قائداعظم ٹرافی فائنل اویس اور زاہد نے راولپنڈی کو سہارا دیدیا
اسلام آباد کیخلاف 60 پر6 وکٹیں گرجانے پردونوں پلیئرز نے 139کی شراکت قائم کی، ابتدائی دن ٹیم نے 7 وکٹ پر204رنز جوڑ لیے
آئی سی سی کا چیئرمین نامزد کرنے کے ساتھ ٹیسٹ بھی زیادہ تر آپس میں ہی کھیلیں گے،ایف ٹی پی باہمی معاہدہ بن جائیگا۔ فوٹو: اے ایف پی/فائل
قائد اعظم ٹرافی کے فائنل میں اویس ضیا اور زاہد منصور نے راولپنڈی کی لڑکھڑاتی اننگز کو سہارا دیدیا۔
صرف60 رنز پر6 وکٹیں گرنے کے بعد دونوں نے 139کی شراکت بنا ڈالی، اویس 76پر آئوٹ ہوئے، زاہد 60 رنز بناکرحریف بولرز کے سامنے ڈٹے ہوئے ہیں، ٹیم نے 7 وکٹ پر 204 کے ساتھ میچ کے پہلے روز کا اختتام کیا، اسلام آباد کی طرف سے جنید نادر 3وکٹیں حاصل کرکے سب سے کامیاب بولر رہے، شہزاد اعظم اور مدثر علی نے 2،2 شکار کیے۔ تفصیلات کے مطابق لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں سیزن کے فرسٹ کلاس کی قائد اعظم ٹرافی کیلیے فیصلہ کن جنگ کے پہلے روز اسلام آباد کے کپتان عماد وسیم نے ٹاس جیت کر نم آلود وکٹ پر پہلے بولنگ کو ترجیح دی، ان کا فیصلہ درست ثابت ہوا، راولپنڈی کی اننگز ابتدا میں ہی تباہی کا شکار ہوگئی، شعیب ناصر پہلے ہی اوور میں اپنا اور ٹیم کا کھاتہ کھولے بغیر میدان بدر ہوگئے، شہزاد اعظم نے ان کو وکٹ کیپر کا کیچ بنوانے کے بعد اپنے اگلے ہی اوور میں حسیب اعظم کو بھی صفر پر ایل بی ڈبلیو کردیا۔
عدنان محمود نے بڑے محتاط انداز میں کھیلتے ہوئے 12رنز بنائے لیکن مدثر علی کی بولنگ پر ان کی بیلز فضا میں بکھر گئیں، تیسری وکٹ 48کے ٹوٹل پر گرنے کے بعد ایک بار پھر بیٹنگ لڑکھڑاگئی،صرف ایک رن کے اضافے پر نوید ملک (33)کی اننگز کا مدثر علی نے اختتام کیا،اس کامیابی کیلیے بولر نے وکٹ کیپر کاشف محمود کی معاونت حاصل کی، بابر نعیم نے بھی اسکور بورڈ کو زحمت دینا گوارا نہ کیا، جنید نادر کی گیند پر محمد کاشف کو تیسرا کیچ پکڑنے کا موقع ملا، اسکور60 پر پہنچا تھا کہ پیسر نے مزمل نظام( 10) کو ایل بی ڈبلیو کرکے دوسری وکٹ حاصل کی، اس وقت ایسا محسوس ہورہا تھا کہ راولپنڈی کی بساط 100رنز کے مجموعے سے قبل لپیٹ دی جائے گی، تاہم اویس ضیا نے مشکل وقت میں شاندار بیٹنگ کرتے ہوئے اسلام آباد کی امیدوں پر پانی پھیر دیا۔
نوجوان بیٹسمین نے زاہد منصور کے ہمراہ ساتویں وکٹ کیلیے 139رنز کی شراکت قائم کرنے کے بعد 76کے انفرادی اسکور پر اننگز کا اختتام کیا، ان کی قیمتی وکٹ ایل بی ڈبلیو فیصلے کے ذریعے جنید نادر کے حصے میں آئی،اویس کے آئوٹ ہونے کے بعد پارٹنر زاہد نے دن کے آخری اوور میں اپنی وکٹ محفوظ رکھی، راولپنڈی نے پہلے روز 7وکٹ پر 204 رنز بنائے ہیں، ثابت قدم بیٹسمین 60رنز کے ساتھ کریز پر موجود ہیں، پیر کو ان کے ساتھ طلحہ قریشی اننگز کا دوبارہ آغاز کرینگے، انھوں نے ابھی اپنا کھاتہ نہیں کھولا ہے، اسلام آباد کی طرف سے سب سے کامیاب بولر جنید نادر رہے، پیسر نے 46 رنز کے عوض 3وکٹیں حاصل کیں، شہزاد اعظم نے8 اوورز میں صرف 8رنز دیکر 2مہرے کھسکائے، مدثر علی نے اتنے ہی شکار کرنے کیلیے 63رنز دیئے،عماد وسیم37، سرمد بھٹی23 اور موعید احمد19رنز کے بدلے میں کوئی وکٹ نہ حاصل کرسکے، ٹرافی کا فائنل میچ 5روزہ ہے۔
صرف60 رنز پر6 وکٹیں گرنے کے بعد دونوں نے 139کی شراکت بنا ڈالی، اویس 76پر آئوٹ ہوئے، زاہد 60 رنز بناکرحریف بولرز کے سامنے ڈٹے ہوئے ہیں، ٹیم نے 7 وکٹ پر 204 کے ساتھ میچ کے پہلے روز کا اختتام کیا، اسلام آباد کی طرف سے جنید نادر 3وکٹیں حاصل کرکے سب سے کامیاب بولر رہے، شہزاد اعظم اور مدثر علی نے 2،2 شکار کیے۔ تفصیلات کے مطابق لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں سیزن کے فرسٹ کلاس کی قائد اعظم ٹرافی کیلیے فیصلہ کن جنگ کے پہلے روز اسلام آباد کے کپتان عماد وسیم نے ٹاس جیت کر نم آلود وکٹ پر پہلے بولنگ کو ترجیح دی، ان کا فیصلہ درست ثابت ہوا، راولپنڈی کی اننگز ابتدا میں ہی تباہی کا شکار ہوگئی، شعیب ناصر پہلے ہی اوور میں اپنا اور ٹیم کا کھاتہ کھولے بغیر میدان بدر ہوگئے، شہزاد اعظم نے ان کو وکٹ کیپر کا کیچ بنوانے کے بعد اپنے اگلے ہی اوور میں حسیب اعظم کو بھی صفر پر ایل بی ڈبلیو کردیا۔
عدنان محمود نے بڑے محتاط انداز میں کھیلتے ہوئے 12رنز بنائے لیکن مدثر علی کی بولنگ پر ان کی بیلز فضا میں بکھر گئیں، تیسری وکٹ 48کے ٹوٹل پر گرنے کے بعد ایک بار پھر بیٹنگ لڑکھڑاگئی،صرف ایک رن کے اضافے پر نوید ملک (33)کی اننگز کا مدثر علی نے اختتام کیا،اس کامیابی کیلیے بولر نے وکٹ کیپر کاشف محمود کی معاونت حاصل کی، بابر نعیم نے بھی اسکور بورڈ کو زحمت دینا گوارا نہ کیا، جنید نادر کی گیند پر محمد کاشف کو تیسرا کیچ پکڑنے کا موقع ملا، اسکور60 پر پہنچا تھا کہ پیسر نے مزمل نظام( 10) کو ایل بی ڈبلیو کرکے دوسری وکٹ حاصل کی، اس وقت ایسا محسوس ہورہا تھا کہ راولپنڈی کی بساط 100رنز کے مجموعے سے قبل لپیٹ دی جائے گی، تاہم اویس ضیا نے مشکل وقت میں شاندار بیٹنگ کرتے ہوئے اسلام آباد کی امیدوں پر پانی پھیر دیا۔
نوجوان بیٹسمین نے زاہد منصور کے ہمراہ ساتویں وکٹ کیلیے 139رنز کی شراکت قائم کرنے کے بعد 76کے انفرادی اسکور پر اننگز کا اختتام کیا، ان کی قیمتی وکٹ ایل بی ڈبلیو فیصلے کے ذریعے جنید نادر کے حصے میں آئی،اویس کے آئوٹ ہونے کے بعد پارٹنر زاہد نے دن کے آخری اوور میں اپنی وکٹ محفوظ رکھی، راولپنڈی نے پہلے روز 7وکٹ پر 204 رنز بنائے ہیں، ثابت قدم بیٹسمین 60رنز کے ساتھ کریز پر موجود ہیں، پیر کو ان کے ساتھ طلحہ قریشی اننگز کا دوبارہ آغاز کرینگے، انھوں نے ابھی اپنا کھاتہ نہیں کھولا ہے، اسلام آباد کی طرف سے سب سے کامیاب بولر جنید نادر رہے، پیسر نے 46 رنز کے عوض 3وکٹیں حاصل کیں، شہزاد اعظم نے8 اوورز میں صرف 8رنز دیکر 2مہرے کھسکائے، مدثر علی نے اتنے ہی شکار کرنے کیلیے 63رنز دیئے،عماد وسیم37، سرمد بھٹی23 اور موعید احمد19رنز کے بدلے میں کوئی وکٹ نہ حاصل کرسکے، ٹرافی کا فائنل میچ 5روزہ ہے۔