آئی سی سی پر قبضے کا منصوبہ ’بگ تھری‘ کیخلاف عالمی احتجاجی تحریک شروع
سابق منتظمین نے بھارت، آسٹریلیا اور انگلینڈ کو خبردار کیا ہے کہ وہ کرکٹ کو تباہ کرنے سے باز رہیں.
سابق ویسٹ انڈین کپتان کلائیو لائیڈ، شہریار خان، توقیر ضیا، صابر چوہدری اورجنوبی افریقہ کے علی باقرنے بھی متنازع ڈرافٹ کی واپسی کا مطالبہ کردیا۔ فوٹو: فائل
آئی سی سی پر قبضے کا خواب دیکھنے والے 'بگ تھری' کے خلاف عالمی احتجاجی تحریک شروع ہوگئی۔
سابق منتظمین نے بھارت، آسٹریلیا اور انگلینڈ کو خبردار کیا ہے کہ وہ کرکٹ کو تباہ کرنے سے باز رہیں، میلکولم اسپیڈ اور میلکولم گرے نے بھی احسان مانی کے احتجاجی لیٹر پر دستخط کردیے، کلائیو لائیڈ، شہریار خان، توقیر ضیا، صابر چوہدری اور علی باقر بھی ہمنوائوں میں شامل ہیں، آئی سی سی سے فوری طور پر متنازع ڈرافٹ واپس لینے کا مطالبہ کردیاگیا، گورننس میں بہتری کیلیے لارڈ وولف رپورٹ پر نظرثانی کو بھی کہا گیا ہے، پوزیشن پیپر کو کرکٹ کیلیے خطرناک قرار دیا گیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق بھارت، آسٹریلیا اور انگلینڈ نے انٹرنیشنل کرکٹ پر قبضے کا خطرناک منصوبہ تیار کیا جس کے خلاف اب ایک عالمی احتجاجی تحریک شروع ہوگئی ہے جس کا آغاز آئی سی سی کے سابق صدر احسان مانی نے کیا جبکہ اب اس کو انٹرنیشنل کونسل کے دو اہم سابق آفیشلز میلکولم اسپیڈ اور میلکولم گرے نے بھی جوائن کرلیا ہے۔
یہ دونوں آسٹریلوی کرکٹ سے بھی منسلک رہے جبکہ اب بھی دونوں کے موجودہ بورڈ سے قریبی روابط ہیں۔ انھوں نے اس احتجاجی لیٹر پر دستخط کیے ہیں جوکہ احسان مانی نے آئی سی سی کے صدر ایلن آئزک کے نام لکھا ہے، یہ 13 صفحات پر مشتمل ہے جس میں ڈرافٹ پیپر کے مضمرات سے خبردار کیا گیا ہے، اس پیپر پر غور منگل اور بدھ کو دبئی میں شیڈول آئی سی سی ایگزیکٹیو بورڈ میٹنگ میں ہوگا، اس خط پر ویسٹ انڈیز کے سابق کپتان کلائیو لائیڈ، پی سی بی کے سابق سربراہان شہریار خان اور لیفٹیننٹ جنرل(ر) توقیر ضیا اور بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کے سابق صدر صابر حسین چوہدری کے بھی دستخط ہیں۔ جنوبی افریقی کرکٹ بورڈ کے سابق منیجنگ ڈائریکٹر علی باقر نے بھی احسان مانی کی جانب سے دیے گئے دلائل کی تائید کی ہے، ساتھ میں انھوں نے ایلن آئزک کو وہ وقت یاد دلایا ہے جب انگلینڈ اور آسٹریلیا کے پاس ویٹو پاور ہوا کرتی تھی اور وہ خاص طور پر ایشین ممالک اورکیریبیئن کو اپنی نفرت کا نشانہ بنایا کرتے تھے۔
انھوں نے یہ بھی کہا کہ اگر پوزیشن پیپر کو قبول کرلیا گیا تو اس سے نہ صرف کرکٹ تقسیم ہوجائے گی بلکہ ایسی تباہ ہوگی جس کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ اسپیڈ اور گرے کی اس احتجاجی مہم میں شمولیت سے اس کا پلڑہ کافی بھاری ہوگیا ہے، اسپیڈ اب بھی کرکٹ آسٹریلیا کے چیف ایگزیکٹیو جیمز سدرلینڈ کے ساتھ رابطے میں ہیں، اس خط پر دستخط کرنے والے تمام سابق منتظمین نے مطالبہ کیا ہے کہ آئی سی سی فوری طور پر فنانس کمیٹی کے ورکنگ گروپ کے تیار کردہ پوزیشن پیپر سے دستبردار ہوجائے اور کھیل کے تمام اسٹیک ہولڈرز لارڈ وولف کی کونسل میں گورننس بہتر بنانے کیلیے دی گئی تجاویز پر غورکریں اور اس پر عمل کیا جائے۔
میلکولم اسپیڈ نے بھی احسان مانی کے موقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ مجھے اس بات کی سمجھ نہیں آتی کہ بھارت کو آئی سی سی ایونٹس سے ہونی والی آمدنی سے زیادہ حصہ کیوں درکار ہے وہ کیوں اسکاٹ لینڈ، آئرلینڈ، یوگینڈا، کینیا اور دیگر 100 ایسوسی ایٹ و ایفیلیٹ ممالک کا حق کیوں مارنا چاہتا ہے جہاں پر ایک ایک ڈالر کی اہمیت یہ جبکہ بھارت خود اپنے ڈومیسٹک اور انٹرنیشنل میڈیا حقوق سے کروڑوں اربوں ڈالر کمارہا ہے، بھارت میں کرکٹ کی مقبولیت سے پہلے ہی بھارتی بورڈ سب سے زیادہ فائدہ اٹھارہا اور اسے دنیا بھر میں سب سے امیر ترین بورڈ ہونے کا اعزاز حاصل ہے جبکہ دیگر بورڈز کو اپنے ملک میں کرکٹ کو چلانے کیلیے اضافی فنڈز درکار ہوتے ہیں ماضی میں بی سی سی آئی کے سابق صدور کرکٹ کے مختلف ممالک میں فروغ کے حامی رہے ہیں جگموہن ڈالمیا نے بھارتی بورڈ اور پھر آئی سی سی کا صدر ہونے کی حیثیت سے ریونیو کو پوری کرکٹ برادری میں تقسیم کرنے میں اہم کردار ادا کیا، بی سی سی آئی کو اپنی موجودہ پوزیشن پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے۔
سابق منتظمین نے بھارت، آسٹریلیا اور انگلینڈ کو خبردار کیا ہے کہ وہ کرکٹ کو تباہ کرنے سے باز رہیں، میلکولم اسپیڈ اور میلکولم گرے نے بھی احسان مانی کے احتجاجی لیٹر پر دستخط کردیے، کلائیو لائیڈ، شہریار خان، توقیر ضیا، صابر چوہدری اور علی باقر بھی ہمنوائوں میں شامل ہیں، آئی سی سی سے فوری طور پر متنازع ڈرافٹ واپس لینے کا مطالبہ کردیاگیا، گورننس میں بہتری کیلیے لارڈ وولف رپورٹ پر نظرثانی کو بھی کہا گیا ہے، پوزیشن پیپر کو کرکٹ کیلیے خطرناک قرار دیا گیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق بھارت، آسٹریلیا اور انگلینڈ نے انٹرنیشنل کرکٹ پر قبضے کا خطرناک منصوبہ تیار کیا جس کے خلاف اب ایک عالمی احتجاجی تحریک شروع ہوگئی ہے جس کا آغاز آئی سی سی کے سابق صدر احسان مانی نے کیا جبکہ اب اس کو انٹرنیشنل کونسل کے دو اہم سابق آفیشلز میلکولم اسپیڈ اور میلکولم گرے نے بھی جوائن کرلیا ہے۔
یہ دونوں آسٹریلوی کرکٹ سے بھی منسلک رہے جبکہ اب بھی دونوں کے موجودہ بورڈ سے قریبی روابط ہیں۔ انھوں نے اس احتجاجی لیٹر پر دستخط کیے ہیں جوکہ احسان مانی نے آئی سی سی کے صدر ایلن آئزک کے نام لکھا ہے، یہ 13 صفحات پر مشتمل ہے جس میں ڈرافٹ پیپر کے مضمرات سے خبردار کیا گیا ہے، اس پیپر پر غور منگل اور بدھ کو دبئی میں شیڈول آئی سی سی ایگزیکٹیو بورڈ میٹنگ میں ہوگا، اس خط پر ویسٹ انڈیز کے سابق کپتان کلائیو لائیڈ، پی سی بی کے سابق سربراہان شہریار خان اور لیفٹیننٹ جنرل(ر) توقیر ضیا اور بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کے سابق صدر صابر حسین چوہدری کے بھی دستخط ہیں۔ جنوبی افریقی کرکٹ بورڈ کے سابق منیجنگ ڈائریکٹر علی باقر نے بھی احسان مانی کی جانب سے دیے گئے دلائل کی تائید کی ہے، ساتھ میں انھوں نے ایلن آئزک کو وہ وقت یاد دلایا ہے جب انگلینڈ اور آسٹریلیا کے پاس ویٹو پاور ہوا کرتی تھی اور وہ خاص طور پر ایشین ممالک اورکیریبیئن کو اپنی نفرت کا نشانہ بنایا کرتے تھے۔
انھوں نے یہ بھی کہا کہ اگر پوزیشن پیپر کو قبول کرلیا گیا تو اس سے نہ صرف کرکٹ تقسیم ہوجائے گی بلکہ ایسی تباہ ہوگی جس کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ اسپیڈ اور گرے کی اس احتجاجی مہم میں شمولیت سے اس کا پلڑہ کافی بھاری ہوگیا ہے، اسپیڈ اب بھی کرکٹ آسٹریلیا کے چیف ایگزیکٹیو جیمز سدرلینڈ کے ساتھ رابطے میں ہیں، اس خط پر دستخط کرنے والے تمام سابق منتظمین نے مطالبہ کیا ہے کہ آئی سی سی فوری طور پر فنانس کمیٹی کے ورکنگ گروپ کے تیار کردہ پوزیشن پیپر سے دستبردار ہوجائے اور کھیل کے تمام اسٹیک ہولڈرز لارڈ وولف کی کونسل میں گورننس بہتر بنانے کیلیے دی گئی تجاویز پر غورکریں اور اس پر عمل کیا جائے۔
میلکولم اسپیڈ نے بھی احسان مانی کے موقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ مجھے اس بات کی سمجھ نہیں آتی کہ بھارت کو آئی سی سی ایونٹس سے ہونی والی آمدنی سے زیادہ حصہ کیوں درکار ہے وہ کیوں اسکاٹ لینڈ، آئرلینڈ، یوگینڈا، کینیا اور دیگر 100 ایسوسی ایٹ و ایفیلیٹ ممالک کا حق کیوں مارنا چاہتا ہے جہاں پر ایک ایک ڈالر کی اہمیت یہ جبکہ بھارت خود اپنے ڈومیسٹک اور انٹرنیشنل میڈیا حقوق سے کروڑوں اربوں ڈالر کمارہا ہے، بھارت میں کرکٹ کی مقبولیت سے پہلے ہی بھارتی بورڈ سب سے زیادہ فائدہ اٹھارہا اور اسے دنیا بھر میں سب سے امیر ترین بورڈ ہونے کا اعزاز حاصل ہے جبکہ دیگر بورڈز کو اپنے ملک میں کرکٹ کو چلانے کیلیے اضافی فنڈز درکار ہوتے ہیں ماضی میں بی سی سی آئی کے سابق صدور کرکٹ کے مختلف ممالک میں فروغ کے حامی رہے ہیں جگموہن ڈالمیا نے بھارتی بورڈ اور پھر آئی سی سی کا صدر ہونے کی حیثیت سے ریونیو کو پوری کرکٹ برادری میں تقسیم کرنے میں اہم کردار ادا کیا، بی سی سی آئی کو اپنی موجودہ پوزیشن پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے۔