئی کی قیمتیں 194روپے فی کینڈی کمی کے ساتھ 42 ہزار 704روپے فی کینڈی، چین میں روئی کی قیمتیں معمولی مندی کے ساتھ 19ہزار 565یو آن فی ٹن تک مستحکم رہی جبکہ کراچی کاٹن ایسوسی ایشن میں روئی کے اسپاٹ ریٹ بغیر کسی تبدیلی کے 7ہزار 50روپے فی من تک مستحکم رہے۔
انہوں نے بتایا کہ چین میں0 3 جنوری سے 6فروری تک ہونے والی موسم بہار کی تعطیلات کے باعث آئندہ 15دنوں کے دوران دنیا بھر میں کاٹن مارکیٹس میں ہونے والی ٹریڈنگ میں متوقع کمی دیکھی جا رہی ہے تاہم توقع ہے کہ دنیا بھر میں کپاس کی پیداوار پہلے تخمینوں کے مقابلے میں کم ہونے کے باعث چین میں تعطیلات ختم ہونے کے بعد روئی کی قیمتیں میں تیزی کا رجحان سامنے آئے گا۔انہوں نے بتایا کہ چین نے حتمی طور پر فیصلہ کیا ہے کہ وہ آئندہ سے نیشنل ریزروز کیلئے زمینداروں سے روئی خریداری کی بجائے امریکہ کے طرز پر زمینداروں کو براہ راست سبسیڈی ادا کرے گا تاکہ زمینداروں کی فی ایکڑ آمدنی میں کمی واقع نہ ہو سکے ۔انہوں نے مزید بتایا کہ بھارت میں روئی کی قیمتوں میں زبردست تیزی کے رجحان کے باعث بھارتی روئی برآمد کنندگان نے پاکستان کے بعد چین کے ساتھ کیے گئے بھی روئی کے 7سے 8لاکھ بیلز کے برآمدی معاہدے معطل کرنے کا اعلان کیا ہے جس سے چینی خریداروں میں تشویش کی لہر پائی جا رہی ہے۔