پاکستانی معیشت مہنگائی اور عوام
انتظامی اداروں میں موجود پرائس کنٹرول کمیٹیاں بھی مہنگائی کو کنٹرول کرنے میں ناکام دکھائی دیتی ہیں۔
انتظامی اداروں میں موجود پرائس کنٹرول کمیٹیاں بھی مہنگائی کو کنٹرول کرنے میں ناکام دکھائی دیتی ہیں۔ فوٹو: فائل
پاکستانی عوام مہنگائی سے بے حال ہیں اور کسی بھی سمت سے ایسے آثار نظر نہیں آرہے کہ آنے والے دنوں میں عوام کو کوئی ریلیف ملا سکتا ہے۔
پاکستانی روپیہ ڈالر کی حاکمیت کا شکار ہے، اس معاشی افراتفری میں اشیاء ضروریہ کی قیمتوں کا کنٹرول میں رکھنا ممکن نظر نہیں آ رہا ہے، پی ٹی آئی حکومت کے تیسرے وفاقی بجٹ میں لگائے گئے بے شمار ٹیکس بھی قیمتوں میں اضافے کا موجب بن رہے ہیں، جب کہ دوسری جانب نیپرا میں پاور سیکٹر سبسڈی کو ازسر نو مرتب کرنے سے متعلق درخواست پر سماعت کے دوران چیئرمین نیپرا نے کہا ہے کہ اس طرح تو عوام کی چیخیں نکلیں گی اور زور دار جھٹکا لگے گا۔
صارف کے مفاد کو دیکھیں گے ۔پہلے مرحلے میں یہ ہمارے پاس سلیبز لے کر آئے ہیں، دوسرے مرحلے میں حکومت ٹیرف لے کر آئیں گے جب کہ وزارت توانائی حکام نے بریفنگ میں بتایا کہ درخواست میں 301سے700تک کے سلیب کو چار سلیب میں توڑنے کی درخواست ہے۔
بلاشبہ بجلی پر سبسڈی کے خاتمے سے غریب عوام کا جینا دوبھر ہوجائے گا۔ ملک میں ادویات کے قیمتوں میں مسلسل اضافے کے رحجان سے عام آدمی براہ راست متاثر ہورہا ہے، جب کہ عوامی نمایندگان پنجاب اسمبلی میں قیمتوں کے خلاف قراردادپاس کروا رہے ہیں ، سوال یہ ہے کہ اس طرح کی نمائشی قراردادوں سے عوام کو کیا ریلیف مل سکتا ہے ، حکومت کو ادویات کی قیمتوں پر کنٹرول کرنے کے لیے مضبوط ومربوط حکمت عملی ترتیب دینی چاہیے۔ حکومت کے مطابق معیشت ترقی کر رہی ہے،تمام انڈسٹریاں ترقی کر رہی ہیں۔
اس ضمن میں غیر جانبدارتجزیہ حقائق کے حل میں معاون ومددگار ثابت ہوگا ،اس لیے ملکی معیشت کے تناظر میں عوامی مسائل کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ گزشتہ مالی سال میں کورونا وباء کے سبب لگنے والے عالمی لاک ڈاؤن کے سبب عالمی معیشت میں سست روی کا رجحان رہا،جس کا اثر پاکستانی معیشت پر بھی دیکھنے میں آیا اور ملکی ترقی کی شرح مزید تنزلی کا شکار ہو کر منفی 0.4 فیصد تک جا پہنچی۔
اس سے قبل پاکستان کی معیشت میں منفی گروتھ 1952-1951میں دیکھی گئی تھی۔ ڈالر کی قدر میں اضافہ، پٹرول و دیگر اجناس کی قیمتوں میں اضافہ، اور مہنگائی اور بیروزگاری کی شرح میں اضافے نے ملکی جی ڈی پی کو منفی تک لیجانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ تاہم رواں مالی سال کے دوران حکومت کی جانب سے بروقت کیے جانے والے اقدامات جس میں لاک ڈاؤن میں نرمی، 1200 ارب روپے کا تاریخی کورونا ریلیف پیکیج جب کہ حال ہی میں حکومت کی جانب سے پیش کردہ اقتصادی سروے کے مطابق زرعی شعبے کی شرح نمو 3.8 فیصد کے ہدف سے گر کر0.85 فیصد تک تنزلی کا شکار ہوئی ہے۔ زرعی شعبے کا ایسا منفی گراف پہلی بار ہدف سے بہت نیچے نہیں آیا ہے۔
زرعی شعبے کی تنزلی آج کا رونا نہیں یہ قصہ بہت پرانا ہے جس کا بغور جائزہ لے کر موثر پالیسیوں پر بھرپور عملدرآمد کو یقینی بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انتہائی بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ قیام پاکستان سے اب تک ماسوائے دو ایک ادوار کے سبھی حکومتوں نے زرعی شعبے کو بری طرح نظر انداز کیا کہ 80 فیصد زرعی شعبے کے خام مال پر انحصار کرنے والے صنعتی شعبے کو تو ہر دور میں بیش بہا مراعات اور سہولتوں سے نوازا گیا مگر صنعتوں کے پہیہ کو رواں دواں رکھنے والے زرعی شعبے کو اونٹ کے منہ میں زیرہ کے مصداق انتہائی کم ترقیاتی فنڈز دے کربری طرح نظر انداز کیا گیا۔
مختلف اطلاعات کے مطابق اب تک موجودہ حکومت کئی ارب ڈالر کا غیر ملکی قرض لے چکی ہے۔ جدید معیشت میں قرض لینا بجائے خود غیر صحت مند رجحان نہیں ہے لیکن اس کا پیداواری مصرف اہم ہوتاہے۔ یعنی بیرونی قرض کو ملک کی پیدا واری صلاحیت میں اضافہ یا ترقیاتی منصوبوں میں سرمایہ کاری کے لیے استعمال کیا جائے۔
موجودہ حکومت کے دور میں بوجوہ یہ اقدام نہیں ہوسکا۔ حکومت اپنی باقی ماندہ مدت میں بھی اس رجحان کو تبدیل کرنے کی کوشش شاید کامیاب نہ ہوسکے۔ 2020 کے دوران پاکستان کو مالی وسائل دوست ملکوں کے تعاون اور کورونا وائرس کی وجہ سے پیدا ہونے والے عالمی بحران میں جی۔20 ممالک کی سہولتوں کی وجہ سے حاصل ہوئے تھے۔ ایک رپورٹ کے مطابق اس سال آٹے کی قیمتوں میں پچاس سے ساٹھ فیصد،چینی بیس سے تیس فیصد، دالیں پچیس سے چالیس فیصد، کوکنگ آئل، گوشت، دودھ اور چاول کی قیمتوں میں دس فیصد تک اضافہ ہو چکا ہے۔
انتظامی اداروں میں موجود پرائس کنٹرول کمیٹیاں بھی مہنگائی کو کنٹرول کرنے میں ناکام دکھائی دیتی ہیں۔ ملک میں مہنگائی کی شرح کا تعین تین طریقوں سے کیا جاتا ہے۔ اس میں ایک ماہانہ بنیادوں پر مہنگائی کی شرح کے اعداد و شمار ہیں جو کنزیومر پرائس انڈیکس کہلاتا ہے۔ اس میں ماہانہ بنیادوں پر قیمتوں میں ردّوبدل کو ظاہر کیا جاتا ہے۔
ہفتہ وار بنیادوں پر قیمتوں میں ہونے والے ردّ و بدل کو یہ ادارہ قیمتوں کے خاص اشاریے کے تحت جاری کرتا ہے، جس میں ہفتہ وار بنیادوں پر اشیائے خورو نوش کی قیمتوں کا تقابل کیا جاتا ہے۔مہنگائی جانچنے کے لیے تیسرا طریقہ ہول سیل پرائس انڈیکس ہے، جس میں ماہانہ بنیادوں پر ہول سیل کی سطح پر قیمتوں میں ردّ و بدل کو دیکھا جاتا ہے۔
اس وقت غریب طبقہ سب سے زیادہ متاثرہے، جو کرائے کے گھروں میں رہتا ہے۔ گزشتہ دس سالوں سے مکانوں اور دکانوں کے بڑھتے ہوئے کرائے بھی مہنگائی میں مسلسل اضافہ کر رہے ہیں۔ نجی اسپتالوں ڈاکٹروں اور اسکولوں کی بڑھتی ہوئی فیسیں اور مہنگی ادویات بھی مہنگائی میں اضافے کا اہم ذریعہ ہیں۔ صحت اور تعلیم دونوں حکومت کی ذمے داری ہوتے ہیں۔
عوام سے لیے گئے ٹیکسوں کے عوض ریاست نے عوام کو صحت اور تعلیم کی جو معیاری سہولتیں فراہم کرنی ہوتی ہیں۔ ان سہولتوں کی فراہمی بھی اشرافیہ تک محدود ہے،ان حالات میں اشرافیہ نے کم آمدنی والے طبقات کو کچل کر رکھ دیا ہے۔کنزیومر پرائس انڈکس آبادی کے استعمال کی اشیا کا جو سیٹ بناتی ہے،اسے سی پی آئی باسکٹ کہا جاتا ہے،جس کے مطابق ایک پاکستانی شہری ماہانہ 34.58 فیصد کھانے پر 26.68 فیصد مکان کے کرائے بجلی، گیس ،پانی کے بلوں پر خرچ کرتا ہے۔ 8.6 فیصد کپڑوں جوتوں پر 7 فیصد ہوٹلنگ پر 6 فیصد ٹرانسپورٹ کرایوں پر 3.8 فیصد تعلیم پر اور 2.7 فیصد صحت پر خرچ کرتا ہے۔
پاکستان میں مہنگائی کی شرح میں اضافے کی وجہ حالیہ دنوں میں حکومت کی جانب سے بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ ہے۔ پاکستان میں مہنگائی کی شرح 10 فیصد سے تجاوز کر گئی ہے، جس سے ملک میں مہنگائی کی ایک نئی لہر آنے کے خدشات بھی موجود ہیں۔ ماہرین کے مطابق مہنگائی کی شرح دو ہندسوں (ڈبل ڈیجیٹس) میں جانا معاشی صورت حال کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔
ملکی معاشی ماہرین کی آراء کو سامنے رکھیں تو چند بنیادی نکات سامنے آتے ہیں۔ حکومت کی نئی پالیسیاں جب آتی ہیں تو مہنگائی کی شرح میں عمومی طور پر اضافہ ہوتا ہے، گزشتہ سال کے مقابلے میں اس سال ایک عام فرد کی آمدنی میں 15 فیصد اضافے کی ضرورت ہے، ٹیکسز میں اضافے کی وجہ سے یہ سال عوام کے لیے مزید مشکل ہوگا۔ حالیہ بارشوں کے بعد ملک میں سیلاب کی صورت حال پیدا ہو سکتی ہے جس سے اشیائے خورونوش میں قلت پیدا ہونا کا خدشہ ہے۔
ادارہ شماریات کے مطابق جولائی میں مجموعی طورپرمہنگائی میں1.3فیصد کا اضافہ ہوا اور مجموعی مہنگائی کی شرح 8.4فیصد تک پہنچ گئی۔ادارہ شماریات کا کہنا تھا کہ شہری علاقوں میں مہنگائی کی شرح 8.7فیصد اور دیہی علاقوں میں8فیصد رہی۔ غیر ملکی قرضہ جات بھی معیشتیں کمزور کرتے ہیں،حکومتی اخراجات اور معاشی خسارہ پورا کرنے کے لیے زیادہ نوٹ چھاپنے سے افراط زر پھیلتا ہے۔
دولت کی غیر مساوی تقسیم بھی مہنگائی کو بڑھاوا دیتی ہے کیونکہ دولت مند افراد کم وسائل کے حامل لوگوں کو لوٹنے لگ جاتے ہیں،جو مہنگائی کا باعث بنتے ہیں۔اس صورت میں قرضوں پر انحصار کی عادی پاکستانی حکومت عالمی منڈیوں میں کمرشل بنیادوں پر مہنگے سود پر قرض لینے پر مجبور ہوگی۔
اس طرح پاکستانی عوام پر محصولات کا بوجھ ناقابل برداشت ہوجائے گا۔ کیوں کہ ملک میں ٹیکس نیٹ بڑھانے، لوگوں کو انکم ٹیکس دینے پر آمادہ کرنے، نظام میں دیرپا اور مؤثر اصلاحات کا کوئی طریقہ کامیاب نہیں ہوسکا ہے۔ حکومت ابھی تک اپنی آمدنی کے لیے بالواسطہ ٹیکس عائد کرنے پر مجبور ہے جو براہ راست غریب عوام سے وصول کیا جاتا ہے۔
اس طریقہ سے ملکی معیشت بھی مسلسل عدم توازن کا شکار رہتی ہے جس کی وجہ سے قرض ریٹنگ میں اس کی حیثیت متاثر ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس نے ابھی تک پاکستان کو گرے لسٹ سے خارج نہیں کیا،اگر نئے سال میں یہ اہم فیصلہ نہ ہوسکا تو اس سے ایک تو عالمی منڈیوں میں پاکستان کے تجارتی مفادات کو نقصان پہنچتا رہے گا لیکن پاکستا ن کے لیے آسان شرائط پر قرضے حاصل کرنا بھی ممکن نہیں ہوگا۔
یہ بات طے ہے کہ حکومت جب تک اقتصادی استحکام کو ترجیح نہیں دیتی، معاشی عدم استحکام ختم نہیں ہو سکتا۔لوگوں کے ذرائع آمدن پہلے ہی کورونا وائرس کے منفی اثرات کے باعث آدھے سے بھی کم ہو چکے ہیں۔ جوں جوں دنیا میں حالات معمول پر واپس آئیں گے، ترقی یافتہ ممالک یا عالمی مالیاتی ادارے غریب ملکوں کو دی گئی ہنگامی مراعات بھی کم کرنا شروع کردیں گے۔حکومت کو اس وقت معیشت کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے سے موثر حکمت عملی ترتیب دینا ہوگی ۔
پاکستانی روپیہ ڈالر کی حاکمیت کا شکار ہے، اس معاشی افراتفری میں اشیاء ضروریہ کی قیمتوں کا کنٹرول میں رکھنا ممکن نظر نہیں آ رہا ہے، پی ٹی آئی حکومت کے تیسرے وفاقی بجٹ میں لگائے گئے بے شمار ٹیکس بھی قیمتوں میں اضافے کا موجب بن رہے ہیں، جب کہ دوسری جانب نیپرا میں پاور سیکٹر سبسڈی کو ازسر نو مرتب کرنے سے متعلق درخواست پر سماعت کے دوران چیئرمین نیپرا نے کہا ہے کہ اس طرح تو عوام کی چیخیں نکلیں گی اور زور دار جھٹکا لگے گا۔
صارف کے مفاد کو دیکھیں گے ۔پہلے مرحلے میں یہ ہمارے پاس سلیبز لے کر آئے ہیں، دوسرے مرحلے میں حکومت ٹیرف لے کر آئیں گے جب کہ وزارت توانائی حکام نے بریفنگ میں بتایا کہ درخواست میں 301سے700تک کے سلیب کو چار سلیب میں توڑنے کی درخواست ہے۔
بلاشبہ بجلی پر سبسڈی کے خاتمے سے غریب عوام کا جینا دوبھر ہوجائے گا۔ ملک میں ادویات کے قیمتوں میں مسلسل اضافے کے رحجان سے عام آدمی براہ راست متاثر ہورہا ہے، جب کہ عوامی نمایندگان پنجاب اسمبلی میں قیمتوں کے خلاف قراردادپاس کروا رہے ہیں ، سوال یہ ہے کہ اس طرح کی نمائشی قراردادوں سے عوام کو کیا ریلیف مل سکتا ہے ، حکومت کو ادویات کی قیمتوں پر کنٹرول کرنے کے لیے مضبوط ومربوط حکمت عملی ترتیب دینی چاہیے۔ حکومت کے مطابق معیشت ترقی کر رہی ہے،تمام انڈسٹریاں ترقی کر رہی ہیں۔
اس ضمن میں غیر جانبدارتجزیہ حقائق کے حل میں معاون ومددگار ثابت ہوگا ،اس لیے ملکی معیشت کے تناظر میں عوامی مسائل کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ گزشتہ مالی سال میں کورونا وباء کے سبب لگنے والے عالمی لاک ڈاؤن کے سبب عالمی معیشت میں سست روی کا رجحان رہا،جس کا اثر پاکستانی معیشت پر بھی دیکھنے میں آیا اور ملکی ترقی کی شرح مزید تنزلی کا شکار ہو کر منفی 0.4 فیصد تک جا پہنچی۔
اس سے قبل پاکستان کی معیشت میں منفی گروتھ 1952-1951میں دیکھی گئی تھی۔ ڈالر کی قدر میں اضافہ، پٹرول و دیگر اجناس کی قیمتوں میں اضافہ، اور مہنگائی اور بیروزگاری کی شرح میں اضافے نے ملکی جی ڈی پی کو منفی تک لیجانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ تاہم رواں مالی سال کے دوران حکومت کی جانب سے بروقت کیے جانے والے اقدامات جس میں لاک ڈاؤن میں نرمی، 1200 ارب روپے کا تاریخی کورونا ریلیف پیکیج جب کہ حال ہی میں حکومت کی جانب سے پیش کردہ اقتصادی سروے کے مطابق زرعی شعبے کی شرح نمو 3.8 فیصد کے ہدف سے گر کر0.85 فیصد تک تنزلی کا شکار ہوئی ہے۔ زرعی شعبے کا ایسا منفی گراف پہلی بار ہدف سے بہت نیچے نہیں آیا ہے۔
زرعی شعبے کی تنزلی آج کا رونا نہیں یہ قصہ بہت پرانا ہے جس کا بغور جائزہ لے کر موثر پالیسیوں پر بھرپور عملدرآمد کو یقینی بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انتہائی بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ قیام پاکستان سے اب تک ماسوائے دو ایک ادوار کے سبھی حکومتوں نے زرعی شعبے کو بری طرح نظر انداز کیا کہ 80 فیصد زرعی شعبے کے خام مال پر انحصار کرنے والے صنعتی شعبے کو تو ہر دور میں بیش بہا مراعات اور سہولتوں سے نوازا گیا مگر صنعتوں کے پہیہ کو رواں دواں رکھنے والے زرعی شعبے کو اونٹ کے منہ میں زیرہ کے مصداق انتہائی کم ترقیاتی فنڈز دے کربری طرح نظر انداز کیا گیا۔
مختلف اطلاعات کے مطابق اب تک موجودہ حکومت کئی ارب ڈالر کا غیر ملکی قرض لے چکی ہے۔ جدید معیشت میں قرض لینا بجائے خود غیر صحت مند رجحان نہیں ہے لیکن اس کا پیداواری مصرف اہم ہوتاہے۔ یعنی بیرونی قرض کو ملک کی پیدا واری صلاحیت میں اضافہ یا ترقیاتی منصوبوں میں سرمایہ کاری کے لیے استعمال کیا جائے۔
موجودہ حکومت کے دور میں بوجوہ یہ اقدام نہیں ہوسکا۔ حکومت اپنی باقی ماندہ مدت میں بھی اس رجحان کو تبدیل کرنے کی کوشش شاید کامیاب نہ ہوسکے۔ 2020 کے دوران پاکستان کو مالی وسائل دوست ملکوں کے تعاون اور کورونا وائرس کی وجہ سے پیدا ہونے والے عالمی بحران میں جی۔20 ممالک کی سہولتوں کی وجہ سے حاصل ہوئے تھے۔ ایک رپورٹ کے مطابق اس سال آٹے کی قیمتوں میں پچاس سے ساٹھ فیصد،چینی بیس سے تیس فیصد، دالیں پچیس سے چالیس فیصد، کوکنگ آئل، گوشت، دودھ اور چاول کی قیمتوں میں دس فیصد تک اضافہ ہو چکا ہے۔
انتظامی اداروں میں موجود پرائس کنٹرول کمیٹیاں بھی مہنگائی کو کنٹرول کرنے میں ناکام دکھائی دیتی ہیں۔ ملک میں مہنگائی کی شرح کا تعین تین طریقوں سے کیا جاتا ہے۔ اس میں ایک ماہانہ بنیادوں پر مہنگائی کی شرح کے اعداد و شمار ہیں جو کنزیومر پرائس انڈیکس کہلاتا ہے۔ اس میں ماہانہ بنیادوں پر قیمتوں میں ردّوبدل کو ظاہر کیا جاتا ہے۔
ہفتہ وار بنیادوں پر قیمتوں میں ہونے والے ردّ و بدل کو یہ ادارہ قیمتوں کے خاص اشاریے کے تحت جاری کرتا ہے، جس میں ہفتہ وار بنیادوں پر اشیائے خورو نوش کی قیمتوں کا تقابل کیا جاتا ہے۔مہنگائی جانچنے کے لیے تیسرا طریقہ ہول سیل پرائس انڈیکس ہے، جس میں ماہانہ بنیادوں پر ہول سیل کی سطح پر قیمتوں میں ردّ و بدل کو دیکھا جاتا ہے۔
اس وقت غریب طبقہ سب سے زیادہ متاثرہے، جو کرائے کے گھروں میں رہتا ہے۔ گزشتہ دس سالوں سے مکانوں اور دکانوں کے بڑھتے ہوئے کرائے بھی مہنگائی میں مسلسل اضافہ کر رہے ہیں۔ نجی اسپتالوں ڈاکٹروں اور اسکولوں کی بڑھتی ہوئی فیسیں اور مہنگی ادویات بھی مہنگائی میں اضافے کا اہم ذریعہ ہیں۔ صحت اور تعلیم دونوں حکومت کی ذمے داری ہوتے ہیں۔
عوام سے لیے گئے ٹیکسوں کے عوض ریاست نے عوام کو صحت اور تعلیم کی جو معیاری سہولتیں فراہم کرنی ہوتی ہیں۔ ان سہولتوں کی فراہمی بھی اشرافیہ تک محدود ہے،ان حالات میں اشرافیہ نے کم آمدنی والے طبقات کو کچل کر رکھ دیا ہے۔کنزیومر پرائس انڈکس آبادی کے استعمال کی اشیا کا جو سیٹ بناتی ہے،اسے سی پی آئی باسکٹ کہا جاتا ہے،جس کے مطابق ایک پاکستانی شہری ماہانہ 34.58 فیصد کھانے پر 26.68 فیصد مکان کے کرائے بجلی، گیس ،پانی کے بلوں پر خرچ کرتا ہے۔ 8.6 فیصد کپڑوں جوتوں پر 7 فیصد ہوٹلنگ پر 6 فیصد ٹرانسپورٹ کرایوں پر 3.8 فیصد تعلیم پر اور 2.7 فیصد صحت پر خرچ کرتا ہے۔
پاکستان میں مہنگائی کی شرح میں اضافے کی وجہ حالیہ دنوں میں حکومت کی جانب سے بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ ہے۔ پاکستان میں مہنگائی کی شرح 10 فیصد سے تجاوز کر گئی ہے، جس سے ملک میں مہنگائی کی ایک نئی لہر آنے کے خدشات بھی موجود ہیں۔ ماہرین کے مطابق مہنگائی کی شرح دو ہندسوں (ڈبل ڈیجیٹس) میں جانا معاشی صورت حال کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔
ملکی معاشی ماہرین کی آراء کو سامنے رکھیں تو چند بنیادی نکات سامنے آتے ہیں۔ حکومت کی نئی پالیسیاں جب آتی ہیں تو مہنگائی کی شرح میں عمومی طور پر اضافہ ہوتا ہے، گزشتہ سال کے مقابلے میں اس سال ایک عام فرد کی آمدنی میں 15 فیصد اضافے کی ضرورت ہے، ٹیکسز میں اضافے کی وجہ سے یہ سال عوام کے لیے مزید مشکل ہوگا۔ حالیہ بارشوں کے بعد ملک میں سیلاب کی صورت حال پیدا ہو سکتی ہے جس سے اشیائے خورونوش میں قلت پیدا ہونا کا خدشہ ہے۔
ادارہ شماریات کے مطابق جولائی میں مجموعی طورپرمہنگائی میں1.3فیصد کا اضافہ ہوا اور مجموعی مہنگائی کی شرح 8.4فیصد تک پہنچ گئی۔ادارہ شماریات کا کہنا تھا کہ شہری علاقوں میں مہنگائی کی شرح 8.7فیصد اور دیہی علاقوں میں8فیصد رہی۔ غیر ملکی قرضہ جات بھی معیشتیں کمزور کرتے ہیں،حکومتی اخراجات اور معاشی خسارہ پورا کرنے کے لیے زیادہ نوٹ چھاپنے سے افراط زر پھیلتا ہے۔
دولت کی غیر مساوی تقسیم بھی مہنگائی کو بڑھاوا دیتی ہے کیونکہ دولت مند افراد کم وسائل کے حامل لوگوں کو لوٹنے لگ جاتے ہیں،جو مہنگائی کا باعث بنتے ہیں۔اس صورت میں قرضوں پر انحصار کی عادی پاکستانی حکومت عالمی منڈیوں میں کمرشل بنیادوں پر مہنگے سود پر قرض لینے پر مجبور ہوگی۔
اس طرح پاکستانی عوام پر محصولات کا بوجھ ناقابل برداشت ہوجائے گا۔ کیوں کہ ملک میں ٹیکس نیٹ بڑھانے، لوگوں کو انکم ٹیکس دینے پر آمادہ کرنے، نظام میں دیرپا اور مؤثر اصلاحات کا کوئی طریقہ کامیاب نہیں ہوسکا ہے۔ حکومت ابھی تک اپنی آمدنی کے لیے بالواسطہ ٹیکس عائد کرنے پر مجبور ہے جو براہ راست غریب عوام سے وصول کیا جاتا ہے۔
اس طریقہ سے ملکی معیشت بھی مسلسل عدم توازن کا شکار رہتی ہے جس کی وجہ سے قرض ریٹنگ میں اس کی حیثیت متاثر ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس نے ابھی تک پاکستان کو گرے لسٹ سے خارج نہیں کیا،اگر نئے سال میں یہ اہم فیصلہ نہ ہوسکا تو اس سے ایک تو عالمی منڈیوں میں پاکستان کے تجارتی مفادات کو نقصان پہنچتا رہے گا لیکن پاکستا ن کے لیے آسان شرائط پر قرضے حاصل کرنا بھی ممکن نہیں ہوگا۔
یہ بات طے ہے کہ حکومت جب تک اقتصادی استحکام کو ترجیح نہیں دیتی، معاشی عدم استحکام ختم نہیں ہو سکتا۔لوگوں کے ذرائع آمدن پہلے ہی کورونا وائرس کے منفی اثرات کے باعث آدھے سے بھی کم ہو چکے ہیں۔ جوں جوں دنیا میں حالات معمول پر واپس آئیں گے، ترقی یافتہ ممالک یا عالمی مالیاتی ادارے غریب ملکوں کو دی گئی ہنگامی مراعات بھی کم کرنا شروع کردیں گے۔حکومت کو اس وقت معیشت کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے سے موثر حکمت عملی ترتیب دینا ہوگی ۔