ایک بیمار بچی

پاکستانی بنیادی طور پر نیک اور ہمدرد لوگ ہیں، ان کو ہمارے حکمرانوں نے بگاڑا ہے اور اس میں انھوں نے پورے66 برس صرف کیے

Abdulqhasan@hotmail.com

CHANTILLY, VA, US:
پاکستانی بنیادی طور پر نیک اور ہمدرد لوگ ہیں، ان کو ہمارے حکمرانوں نے بگاڑا ہے اور اس میں انھوں نے پورے66 برس صرف کیے ہیں لیکن اس کے باوجود ان کے اندر سے بنیادی نیکی ختم نہیں کی جا سکی۔ بتایا جاتا ہے کہ دنیا میں انفرادی طور پر چندہ اور خیرات دینے میں پاکستانی بہت آگے ہیں ،کوئی ایک ارب روپے کے قریب سالانہ خیرات دیتے ہیں۔ میں نے کسی نیک کام کے لیے چندہ دینے کے کئی والہانہ نوعیت کے واقعات خود دیکھے ہیں۔ محترم عبدالستار ایدھی کی خدمات جو تمام تر چندے پر چلتی ہیں اس کا ایک زندہ ثبوت ہیں۔ ایک انٹرویو میں انھوں نے کہا تھا کہ میرے پاس پیسے تو بہت ہیں اور جتنے چاہوں جمع کر سکتا ہوں لیکن انھیں خرچ کرنے کے لیے موزوں تربیت یافتہ افراد کی قلت ہے۔ عمران خان کے ادارے بھی اسی چندے کی ایک مثال ہیں اور کئی دوسرے چھوٹے بڑے فلاحی ادارے بھی ہیں۔

یہ باتیں مجھے ایک خط نے یاد دلائی ہیں۔ کبھی میں ایسے خط اکثر چھاپ دیتا تھا لیکن چند شکایات موصول ہوئیں تو میں نے امداد طلب کرنے والے خطوط چھاپنے بند کر دیے کیونکہ میرے پاس کسی حقیقی مستحق کی تصدیق کا کوئی طریقہ اور ذریعہ نہیں ہے۔ یہ خط ایسا ہے کہ نہ جانے کیوں مجھے سچا دکھائی دیتا ہے، تصدیق پھر بھی لازم ہے، خدا کرے میرا اندازہ صحیح ہو۔ اب آپ ایک استانی کا خط ملاحظہ فرمائیں جس کی جماعت کی بچی کے دل میں سوراخ ہے اور وہ کلاس میں اچانک گر پڑتی ہے۔ کاش مجھ ملازمت پیشہ کو خدا اتنی توفیق دیتا کہ میں یہ خط چھاپنے کی جگہ یہ رقم بھجوا دیتا لیکن پھر بھی اگر اس خط کے ذریعے بچی کا علاج ہو جائے تو میں اسے بھی ایک سعادت اور خوش نصیبی سمجھوں گا کہ میں نے اپنا فرض ادا کر دیا۔

ایک گرلز پرائمری اسکول کی استانی کا خط!

محترم اللہ تعالیٰ آپ کو دونوں جہانوں کی خوشیاں نصیب فرمائیں۔ میرا نام شبنم بی بی ہے، میں گورنمنٹ گرلز پرائمری اسکول کی استانی ہوں، میں بچوں کو اردو پڑھاتی ہوں۔ جس اسکول میں' میں استانی ہوں وہاں پر ایک بچی ہے جس کا نام صفیہ اور عمر12 سال ہے جو کلاس پنجم میں پڑھتی تھی۔ صفیہ کا والد جس کا نام نظیم خان ہے جو ایک گورنمنٹ ادارے میں چوکیدار ہے۔ نظیم خان نرینہ اولاد سے محروم ہے، اس کی پانچ بیٹیاں ہیں جس میں صفیہ سب سے بڑی ہے۔ محترم میں اپنی طالب علموں سے بہت محبت کرتی ہوں۔ محترم میں پہلی بار کسی کالم نگار کو یہ خط لکھ رہی ہوں کیونکہ مجھے بھروسہ ہے کہ میرا یہ خط ردی کی ٹوکری کی نذر نہیں ہو گا بلکہ میری پکار کو آواز ملے گی۔ صفیہ ایک ہونہار طالبہ ہے جو حافظ قرآن ہونے کے ساتھ ساتھ ایک ذہین اورمحنتی طلبہ بھی ہے۔ محترم اچانک کچھ عرصہ سے اس کی مسلسل غیر حاضریاں شروع ہوئی۔ تو ہم نے ایک طالبہ کو اس کے گھر بھجوایا جو معلوم کر سکے کہ صفیہ آج کل کیوں اسکول نہیں آتی۔ محترم اگلے دن اس کی والدہ اسکول تشریف لائی اور ہم سے کہا کہ میری بیٹی صفیہ اسپتال میں داخل ہے اور ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اس کے دل میں سوراخ ہے۔

جب ہم کو اس ذہین طلبہ کی بیماری کا علم ہوا تو ہم سب اسکول کی استانیاں اور کلاس کی طالبات کافی پریشان ہوئیں تو اس کی خیریت پوچھنے کے لیے اسپتال پہنچ گئے۔ جب ہم نے اس معصوم طلبہ صفیہ کی حالت دیکھی تو ہمارے پائوں سے زمین نکل گئی کیونکہ صفیہ کے ہاتھوں اور ناک میں ڈرپ کے پائپ لگے ہوئے تھے۔ میں نے صفیہ کو اپنے سینے سے لگایا۔ صفیہ کچھ دیر تک روتی رہی اور مجھے کہا کہ میڈم میری کیا بیماری ہے اور میں کب ٹھیک ہو جائوں گی۔ کیونکہ اس معصوم کو یہ علم ہی نہیں تھا کہ اس کے دل میں پیدائشی سوراخ ہے۔ محترم اس سے پہلے صفیہ کے والد نے پاکستان بیت المال' زکوۃ کے دفتروں کو بہت سی درخواستیں بھجوائیں مگر مدد تو کیا' وہاں پر ان کو جھوٹی تسلی کا رقعہ تک نہیں دیا گیا۔ محترم ہم کس اسلامی معاشرے کی بات کرتے ہیں؟ زکوٰۃ' فنڈ' بیت المال کس کے لیے قائم کیا گیا ہے؟ ہم کس جمہوریت کا نعرہ لگاتے ہیں؟ جب ایک قیمتی زندگی کو ہم صحت اور تعلیم دونوں سے محروم رکھ رہے ہیں؟ یہ صرف صفیہ کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ اس ملک کے ہر بچے' نوجوان اور بوڑھے کا مسئلہ ہے کیونکہ دنیا میں آگے بڑھنے کے لیے یہی بنیادیں ہیں جن پر ہم نے قوم کی عمارت کھڑی کرنی ہے۔ ہماری سرکاری NGOs پیچھے ہٹ جائیں تو اس ملک کا نظام صحت اور تعلیم لاوارث ہو جائے گا۔ نجی اسکولوں اور اسپتالوں پر بھی بہت تنقید کی جاتی ہے لیکن اگر وہ ادارے بند ہو جائیں تو بچی کچی تعلیم کی روشنی بھی جہالت کے اندھیروں میں ڈوب جائے گی۔


ایسا نہیں ہے کہ سرکاری اداروں میں ایماندار لوگ نہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ سرکاری ڈاکٹرز' نرسیں اور اساتذہ اپنے کردار نہیں نبھا رہے۔ محترم آج اس ملک کو پھر سے سرگنگارام' جہانگیر کوٹھاری' سرآدم جی' حاجی دائود' دیال سنگھ' بیگم آمنہ مجید ملک' ادلجی ڈنشا' سرآغا خان سوئم' دیوان دیارام جیسٹھمل' سیٹھ احمد دائود' جیسے ناموں کی ضرورت ہے جو صفیہ کے دل کو پھر سے دھڑکنے کا تحفہ دے سکیں۔ کیا میں اور آپ وہ نام نہیں بن سکتے۔ ایک اسکول کی استانی کا یہی سوال ہے! محترم روزانہ طالبات اسکول میں صبح جب اسمبلی کے لیے کھڑے ہوتی تھیں تو صفیہ اچانک زمین پر گر کر بے ہوش ہو جاتی۔ ہمیں اس کی بیماری کا علم نہیں تھا کہ وہ دل کے مرض میں مبتلا ہے۔ محترم! اسپتال میں ڈاکٹروں سے پتہ چلا کہ اس کا آپریشن قومی ادارہ امراض قلب AFIC راولپنڈی میں ہو گا۔ جو ڈاکٹر لیفٹیننٹ کرنل خرم اختر (کلاسیفائیڈ چلڈرن اسپیشلسٹ اینڈ پیڈز کارڈیالوجسٹ) کی نگرانی میں آپریشن ہو گا۔ لیفٹیننٹ کرنل خرم اختر ڈیپارٹمنٹ آف پیڈز کارڈیالوجی کا فون نمبر051-9274096 کے مطابق صفیہ کے آپریشن کے اخراجات 4 لاکھ روپے ہیں۔ صفیہ کا والد ایک چوکیدار ہے ان کی ماہانہ تنخواہ اتنی ہے کہ اس سے گھر کی روزی روٹی پوری نہیں ہوتی۔ وہ اپنی بیٹی کے آپریشن کے لیے کافی پریشان ہے۔ محترم ہم اسکول کی استانیوں اور طالبات نے صفیہ کے آپریشن کے لیے اسکول میں چندہ مہم شروع کی۔

ہمیں امید تھی کہ آپریشن کے پیسے اکٹھے ہو جائیں گے مگر افسوس کہ ہم نے بمشکل 45 ہزار 25 روپے اکٹھے کیے۔ جب کہ مزید 3,54,875 (3لاکھ54ہزار8سو75) روپے کی کمی ہیں۔ محترم صفیہ بھی ملالہ کی طرح ہے اگر ملالہ کو دنیا میں سب ایوارڈ ملتے ہیں تو اس غریب طلبہ کا کیا قصور ہے کہ اس کا علاج نہیں ہو سکتا۔ محترم! صفیہ کی تکلیف روز بروز بڑھتی جا رہی ہے کیونکہ ایک چوکیدار باپ اپنی بیمار بیٹی کا علاج کرنے سے قاصر ہے۔ محترم اس سال مارچ 2014 صفیہ کی زندگی کا ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ اس سال مارچ میں اس کے ششم کے امتحانات شروع ہو رہے ہیں مگر اس وقت صفیہ بستر سے جا لگی ہے نہ امتحان کی تیاری کر سکتی ہے نہ اسکول آ جا سکتی ہے۔ ماہر امراض قلب ڈاکٹر لیفٹیننٹ کرنل خرم اختر AFIC راولپنڈی کا کہنا ہے کہ صفیہ کا آپریشن کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ اب ہم ساری استانیاں اور طالبات سخت پریشان ہیں کہ ہمارے اسکول کی اس ہونہار اور ذہین طلبہ کا آپریشن کے اخراجات کون برداشت کرے گا؟ یہ دنیا امید پر قائم ہے اور میں امید رکھتی ہوں کہ آپ میرے اس خط کو اپنے کالم میں چھپوا دینگے تو کوئی اللہ کا نیک انسان اس کے آپریشن کے لیے آگے بڑھے گا کیونکہ دنیا میں نیک انسانوں کی کمی نہیں ہے۔ اگر کمی ہے تو بس ہمارے سرکاری نظام میں۔ صفیہ کے والدین کے پاس دعائوں اور آنسوئوں کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے۔ صفیہ کے والدین کے دعائوں کے لیے اٹھے ہوئے ہاتھ آپ لوگوں کے لیے ہمیشہ قائم و دائم رہیں گے۔

شبنم بی بی گورنمنٹ پرائمری اسکول عظیم خان قلعہ شبقدر

صفیہ کے والد کے گھر کا پتہ:حلیم زئی ڈاکخانہ شبقدر تحصیل و ضلع چارسدہ

صفیہ کے والد سے موبائل رابطہ: 0300-5861088
Load Next Story