بلدیاتی اداروں میں ہر قسم کی ادائیگیوں تبادلوں تقرریوں و ترقیوں پر پابندی
صرف تنخواہیں ادا کی جاسکیں گی، فیصلہ ٹھیکیداروں کو تیزی سے کی جانے والی ادائیگیوں کی اطلاعات پر کیا گیا
صرف تنخواہیں ادا کی جاسکیں گی، فیصلہ ٹھیکیداروں کو تیزی سے کی جانے والی ادائیگیوں کی اطلاعات پر کیا گیا فوٹو: فائل
ISLAMABAD:
صوبائی حکومت نے کراچی سمیت صوبے بھر کے بلدیاتی اداروں میں تنخواہوں کے علاوہ ہر قسم کی ادائیگیوں اور تبادلوں ، تقرریوں اور ترقیوں پر پابندی کا فیصلہ کیا ہے۔
اس فیصلے کا مقصد اس وقت بلدیاتی اداروں میں تعنیات افسران کی طرف سے ٹھیکیداروں کو تیزی سے کی جانے والی ادائیگیوں کی اطلاعات کے بعد کیا گیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق سندھ حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ بلدیہ عظمیٰ کراچی ، کراچی واٹراینڈ سیوریج بورڈ سمیت صوبے بھر کے تمام بلدیاتی اداروں بسشمول ایسے محکوں جن کا کسی نہ کسی حوالے سے سندھ پیپلزلوکل گورنمنٹ آرڈیننس میں تذکرہ موجود ہے ان میں تنخواہوں کے علاوہ ہر قسم کی ادائیگیوں پر پابندی لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ یہ فیصلہ اس لیے کیا گیا ہے کیوں کہ سندھ حکومت کے علم میں یہ بات آئی تھی کہ بلدیاتی اداروں کے افسران نئے آرڈیننس کے اجراء کے بعد اپنے تبادلوں کے خدشے کے پیش نظر بڑے پیمانے پر ٹھکیداروں کو بھاری نذرانوں کے عوض ادائیگیاں کررہے ہیں اور اس سلسلے میں قواعد وضوابط کی بھی خلاف ورزی کی جارہی ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ حکومت نے یہ بھی فیصلہ کیا ہے نئے آرڈیننس کے اجراء کے بعد جب تک صورتحال معمول پر نہیں آجاتی اور نوتشکیل شدہ بلدیاتی اداروں میں افسران کی تعنیاتی نہیں کردی جاتی جب تک بلدیاتی اداروں کے افسران پر شعبہ جاتی سطح پر ہر قسم کے تبادلوں وتقرریوں اور ہر سطح کی ترقیوں پر مکمل طور پر پابندی رہے گی۔
تاکہ ٹرانزکشن مراحل کا فائدہ اٹھائے بلدیاتی اداروں کے اعلیٰ افسران اپنے من پسند افسران وملازمین کے تبادلوں کی کوشش نہ کریں۔ ذرائع نے بتایا کہ محکمہ بلدیات کی طرف سے ایک ایڈوائس محکمہ خزانہ کو بھی بھیجے جانے کا امکان ہے جس میں فنانس ڈپارٹمنٹ سے کہا جائے گا کہ وہ سالانہ ترقیاتی اسکیموں کی مد میں مختص رقم سمیت دیگر مدوں میں بلدیاتی اداروں کو کسی قسم کی ادائیگی نہ کرے تاہم تنخواہوں کے لیے ادائیگیاں معمول کے مطابق جاری رکھی جائیں۔ ذرائع نے بتایا کہ اس بات کا امکان ہے پیر سے نوتشکیل شدہ بلدیاتی اداروں میں افسران کی تقرری کا عمل شروع ہوجائے گا۔
اس سلسلے میں میٹروپولیٹن کارپوریشن کے ایڈمنسٹریٹرز کی تقرریاں چیف سیکریٹری جبکہ اس کے علاوہ دیگر تقرریاں صوبائی محکمہ بلدیات کرے گا۔ ذرائع نے بتایا کہ معاملات فوری طور پر معمول لانے کے لیے پہلے مرحلے میں موجودہ افسران کو ہی نئی ذمے داریاں دے دی جائیں، چند دنوں کے بعد پھر باضابطہ تبادلے وتقرریاں کی جائیں گی جبکہ محکمہ بلدیات میں ایک ٹرانزٹ ونگ بھی قائم کیا جارہا ہے جو کہ مختلف محکموں کو تحلیل اور ضم کرنے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کے حوالے سے اپنا لائحہ عمل طے کرے گا اس سلسلے میں پیر کو اہم فیصلے متوقع ہیں۔
صوبائی حکومت نے کراچی سمیت صوبے بھر کے بلدیاتی اداروں میں تنخواہوں کے علاوہ ہر قسم کی ادائیگیوں اور تبادلوں ، تقرریوں اور ترقیوں پر پابندی کا فیصلہ کیا ہے۔
اس فیصلے کا مقصد اس وقت بلدیاتی اداروں میں تعنیات افسران کی طرف سے ٹھیکیداروں کو تیزی سے کی جانے والی ادائیگیوں کی اطلاعات کے بعد کیا گیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق سندھ حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ بلدیہ عظمیٰ کراچی ، کراچی واٹراینڈ سیوریج بورڈ سمیت صوبے بھر کے تمام بلدیاتی اداروں بسشمول ایسے محکوں جن کا کسی نہ کسی حوالے سے سندھ پیپلزلوکل گورنمنٹ آرڈیننس میں تذکرہ موجود ہے ان میں تنخواہوں کے علاوہ ہر قسم کی ادائیگیوں پر پابندی لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ یہ فیصلہ اس لیے کیا گیا ہے کیوں کہ سندھ حکومت کے علم میں یہ بات آئی تھی کہ بلدیاتی اداروں کے افسران نئے آرڈیننس کے اجراء کے بعد اپنے تبادلوں کے خدشے کے پیش نظر بڑے پیمانے پر ٹھکیداروں کو بھاری نذرانوں کے عوض ادائیگیاں کررہے ہیں اور اس سلسلے میں قواعد وضوابط کی بھی خلاف ورزی کی جارہی ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ حکومت نے یہ بھی فیصلہ کیا ہے نئے آرڈیننس کے اجراء کے بعد جب تک صورتحال معمول پر نہیں آجاتی اور نوتشکیل شدہ بلدیاتی اداروں میں افسران کی تعنیاتی نہیں کردی جاتی جب تک بلدیاتی اداروں کے افسران پر شعبہ جاتی سطح پر ہر قسم کے تبادلوں وتقرریوں اور ہر سطح کی ترقیوں پر مکمل طور پر پابندی رہے گی۔
تاکہ ٹرانزکشن مراحل کا فائدہ اٹھائے بلدیاتی اداروں کے اعلیٰ افسران اپنے من پسند افسران وملازمین کے تبادلوں کی کوشش نہ کریں۔ ذرائع نے بتایا کہ محکمہ بلدیات کی طرف سے ایک ایڈوائس محکمہ خزانہ کو بھی بھیجے جانے کا امکان ہے جس میں فنانس ڈپارٹمنٹ سے کہا جائے گا کہ وہ سالانہ ترقیاتی اسکیموں کی مد میں مختص رقم سمیت دیگر مدوں میں بلدیاتی اداروں کو کسی قسم کی ادائیگی نہ کرے تاہم تنخواہوں کے لیے ادائیگیاں معمول کے مطابق جاری رکھی جائیں۔ ذرائع نے بتایا کہ اس بات کا امکان ہے پیر سے نوتشکیل شدہ بلدیاتی اداروں میں افسران کی تقرری کا عمل شروع ہوجائے گا۔
اس سلسلے میں میٹروپولیٹن کارپوریشن کے ایڈمنسٹریٹرز کی تقرریاں چیف سیکریٹری جبکہ اس کے علاوہ دیگر تقرریاں صوبائی محکمہ بلدیات کرے گا۔ ذرائع نے بتایا کہ معاملات فوری طور پر معمول لانے کے لیے پہلے مرحلے میں موجودہ افسران کو ہی نئی ذمے داریاں دے دی جائیں، چند دنوں کے بعد پھر باضابطہ تبادلے وتقرریاں کی جائیں گی جبکہ محکمہ بلدیات میں ایک ٹرانزٹ ونگ بھی قائم کیا جارہا ہے جو کہ مختلف محکموں کو تحلیل اور ضم کرنے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کے حوالے سے اپنا لائحہ عمل طے کرے گا اس سلسلے میں پیر کو اہم فیصلے متوقع ہیں۔