افغانستان کی تیزی سے بدلتی صورت حال
طالبان کے دوبارہ سرگرم ہونے سے افغان سرزمین شدت پسندوں کی افزائش گاہ بن جائے گی۔
طالبان کے دوبارہ سرگرم ہونے سے افغان سرزمین شدت پسندوں کی افزائش گاہ بن جائے گی۔ فوٹو: فائل
قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ہونے والے ٹرائیکا پلس اجلاس میں شریک ممالک نے افغان تنازع کے فریقین پر شہروں میں جاری تشدد فوری روکنے پر زور دیا ہے۔
مشترکہ اعلامیہ میں فریقین پر زور دیا گیا کہ وہ سیاسی تصفیے اور جنگ بندی معاہدے تک پہنچنے کی کوششیں تیز کریں۔ مذاکرات میں شریک امریکی خصوصی ایلچی زلمے خلیل زاد نے ٹویٹر پر اعلامیہ شیئر کیا ہے، جس میں افغانستان میں صوبائی دارالحکومتوں میں تشدد اور مزید شہروں پر حملے ختم کرنے پر زور دیا گیا ہے۔
دوحہ اجلاس میں پاکستان، چین، ازبکستان، امریکا، برطانیہ، قطر، اقوام متحدہ اور یورپی یونین کے نمائندوں نے شرکت کی۔ افغانستان کی صورت حال کے حوالے سے یہ اجلاس انتہائی اہمیت کا حامل سمجھا جا رہا ہے۔ اجلاس کے بعد قطر کی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ افغان امن عمل تیز کرنے کے لیے فریقین کی جانب سے ٹھوس تجاویز پیش کرنے اور بات چیت کی فوری ضرورت ہے۔
افغان میڈیا کے حوالے سے ملکی میڈیا میں جو خبریں آئی ہیں، ان کے مطابق افغانستان کے نائب صدر امراللہ صالح نے کہا ہے کہ ان کی حکومت اور سیکیورٹی فورسز دہشت گردوں کے خلاف ڈٹی رہیں گی۔
انھوں نے ٹویٹ میں بتایا کہ افغانستان کے صدر اشرف غنی کی زیرصدارت افغانستان کی سیکیورٹی کونسل کے اہم اجلاس میں طے کیا گیا ہے کہ قومی سالمیت پر آنچ نہیںآنے دی جائے گی۔ یہ تو افغانستان کی حکومت کے اہم عہدیدار کا بیان یا دعویٰ ہے لیکن اصل مقابلہ تو میدان میں ہو رہا ہے۔ اس مقابلے میں طالبان بہتر پوزیشن میں ہیں۔
دوحہ میں ٹرائیکا پلس کا جو اجلاس ہوا، اس میں شریک ہونے والے ممالک نے کوئی عملی اقدام یا فیصلہ نہیں کیا، صرف ناصحانہ اعلامیہ جاری کیا گیا جس میں متحارب فریقوں کو تشدد روکنے اور مذاکرات کرنے کی ایک طرح سے اپیل کی گئی ہے۔ یوں دیکھا جائے تو سفارتی محاذ پر ہونے والی یہ پیش رفت بھی افغاستان میں جنگی بندی کرانے میں کامیاب نظر نہیں آتی۔
امریکا، چین اور روس جب تک سنجیدہ ہو کر افغان مسئلے پر غور کر کے کوئی حکمت عملی طے نہیں کرتے، افغانستان میں امن کا قیام ممکن نظر نہیں آتا۔ ادھر میڈیا کے ذریعے پہنچنے والی اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ افغانستان سرکاری فوجوں اور طالبان جنگجوؤں کے مابین لڑائی ہو رہی ہے۔
ان خبروں کے مطابق لڑائی میں طالبان جنگجوؤں کا پلڑا بھاری نظر آرہا ہے۔ طالبان اپنی بھرپور قوت کا مظاہرہ کرتے ہوئے مسلسل پیش قدمی کر رہے ہیں۔
میڈیا کے مطابق طالبان نے ہرات کے بعد افغانستان کے 5 مزید صوبائی دارالحکومتوں پر قبضہ کر لیا ہے اور وہ آہستہ آہستہ افغانستان کے دارالحکومت کابل کو گھیر ے میں لینے کی تیاری کر رہے ہیں۔
ہرات کی صوبائی کونسل کے رکن غلام حبیب حاشمی کے حوالے سے میڈیا میں کہا گیا ہے کہ طالبان سے معاہدے کے بعد ملیشیا کمانڈر محمد اسماعیل اور گورنر عبدالصبور کو طالبان کے حوالے کیا گیا ہے۔ طالبان نے یقین دہانی کرائی ہے کہ ہتھیار ڈالنے والوں کو نقصان نہیں پہنچایا جائے گا۔
واضح رہے کہ اسماعیل خان نمایاں جنگجوؤں میں سے ایک ہے اور اسے شیرِہرات کے طور پر جانا جاتا ہے۔ وہ 1980 کی دہائی میں روسی قابضین سے لڑا اور شمالی اتحاد کا اہم رکن تھا، جس نے امریکی حمایت سے 2001میں طالبان کا تختہ الٹا، وہ حالیہ ہفتوں میں طالبان کے خلاف لڑنے والے جنگجوؤں کی قیادت کرتا رہا ہے۔ اس کے ہتھیار ڈالنے کے بعد اشرف غنی سرکار مایوس نظر آ رہی ہے۔
ادھر افغانستان کے مغربی صوبہ غور کے صوبائی کونسل کے سربراہ فضل حق احسان نے بتایا ہے کہ طالبان صوبہ غور کے دارالحکومت فیروز کوہ میں داخل ہو گئے ہیں۔ طالبان نے افغانستان کے ایک اور صوبے بادغیس کے دارالحکومت قلعہ نو پر قبضہ کرنے کا دعویٰ بھی کیا ہے۔ انھوں نے صوبہ لوگرکے صوبائی دارالحکومت میں پولیس ہیڈ کوارٹر اور قریبی جیل پربھی قبضہ کر لیا ہے۔ یہ شہر کابل سے 80 کلومیٹر دور جنوب میں ہے۔ یوں دیکھا جائے تو کابل زیادہ دور نہیں ہے۔
روسی خبررساں ادارے نے بھی کہا ہے کہ افغان دارالحکومت کابل کی جانب طالبان کی پیش قدمی تیزی سے جاری ہے۔ افغان میڈیا کے مطابق افغانستان کے صوبے لوگر کے گورنر قیوم عبدالقیوم اور ان کے ساتھ موجود 40 کے قریب سیکیورٹی اہلکار تقریباً 6 گھنٹے تک طالبان سے لڑتے رہے، اس دوران صوبائی پولیس سربراہ ، این ڈی ایس افسر سمیت دیگر حکام نے طالبان کے آگے سرنڈر کر دیا۔ صوبہ زابل کا دارالحکومت بھی طالبان کے قبضے میں چلا گیا ہے۔
جنوبی صوبہ ارزگان کے مقامی حکام نے دارالحکومت ترین کوٹ طالبان کے حوالے کر دیا۔ یہ صورت حال بتاتی ہے کہ افغان فوج کی مزاحمت نہ ہونے کے برابر ہے۔ جن جن علاقوں پر طالبان نے قبضے کا دعویٰ کیا ہے، وہاں سرکاری فوجوں کی مزاحمت کے آثار نہیں ملتے۔ ادھر تیزی سے تبدیل ہوتی اس صورت حال میں امریکی دفاعی ادارے پینٹاگو ن نے دعویٰ کیا ہے کہ طالبان کی تیز رفتار پیش قدمی کے باوجودکابل کو فوری خطرہ نہیں ہے۔
ترجمان جان کربی نے افغان فوج کو حالیہ صورت حال کا ذمے دار قرار دیا جو مزاحمت نہیں کر رہی۔ نیٹو کے سابق کمانڈر ایگون ریمز نے طالبان کی تیز رفتار پیش قدمی پر اظہار حیرت کیا ہے حالانکہ 2 لاکھ افغان فوجیوں کے پاس اسلحہ ہے۔ انھوں نے امریکیوں، جرمنوں اور دیگر ملکوں سے تربیت لی مگر کرکیا رہے ہیں؟
یوں دیکھا جائے تو لگتا ہے کہ افغان سیکیورٹی فورسز کے افسران میں جرأت اور ہمت کی ہی کمی نہیں ہے بلکہ وہ جنگ کی منصوبہ بندی کرنے کی صلاحیت بھی نہیں رکھتے۔ یہی وجہ ہے کہ افغان فورسز مزاحمت نہیں کر رہی۔
اقوام متحدہ کے ترجمان سٹیفن ڈوجارک نے کہا وہاں سیکیورٹی صورتحال کا ہر گھنٹے کی بنیاد پر جائزہ لے رہی ہے تاہم عملے میں سے کسی کوملک سے نہیں نکالا جائے گا،کچھ عملے کودیگر حصوں سے کابل منتقل کیا جا رہا ہے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے امریکی ناظم الامور اینگلا ایگلر نے ملاقات کی، جی ایچ کیو راولپنڈی میں ہونے والی اس ملاقات میں باہمی دلچسپی، افغانستان کی تازہ ترین صورتحال اور مختلف شعبوں میں باہمی تعلقات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
آرمی چیف نے واضح کیا کہ پاکستان افغان امن عمل میں سنجیدہ اور پرعزم ہے، پاکستان افغانستان میں دیرپا امن اور تنازعات کے پر امن حل کے لیے فریقین سے تعاون کرتا رہے گا، امریکی ناظم الامور اینگلا ایگلر نے خطے میں امن و استحکام کے لیے پاکستان کے تعاون کوسراہا۔
وزیر اعظم کے مشیر برائے قومی سلامتی ڈاکٹر معید یوسف نے امریکی نشریاتی ادارے سی این این کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ پاکستان افغان جنگ میں سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے، دنیا کو افغان حکومت سے سوال کرنا چاہیے کہ اربوں ڈالر کہاں گئے، پاکستان افغان حکومت کی ناکامی کا ذمے دار نہیں ہے۔
ڈاکٹر معید یوسف نے کہا کہ بے شک افغان ہمارے بھائی بہن ہے مگر پاکستان مزید افغان مہاجرین کو پناہ میں نہیں دے سکتا۔ ادھر بھارت کے ایک نجی نشریاتی ادارے نے دعویٰ کیا ہے کہ افغانستان کے اکثریتی علاقوں پر طالبان کے قبضے کے بعد صدر اشرف غنی استعفیٰ دے کر اہل خانہ سمیت بیرون ملک منتقل ہونے کی تیاری کر رہے ہیں۔
بھارتی نشریاتی ادارے نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ افغان صدر اشرف غنی نے اپنے ساتھیوں سے مشورے کے بعد مستعفی ہونے کا فیصلہ کرلیا ہے جس کے بعد وہ کسی تیسرے ملک اہل خانہ سمیت منتقل ہوجائیں گے۔
دوسری جانب طلوع نیوز کے مطابق صدر اشرف غنی نے منظر عام پر آنے والے ریڈیو پیغام میں ''حالات قابو میں ہیں'' کا دعویٰ کرتے ہوئے عہد کیا ہے وہ افغانستان میں مزید جنگ اور خوں ریزی نہیں ہونے دیں گے۔
پاکستان میں افغانستان کے سابق سفیر ڈاکٹر عمر زاخیل وال نے کہا ہے کہ اشرف غنی نے سات سالوں میں افغان ریاست کو ذاتی جاگیر کی طرح چلایا۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر سابق افغان سفیر نے کہا کہ افغانستان آج اپنی بقا کی جنگ لڑ رہا ہے، اس سب کا ذمہ اشرف غنی ہیں۔ اشرف غنی کے منصب صدارت پر بیٹھے رہنے تک افغانستان میں امن واپس نہیں آ سکتا کیوں کہ افغان صدر نے امن حاصل کرنے کے کئی مواقع ضایع کیے۔
برطانیہ کے سیکریٹری دفاع بین والیس نے افغانستان سے فوجی انخلا کے امریکی فیصلے کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس سے افغان سرزمین شدت پسندوں کے ہاتھوں میں چلی گئی ہے۔ اسکائی نیوز ٹیلی وڑن کو انٹرویو میں برطانوی سیکریٹری دفاع بین والیس نے کہا کہ امریکی فوجیوں کے انخلا سے افغانستان میں خلا پیدا ہوگیا ہے جسے اب شدت پسند پر کر رہے ہیں۔ امریکا نے افغانستان میں ایک بڑا مسئلہ کھڑا کردیا ہے جس سے خطے کے امن کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
انھوں نے خبردار کیا کہ طالبان کے دوبارہ سرگرم ہونے سے افغان سرزمین شدت پسندوں کی افزائش گاہ بن جائے گی۔ افغانستان کے حالات کے سب سے زیادہ اثرات پاکستان پر پڑنے کے امکانات موجود ہیں۔ موجودہ حالات میں پاکستان کے پالیسی سازوں کو عالمی سطح اور افغانستان کے عوام تک تاثر پہنچانا ہو گا کہ پاکستان کا افغانستان میں کوئی فیورٹ نہیں ہے اور اپنی سرحدوں کو کسی صورت بھی کھولا نہیں جائے۔
مشترکہ اعلامیہ میں فریقین پر زور دیا گیا کہ وہ سیاسی تصفیے اور جنگ بندی معاہدے تک پہنچنے کی کوششیں تیز کریں۔ مذاکرات میں شریک امریکی خصوصی ایلچی زلمے خلیل زاد نے ٹویٹر پر اعلامیہ شیئر کیا ہے، جس میں افغانستان میں صوبائی دارالحکومتوں میں تشدد اور مزید شہروں پر حملے ختم کرنے پر زور دیا گیا ہے۔
دوحہ اجلاس میں پاکستان، چین، ازبکستان، امریکا، برطانیہ، قطر، اقوام متحدہ اور یورپی یونین کے نمائندوں نے شرکت کی۔ افغانستان کی صورت حال کے حوالے سے یہ اجلاس انتہائی اہمیت کا حامل سمجھا جا رہا ہے۔ اجلاس کے بعد قطر کی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ افغان امن عمل تیز کرنے کے لیے فریقین کی جانب سے ٹھوس تجاویز پیش کرنے اور بات چیت کی فوری ضرورت ہے۔
افغان میڈیا کے حوالے سے ملکی میڈیا میں جو خبریں آئی ہیں، ان کے مطابق افغانستان کے نائب صدر امراللہ صالح نے کہا ہے کہ ان کی حکومت اور سیکیورٹی فورسز دہشت گردوں کے خلاف ڈٹی رہیں گی۔
انھوں نے ٹویٹ میں بتایا کہ افغانستان کے صدر اشرف غنی کی زیرصدارت افغانستان کی سیکیورٹی کونسل کے اہم اجلاس میں طے کیا گیا ہے کہ قومی سالمیت پر آنچ نہیںآنے دی جائے گی۔ یہ تو افغانستان کی حکومت کے اہم عہدیدار کا بیان یا دعویٰ ہے لیکن اصل مقابلہ تو میدان میں ہو رہا ہے۔ اس مقابلے میں طالبان بہتر پوزیشن میں ہیں۔
دوحہ میں ٹرائیکا پلس کا جو اجلاس ہوا، اس میں شریک ہونے والے ممالک نے کوئی عملی اقدام یا فیصلہ نہیں کیا، صرف ناصحانہ اعلامیہ جاری کیا گیا جس میں متحارب فریقوں کو تشدد روکنے اور مذاکرات کرنے کی ایک طرح سے اپیل کی گئی ہے۔ یوں دیکھا جائے تو سفارتی محاذ پر ہونے والی یہ پیش رفت بھی افغاستان میں جنگی بندی کرانے میں کامیاب نظر نہیں آتی۔
امریکا، چین اور روس جب تک سنجیدہ ہو کر افغان مسئلے پر غور کر کے کوئی حکمت عملی طے نہیں کرتے، افغانستان میں امن کا قیام ممکن نظر نہیں آتا۔ ادھر میڈیا کے ذریعے پہنچنے والی اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ افغانستان سرکاری فوجوں اور طالبان جنگجوؤں کے مابین لڑائی ہو رہی ہے۔
ان خبروں کے مطابق لڑائی میں طالبان جنگجوؤں کا پلڑا بھاری نظر آرہا ہے۔ طالبان اپنی بھرپور قوت کا مظاہرہ کرتے ہوئے مسلسل پیش قدمی کر رہے ہیں۔
میڈیا کے مطابق طالبان نے ہرات کے بعد افغانستان کے 5 مزید صوبائی دارالحکومتوں پر قبضہ کر لیا ہے اور وہ آہستہ آہستہ افغانستان کے دارالحکومت کابل کو گھیر ے میں لینے کی تیاری کر رہے ہیں۔
ہرات کی صوبائی کونسل کے رکن غلام حبیب حاشمی کے حوالے سے میڈیا میں کہا گیا ہے کہ طالبان سے معاہدے کے بعد ملیشیا کمانڈر محمد اسماعیل اور گورنر عبدالصبور کو طالبان کے حوالے کیا گیا ہے۔ طالبان نے یقین دہانی کرائی ہے کہ ہتھیار ڈالنے والوں کو نقصان نہیں پہنچایا جائے گا۔
واضح رہے کہ اسماعیل خان نمایاں جنگجوؤں میں سے ایک ہے اور اسے شیرِہرات کے طور پر جانا جاتا ہے۔ وہ 1980 کی دہائی میں روسی قابضین سے لڑا اور شمالی اتحاد کا اہم رکن تھا، جس نے امریکی حمایت سے 2001میں طالبان کا تختہ الٹا، وہ حالیہ ہفتوں میں طالبان کے خلاف لڑنے والے جنگجوؤں کی قیادت کرتا رہا ہے۔ اس کے ہتھیار ڈالنے کے بعد اشرف غنی سرکار مایوس نظر آ رہی ہے۔
ادھر افغانستان کے مغربی صوبہ غور کے صوبائی کونسل کے سربراہ فضل حق احسان نے بتایا ہے کہ طالبان صوبہ غور کے دارالحکومت فیروز کوہ میں داخل ہو گئے ہیں۔ طالبان نے افغانستان کے ایک اور صوبے بادغیس کے دارالحکومت قلعہ نو پر قبضہ کرنے کا دعویٰ بھی کیا ہے۔ انھوں نے صوبہ لوگرکے صوبائی دارالحکومت میں پولیس ہیڈ کوارٹر اور قریبی جیل پربھی قبضہ کر لیا ہے۔ یہ شہر کابل سے 80 کلومیٹر دور جنوب میں ہے۔ یوں دیکھا جائے تو کابل زیادہ دور نہیں ہے۔
روسی خبررساں ادارے نے بھی کہا ہے کہ افغان دارالحکومت کابل کی جانب طالبان کی پیش قدمی تیزی سے جاری ہے۔ افغان میڈیا کے مطابق افغانستان کے صوبے لوگر کے گورنر قیوم عبدالقیوم اور ان کے ساتھ موجود 40 کے قریب سیکیورٹی اہلکار تقریباً 6 گھنٹے تک طالبان سے لڑتے رہے، اس دوران صوبائی پولیس سربراہ ، این ڈی ایس افسر سمیت دیگر حکام نے طالبان کے آگے سرنڈر کر دیا۔ صوبہ زابل کا دارالحکومت بھی طالبان کے قبضے میں چلا گیا ہے۔
جنوبی صوبہ ارزگان کے مقامی حکام نے دارالحکومت ترین کوٹ طالبان کے حوالے کر دیا۔ یہ صورت حال بتاتی ہے کہ افغان فوج کی مزاحمت نہ ہونے کے برابر ہے۔ جن جن علاقوں پر طالبان نے قبضے کا دعویٰ کیا ہے، وہاں سرکاری فوجوں کی مزاحمت کے آثار نہیں ملتے۔ ادھر تیزی سے تبدیل ہوتی اس صورت حال میں امریکی دفاعی ادارے پینٹاگو ن نے دعویٰ کیا ہے کہ طالبان کی تیز رفتار پیش قدمی کے باوجودکابل کو فوری خطرہ نہیں ہے۔
ترجمان جان کربی نے افغان فوج کو حالیہ صورت حال کا ذمے دار قرار دیا جو مزاحمت نہیں کر رہی۔ نیٹو کے سابق کمانڈر ایگون ریمز نے طالبان کی تیز رفتار پیش قدمی پر اظہار حیرت کیا ہے حالانکہ 2 لاکھ افغان فوجیوں کے پاس اسلحہ ہے۔ انھوں نے امریکیوں، جرمنوں اور دیگر ملکوں سے تربیت لی مگر کرکیا رہے ہیں؟
یوں دیکھا جائے تو لگتا ہے کہ افغان سیکیورٹی فورسز کے افسران میں جرأت اور ہمت کی ہی کمی نہیں ہے بلکہ وہ جنگ کی منصوبہ بندی کرنے کی صلاحیت بھی نہیں رکھتے۔ یہی وجہ ہے کہ افغان فورسز مزاحمت نہیں کر رہی۔
اقوام متحدہ کے ترجمان سٹیفن ڈوجارک نے کہا وہاں سیکیورٹی صورتحال کا ہر گھنٹے کی بنیاد پر جائزہ لے رہی ہے تاہم عملے میں سے کسی کوملک سے نہیں نکالا جائے گا،کچھ عملے کودیگر حصوں سے کابل منتقل کیا جا رہا ہے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے امریکی ناظم الامور اینگلا ایگلر نے ملاقات کی، جی ایچ کیو راولپنڈی میں ہونے والی اس ملاقات میں باہمی دلچسپی، افغانستان کی تازہ ترین صورتحال اور مختلف شعبوں میں باہمی تعلقات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
آرمی چیف نے واضح کیا کہ پاکستان افغان امن عمل میں سنجیدہ اور پرعزم ہے، پاکستان افغانستان میں دیرپا امن اور تنازعات کے پر امن حل کے لیے فریقین سے تعاون کرتا رہے گا، امریکی ناظم الامور اینگلا ایگلر نے خطے میں امن و استحکام کے لیے پاکستان کے تعاون کوسراہا۔
وزیر اعظم کے مشیر برائے قومی سلامتی ڈاکٹر معید یوسف نے امریکی نشریاتی ادارے سی این این کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ پاکستان افغان جنگ میں سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے، دنیا کو افغان حکومت سے سوال کرنا چاہیے کہ اربوں ڈالر کہاں گئے، پاکستان افغان حکومت کی ناکامی کا ذمے دار نہیں ہے۔
ڈاکٹر معید یوسف نے کہا کہ بے شک افغان ہمارے بھائی بہن ہے مگر پاکستان مزید افغان مہاجرین کو پناہ میں نہیں دے سکتا۔ ادھر بھارت کے ایک نجی نشریاتی ادارے نے دعویٰ کیا ہے کہ افغانستان کے اکثریتی علاقوں پر طالبان کے قبضے کے بعد صدر اشرف غنی استعفیٰ دے کر اہل خانہ سمیت بیرون ملک منتقل ہونے کی تیاری کر رہے ہیں۔
بھارتی نشریاتی ادارے نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ افغان صدر اشرف غنی نے اپنے ساتھیوں سے مشورے کے بعد مستعفی ہونے کا فیصلہ کرلیا ہے جس کے بعد وہ کسی تیسرے ملک اہل خانہ سمیت منتقل ہوجائیں گے۔
دوسری جانب طلوع نیوز کے مطابق صدر اشرف غنی نے منظر عام پر آنے والے ریڈیو پیغام میں ''حالات قابو میں ہیں'' کا دعویٰ کرتے ہوئے عہد کیا ہے وہ افغانستان میں مزید جنگ اور خوں ریزی نہیں ہونے دیں گے۔
پاکستان میں افغانستان کے سابق سفیر ڈاکٹر عمر زاخیل وال نے کہا ہے کہ اشرف غنی نے سات سالوں میں افغان ریاست کو ذاتی جاگیر کی طرح چلایا۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر سابق افغان سفیر نے کہا کہ افغانستان آج اپنی بقا کی جنگ لڑ رہا ہے، اس سب کا ذمہ اشرف غنی ہیں۔ اشرف غنی کے منصب صدارت پر بیٹھے رہنے تک افغانستان میں امن واپس نہیں آ سکتا کیوں کہ افغان صدر نے امن حاصل کرنے کے کئی مواقع ضایع کیے۔
برطانیہ کے سیکریٹری دفاع بین والیس نے افغانستان سے فوجی انخلا کے امریکی فیصلے کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس سے افغان سرزمین شدت پسندوں کے ہاتھوں میں چلی گئی ہے۔ اسکائی نیوز ٹیلی وڑن کو انٹرویو میں برطانوی سیکریٹری دفاع بین والیس نے کہا کہ امریکی فوجیوں کے انخلا سے افغانستان میں خلا پیدا ہوگیا ہے جسے اب شدت پسند پر کر رہے ہیں۔ امریکا نے افغانستان میں ایک بڑا مسئلہ کھڑا کردیا ہے جس سے خطے کے امن کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
انھوں نے خبردار کیا کہ طالبان کے دوبارہ سرگرم ہونے سے افغان سرزمین شدت پسندوں کی افزائش گاہ بن جائے گی۔ افغانستان کے حالات کے سب سے زیادہ اثرات پاکستان پر پڑنے کے امکانات موجود ہیں۔ موجودہ حالات میں پاکستان کے پالیسی سازوں کو عالمی سطح اور افغانستان کے عوام تک تاثر پہنچانا ہو گا کہ پاکستان کا افغانستان میں کوئی فیورٹ نہیں ہے اور اپنی سرحدوں کو کسی صورت بھی کھولا نہیں جائے۔