افغان صورتحال پاکستان کو چوکنا رہنے کی ضرورت
افغانستان میں غیریقینی اور خوف کی فضا چھائی ہوئی ہے
افغانستان میں صورت حال ہر گزرتے دن کے ساتھ تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے
افغانستان میں صورت حال ہر گزرتے دن کے ساتھ تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے۔ امریکا اور نیٹو افواج کا انخلا مکمل ہونے کے قریب کی اطلاعات آ رہی ہیں۔ غیرملکی سفارتخانوں کا عملہ بھی اپنے اپنے وطن کو روانہ ہو گیا ہے۔ افغانستان میں غیریقینی اور خوف کی فضا چھائی ہوئی ہے۔
اس صورتحال کو قابو کرنے اور معاملات سنبھالنے میں افغانستان کی سیکیورٹی فورسز کا کردار تجزیہ نگاروں کے مطابق غیر متوقع طور پر مایوس کن رہا ہے اور حالیہ دو تین روز میں پورے ملک میں کوئی مزاحمت ہوتی نظر نہیں آئی اور طالبان نے بغیر لڑے اپنے اہداف آسانی سے حاصل کرلیے ہیں۔
آغاز میں سرکاری فوجوں نے طالبان کا مقابلہ کیا تھا جس سے محسوس ہونے لگا کہ طالبان کے لیے آگے بڑھنا اتنا آسان نہیں ہوگا جتنا تصور کیا جا رہا ہے اور انھیں سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا لیکن حالات میں تبدیلی آنا شروع ہوئی اور سرکاری فوج کی جانب سے بتدریج مزاحمت کم ہوتی گئی'بگڑتی ہوئی صورتحال اور معاملات ہاتھ سے نکلتے ہوئے دیکھ کر افغانستان کے صدر اشرف غنی نے افغان فوج کے سربراہ کو ہٹا دیا اور نیا آرمی چیف مقرر کیا لیکن بات پھر بھی نہ بنی اور یہ فیصلہ نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوا،حالات نے اتنی سرعت سے پلٹا کھایا کہ سرکاری فوجوں کی مزاحمت مکمل طور پر بند ہو گئی۔
حیرانی کی بات بھی ہے کہ قطر کے دارالحکومت دوحا میں افغانستان کے چیف ایگزیکٹو عبداللہ طالبان کے ساتھ مذاکرات بھی کرتے رہے جب کہ گراؤنڈ پر طالبان جنگجو اپنی پوزیشن مستحکم کرتے چلے جا رہے ہیں۔ گزشتہ روز چمن سے متصل باب دوستی گیٹ کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد طالبان نے طور خم بارڈر پر بھی مکمل کنٹرول حاصل کرلیا اور بارڈر بند کر دیا ہے۔ ادھر پاکستان نے بھی کسی قسم کے خطرے کے پیش نظر پاک افغان بارڈر کو سیل کر دیا سیکیورٹی حکام ہائی الرٹ اور افغانستان میں تبدیل ہوتی ہوئی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ طورخم بارڈر پر پاکستان نے پہلے ہی 6 گیٹس بند کر دیے تھے۔
دریں اثنا وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کابل میں تعینات پاکستانی سفارت کاروں اور اسٹاف کوخراج تحسین پیش کیا، ان کا کہنا تھا کہ تمام اسٹاف کڑے وقت میں بھی خدمات سرانجام دے رہے ہیں، گزشتہ روز ہونے والی پیش رفت میں طالبان نے جلال آباد اور مزار شریف پر بھی قبضہ کرلیا ہے۔ کابل کے بعد یہ دونوں شہر انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ صوبہ پکتیا کے دارالحکومت گردیز اور پاکستان کی سرحد پر واقع صوبہ کنڑ کے صدر مقام اسعد آباد پر بھی طالبان نے قبضہ مکمل کر لیا ہے جس سے ان کی پوزیشن کافی مضبوط ہو گئی ہے۔
ادھر گزشتہ روز طالبان کابل میں داخل ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ ترجمان طالبان نے کہا کہ وہ جنگ کے ذریعے کابل پر کنٹرول نہیں کریں گے۔ ہم کوئی جانی نقصان نہیں چاہتے، کسی سے انتقام لینے کا ارادہ نہیں۔طالبان کا یہ اعلان مثبت ہے ، انھوں نے عام معافی کا اعلان بھی کررکھا ہے۔کابل میں ہفتے اور اتوار کے دن انتہائی سرگرم گزرے ہیں۔
افغانستان کے صدر اشرف غنی نے ملک کے اہم سیاسی رہنماؤں اور سابق جنگجو لیڈروں سے ہنگامی ملاقات کی ' اس سے قبل افغانستان کے چیف ایگزیکٹیو عبداللہ عبداللہ نے بھی اہم افغان رہنماؤں سے ملاقات کی جس میں موجودہ صورتحال اور ملک کے مستقبل کے بارے میں بات چیت کی۔ اس میں عبوری حکومت کے قیام کا معاملہ زیر بحث آیا۔ میڈیا کے مطابق عبداللہ عبداللہ نے مذاکرات میں ثالث کا کردار ادا کیا۔
افغانستان اپنی تاریخ کے نئے موڑ پر آکھڑا ہوا ہے' آگے حالات کیا رخ اختیار کرتے اور اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے' اس کا دارومدار طالبان اور ان کے حریف گروپوں کے طرز عمل پر ہو گا۔طالبان اور افغان حکومت کے درمیان ہونے والے مذاکرات اس امر کی عکاسی کرتے ہیں کہ فریقین خطے میں مزید خون خرابے کے بجائے امن سے معاملات حل کرنا چاہتے ہیں۔
آخری آنے والی اطلاعات کے مطابق طالبان اور افغان حکومت کے درمیان معاہدہ طے پا گیا ہے اور فریقین معاملات پرامن طریقے سے حل کرنے پر راضی ہو گئے جو ایک خوش آیند امر ہے جس کے پورے خطے پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ ایسے میں پاکستان کو خطے میں بدلتے ہوئے حالات پر گہری نظر رکھنے کی ضرورت ہے کیونکہ افغانستان میں ہونے والی تبدیلیاں پاکستان پر براہ راست اثر انداز ہوں گی۔ پاکستان نے افغانستان کی سرحد کو مکمل طور پر بند کر رکھا ہے' یہ ایک درست اور بروقت فیصلہ ہے کیونکہ موجودہ حالات میں پاک افغان سرحدکو کھلا چھوڑنا پاکستان کے لیے انتہائی خطرناک ہے۔
بارڈر کھلا رہا تو افغانستان کے پاکستان سے ملحقہ علاقوں سے مہاجرین کا نیا ریلا پاکستان میں داخل ہو گا جس کی آڑ میں بہت سے دہشت گرد بھی مہاجرین کے روپ میں یہاں آ جائیں گے،خاص طور پر داعش کے جنگجوؤں کے افغانستان میں آنے سے معاملات پیچیدہ ہو چکے ہیں۔ افغانستان میں کورونا وباء بھی بہت زیادہ پھیلی ہوئی ہے۔ وہاں کورونا ٹیسٹنگ کی سہولیات بھی موجود نہیں ہیں۔ اس لیے کسی کو پتہ نہیں ہے کہ کوروناء متاثرین کی تعداد کتنی ہے۔پاکستان پہلے ہی کورونا کے حوالے سے مشکل صورتحال سے دوچار ہے۔
پاکستان کے پالیسی سازوں کو اس حوالے سے بھی سوچنا چاہیے۔ ملک کی داخلی صورت حال پر نظر ڈالی جائے تو حالیہ چند ہفتوں میں دہشت گردی کی وارداتوں میں اضافہ ہوا ہے' داسو میں چینی انجینئروں کے خلاف دہشت گردوں نے کارروائی کی۔
گزشتہ روز بلوچستان میں لورالائی کے قریب ایف سی کی گاڑی پر دہشت گردوں نے حملہ کردیا ، ایف سی کی جوابی کارروائی میں 3 دہشت گرد مارے گئے اور فائرنگ کے تبادلے میں ایک جوان شہید ہوگیا،آئی ایس پی آر کے مطابق لورالائی کے علاقے شاہرگ میں ایف سی کی گاڑی پر دہشت گردوں نے حملہ کیا ،جوانوں کی فوری کارروائی کے نتیجے میں3دہشت گرد مارے گئے جب کہ فائرنگ کے تبادلے میں نائیک شریف شہید ، میجر قاسم اورایک جوان زخمی ہوئے۔
اتوار کو خیبرپختونخوا کے ضلع دیر میں سی ٹی ڈی پولیس پر دہشت گردوں نے حملہ کیا' ادھر کراچی میں بھی ایک خونی واردات ہوئی جس میں 12افراد جاں بحق ہوئے' واقعات کے مطابق کراچی کے علاقے بلدیہ ٹاؤن میں ہفتے کی رات ایک ٹرک پر دستی بم حملے کے نتیجے میں ایک ہی خاندان کی چھ خواتین اور چار بچوں سمیت تیرہ افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوگئے۔
متاثرین کا تعلق ایک ہی خاندان سے ہے جو سوات سے تعلق رکھتے ہیں۔ ابتدائی معلومات کے مطابق جس ٹرک میں دھماکا ہوا اس میں 20 سے 25 افراد سوار تھے۔ مسافر ایک شادی کی تقریب میں شرکت کرکے آ رہے تھے کہ ٹرک میں دھماکا ہو گیا۔ ابھی اس واردات کے بارے میں کچھ نہیں کہا جاسکتا کیونکہ پولیس اس کا مختلف پہلوؤں سے جائزہ لے رہی ہے۔
ادھرگزشتہ روز کی ایک خبر میں بتایا گیا ہے کہ فیڈرل بیورو آف ریونیو (ایف بی آر) کو ہیکرز نے سائبر حملے کا نشانہ بنایا ہے، اطلاعات کے مطابق یہ صورت حال ہفتہ کو رات گئے پیدا ہوئی۔ کہا گیا ہے کہ ہیکرز کی ابھی تک شناخت نہیں ہو سکی۔ بہرحال یہ خبریں اور اطلاعات ظاہر کرتی ہیں کہ پاکستان کو موجودہ صورت حال میں چاک وچوبند رہنا ہے۔دشمن کثیر الجہت حربوں سے ملک کو نشانہ بنانے کی کوشش کرسکتا ہے۔خطے میں تبدیلیاں ہورہی ہیں جو غیرمعمولی ہیں۔
کون کس کی گیم کررہاہے، فی الحال اس کا اندازہ لگانا مشکل ہے،افغانستان سے امریکا، یورپ، روس، چین ، ایران اور بھارت کے مفادات وابستہ ہیں۔ اس ملک میں پاکستان کے مفادات بھی کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں۔ افغانستان پر اقتدار کسی کا بھی ہو، غیرملکی طاقتوں کا کھیل ختم نہیں ہوگا۔
ماضی میں طالبان نے جو غلطیاں کی ہیں، شاید اس بار وہ غلطیوں کا ازالہ کرنے کی کوشش کریں اور عالمی برادری کے ساتھ بہترسودے بازی کریں۔پاکستان نے افغانستان میں بہت کچھ داؤ پر لگایا ہے۔سوویت افواج کے افغانستان پر قبضے کے بعد پاکستان نے لاکھوں مہاجرین کو پناہ دی جو آج تک واپس نہیں گئے۔ان کی وجہ سے پاکستان کی معیشت اور سماج بری طرح متاثر ہوئے۔پاکستان میں ایک ایسی لابی وجود میں آئی جس کے مفادات افغان مہاجرین، دہشت گردی اور اسمگلنگ سے وابستہ ہوگئے۔یہ لابی معاشی طور پر مضبوط ہوئی تو سیاست سمیت زندگی کے دیگر شعبوں پر اثر انداز ہوئی۔اسی لابی نے پاکستان میں دہشت گردوں کے لیے ہمدردی پیدا کرنے کی فضا سازگار بنانے کی کوشش کی۔غیرقانونی کاروبار کی وجہ سے اس لابی نے بے پناہ دولت کمائی۔
افغانستان میں جاری موجودہ صورتحال کا پرامن اور بہتر حل نکلنا ضروری ہے کیونکہ پاکستان کے مفادات اور حالات کا افغانستان کے حالات سے گہرا تعلق ہے۔
اس صورتحال کو قابو کرنے اور معاملات سنبھالنے میں افغانستان کی سیکیورٹی فورسز کا کردار تجزیہ نگاروں کے مطابق غیر متوقع طور پر مایوس کن رہا ہے اور حالیہ دو تین روز میں پورے ملک میں کوئی مزاحمت ہوتی نظر نہیں آئی اور طالبان نے بغیر لڑے اپنے اہداف آسانی سے حاصل کرلیے ہیں۔
آغاز میں سرکاری فوجوں نے طالبان کا مقابلہ کیا تھا جس سے محسوس ہونے لگا کہ طالبان کے لیے آگے بڑھنا اتنا آسان نہیں ہوگا جتنا تصور کیا جا رہا ہے اور انھیں سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا لیکن حالات میں تبدیلی آنا شروع ہوئی اور سرکاری فوج کی جانب سے بتدریج مزاحمت کم ہوتی گئی'بگڑتی ہوئی صورتحال اور معاملات ہاتھ سے نکلتے ہوئے دیکھ کر افغانستان کے صدر اشرف غنی نے افغان فوج کے سربراہ کو ہٹا دیا اور نیا آرمی چیف مقرر کیا لیکن بات پھر بھی نہ بنی اور یہ فیصلہ نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوا،حالات نے اتنی سرعت سے پلٹا کھایا کہ سرکاری فوجوں کی مزاحمت مکمل طور پر بند ہو گئی۔
حیرانی کی بات بھی ہے کہ قطر کے دارالحکومت دوحا میں افغانستان کے چیف ایگزیکٹو عبداللہ طالبان کے ساتھ مذاکرات بھی کرتے رہے جب کہ گراؤنڈ پر طالبان جنگجو اپنی پوزیشن مستحکم کرتے چلے جا رہے ہیں۔ گزشتہ روز چمن سے متصل باب دوستی گیٹ کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد طالبان نے طور خم بارڈر پر بھی مکمل کنٹرول حاصل کرلیا اور بارڈر بند کر دیا ہے۔ ادھر پاکستان نے بھی کسی قسم کے خطرے کے پیش نظر پاک افغان بارڈر کو سیل کر دیا سیکیورٹی حکام ہائی الرٹ اور افغانستان میں تبدیل ہوتی ہوئی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ طورخم بارڈر پر پاکستان نے پہلے ہی 6 گیٹس بند کر دیے تھے۔
دریں اثنا وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کابل میں تعینات پاکستانی سفارت کاروں اور اسٹاف کوخراج تحسین پیش کیا، ان کا کہنا تھا کہ تمام اسٹاف کڑے وقت میں بھی خدمات سرانجام دے رہے ہیں، گزشتہ روز ہونے والی پیش رفت میں طالبان نے جلال آباد اور مزار شریف پر بھی قبضہ کرلیا ہے۔ کابل کے بعد یہ دونوں شہر انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ صوبہ پکتیا کے دارالحکومت گردیز اور پاکستان کی سرحد پر واقع صوبہ کنڑ کے صدر مقام اسعد آباد پر بھی طالبان نے قبضہ مکمل کر لیا ہے جس سے ان کی پوزیشن کافی مضبوط ہو گئی ہے۔
ادھر گزشتہ روز طالبان کابل میں داخل ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ ترجمان طالبان نے کہا کہ وہ جنگ کے ذریعے کابل پر کنٹرول نہیں کریں گے۔ ہم کوئی جانی نقصان نہیں چاہتے، کسی سے انتقام لینے کا ارادہ نہیں۔طالبان کا یہ اعلان مثبت ہے ، انھوں نے عام معافی کا اعلان بھی کررکھا ہے۔کابل میں ہفتے اور اتوار کے دن انتہائی سرگرم گزرے ہیں۔
افغانستان کے صدر اشرف غنی نے ملک کے اہم سیاسی رہنماؤں اور سابق جنگجو لیڈروں سے ہنگامی ملاقات کی ' اس سے قبل افغانستان کے چیف ایگزیکٹیو عبداللہ عبداللہ نے بھی اہم افغان رہنماؤں سے ملاقات کی جس میں موجودہ صورتحال اور ملک کے مستقبل کے بارے میں بات چیت کی۔ اس میں عبوری حکومت کے قیام کا معاملہ زیر بحث آیا۔ میڈیا کے مطابق عبداللہ عبداللہ نے مذاکرات میں ثالث کا کردار ادا کیا۔
افغانستان اپنی تاریخ کے نئے موڑ پر آکھڑا ہوا ہے' آگے حالات کیا رخ اختیار کرتے اور اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے' اس کا دارومدار طالبان اور ان کے حریف گروپوں کے طرز عمل پر ہو گا۔طالبان اور افغان حکومت کے درمیان ہونے والے مذاکرات اس امر کی عکاسی کرتے ہیں کہ فریقین خطے میں مزید خون خرابے کے بجائے امن سے معاملات حل کرنا چاہتے ہیں۔
آخری آنے والی اطلاعات کے مطابق طالبان اور افغان حکومت کے درمیان معاہدہ طے پا گیا ہے اور فریقین معاملات پرامن طریقے سے حل کرنے پر راضی ہو گئے جو ایک خوش آیند امر ہے جس کے پورے خطے پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ ایسے میں پاکستان کو خطے میں بدلتے ہوئے حالات پر گہری نظر رکھنے کی ضرورت ہے کیونکہ افغانستان میں ہونے والی تبدیلیاں پاکستان پر براہ راست اثر انداز ہوں گی۔ پاکستان نے افغانستان کی سرحد کو مکمل طور پر بند کر رکھا ہے' یہ ایک درست اور بروقت فیصلہ ہے کیونکہ موجودہ حالات میں پاک افغان سرحدکو کھلا چھوڑنا پاکستان کے لیے انتہائی خطرناک ہے۔
بارڈر کھلا رہا تو افغانستان کے پاکستان سے ملحقہ علاقوں سے مہاجرین کا نیا ریلا پاکستان میں داخل ہو گا جس کی آڑ میں بہت سے دہشت گرد بھی مہاجرین کے روپ میں یہاں آ جائیں گے،خاص طور پر داعش کے جنگجوؤں کے افغانستان میں آنے سے معاملات پیچیدہ ہو چکے ہیں۔ افغانستان میں کورونا وباء بھی بہت زیادہ پھیلی ہوئی ہے۔ وہاں کورونا ٹیسٹنگ کی سہولیات بھی موجود نہیں ہیں۔ اس لیے کسی کو پتہ نہیں ہے کہ کوروناء متاثرین کی تعداد کتنی ہے۔پاکستان پہلے ہی کورونا کے حوالے سے مشکل صورتحال سے دوچار ہے۔
پاکستان کے پالیسی سازوں کو اس حوالے سے بھی سوچنا چاہیے۔ ملک کی داخلی صورت حال پر نظر ڈالی جائے تو حالیہ چند ہفتوں میں دہشت گردی کی وارداتوں میں اضافہ ہوا ہے' داسو میں چینی انجینئروں کے خلاف دہشت گردوں نے کارروائی کی۔
گزشتہ روز بلوچستان میں لورالائی کے قریب ایف سی کی گاڑی پر دہشت گردوں نے حملہ کردیا ، ایف سی کی جوابی کارروائی میں 3 دہشت گرد مارے گئے اور فائرنگ کے تبادلے میں ایک جوان شہید ہوگیا،آئی ایس پی آر کے مطابق لورالائی کے علاقے شاہرگ میں ایف سی کی گاڑی پر دہشت گردوں نے حملہ کیا ،جوانوں کی فوری کارروائی کے نتیجے میں3دہشت گرد مارے گئے جب کہ فائرنگ کے تبادلے میں نائیک شریف شہید ، میجر قاسم اورایک جوان زخمی ہوئے۔
اتوار کو خیبرپختونخوا کے ضلع دیر میں سی ٹی ڈی پولیس پر دہشت گردوں نے حملہ کیا' ادھر کراچی میں بھی ایک خونی واردات ہوئی جس میں 12افراد جاں بحق ہوئے' واقعات کے مطابق کراچی کے علاقے بلدیہ ٹاؤن میں ہفتے کی رات ایک ٹرک پر دستی بم حملے کے نتیجے میں ایک ہی خاندان کی چھ خواتین اور چار بچوں سمیت تیرہ افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوگئے۔
متاثرین کا تعلق ایک ہی خاندان سے ہے جو سوات سے تعلق رکھتے ہیں۔ ابتدائی معلومات کے مطابق جس ٹرک میں دھماکا ہوا اس میں 20 سے 25 افراد سوار تھے۔ مسافر ایک شادی کی تقریب میں شرکت کرکے آ رہے تھے کہ ٹرک میں دھماکا ہو گیا۔ ابھی اس واردات کے بارے میں کچھ نہیں کہا جاسکتا کیونکہ پولیس اس کا مختلف پہلوؤں سے جائزہ لے رہی ہے۔
ادھرگزشتہ روز کی ایک خبر میں بتایا گیا ہے کہ فیڈرل بیورو آف ریونیو (ایف بی آر) کو ہیکرز نے سائبر حملے کا نشانہ بنایا ہے، اطلاعات کے مطابق یہ صورت حال ہفتہ کو رات گئے پیدا ہوئی۔ کہا گیا ہے کہ ہیکرز کی ابھی تک شناخت نہیں ہو سکی۔ بہرحال یہ خبریں اور اطلاعات ظاہر کرتی ہیں کہ پاکستان کو موجودہ صورت حال میں چاک وچوبند رہنا ہے۔دشمن کثیر الجہت حربوں سے ملک کو نشانہ بنانے کی کوشش کرسکتا ہے۔خطے میں تبدیلیاں ہورہی ہیں جو غیرمعمولی ہیں۔
کون کس کی گیم کررہاہے، فی الحال اس کا اندازہ لگانا مشکل ہے،افغانستان سے امریکا، یورپ، روس، چین ، ایران اور بھارت کے مفادات وابستہ ہیں۔ اس ملک میں پاکستان کے مفادات بھی کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں۔ افغانستان پر اقتدار کسی کا بھی ہو، غیرملکی طاقتوں کا کھیل ختم نہیں ہوگا۔
ماضی میں طالبان نے جو غلطیاں کی ہیں، شاید اس بار وہ غلطیوں کا ازالہ کرنے کی کوشش کریں اور عالمی برادری کے ساتھ بہترسودے بازی کریں۔پاکستان نے افغانستان میں بہت کچھ داؤ پر لگایا ہے۔سوویت افواج کے افغانستان پر قبضے کے بعد پاکستان نے لاکھوں مہاجرین کو پناہ دی جو آج تک واپس نہیں گئے۔ان کی وجہ سے پاکستان کی معیشت اور سماج بری طرح متاثر ہوئے۔پاکستان میں ایک ایسی لابی وجود میں آئی جس کے مفادات افغان مہاجرین، دہشت گردی اور اسمگلنگ سے وابستہ ہوگئے۔یہ لابی معاشی طور پر مضبوط ہوئی تو سیاست سمیت زندگی کے دیگر شعبوں پر اثر انداز ہوئی۔اسی لابی نے پاکستان میں دہشت گردوں کے لیے ہمدردی پیدا کرنے کی فضا سازگار بنانے کی کوشش کی۔غیرقانونی کاروبار کی وجہ سے اس لابی نے بے پناہ دولت کمائی۔
افغانستان میں جاری موجودہ صورتحال کا پرامن اور بہتر حل نکلنا ضروری ہے کیونکہ پاکستان کے مفادات اور حالات کا افغانستان کے حالات سے گہرا تعلق ہے۔