افغانستان میں عدم مداخلت کا اعادہ
طالبان اپنی طاقت کے بل بوتے پر افغانستان پر قابض ہوتے نظر آرہے ہیں۔
طالبان اپنی طاقت کے بل بوتے پر افغانستان پر قابض ہوتے نظر آرہے ہیں۔ فوٹو: فائل
پاکستان نے افغانستان میں عدم مداخلت کا اعادہ کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ طالبان یقینی بنائیں کہ ان کی سرزمین پاکستان سمیت کسی ملک کے خلاف استعمال نہ ہو۔
گزشتہ روز وزیراعظم عمران خان کی زیرسربراہی قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں وزیر دفاع پرویز خٹک،وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، وزیر داخلہ شیخ رشید،وزیر خزانہ شوکت ترین اورآرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سمیت دیگرشریک ہوئے۔
بعدازں سرکاری اعلامیہ جاری کیا گیا، جس کے مطابق اجلاس میں افغان صورت حال اورپاکستان پراثرات کا جائزہ لیا گیا اور آیندہ کی حکمت عملی پر غور کیا گیاکہ پاکستان تمام فریقین کی نمایندگی کے ساتھ جامع سیاسی تصفیے کے لیے پرعزم ہے،پاکستان عالمی برادری سے تعاون اور کام جاری رکھے گا، ہمسایہ ملک کے ساتھ امن چاہتے ہیں کیونکہ ہم چاردہائیوں سے جاری تنازعات سے متاثر رہے ہیں،دنیاہماری قربانیوں کا اعتراف کرے۔قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں ملک کی سیاسی وعسکری قیادت کا مشترکہ اعلامیہ، واضح اور دوٹوک موقف کا اظہار ہے۔
ماضی میں افغانستان میں تزویراتی گہرائی اور فرنٹ لائن اسٹیٹ کا کردار اختیار کرنے کی قیمت پاکستان سترہزار قیمتی انسانی جانوں کی صورت میں ادا کرچکا ہے، اب ہم عدم مداخلت کی پالیسی پر عمل پیراہوکر ہی اپنی قومی سلامتی کا دفاع کرسکتے ہیں۔
پاکستان کی سول اور فوجی قیادت نے نہ صرف الفاظ بلکہ عملی اقدامات کے ذریعے یہ ثابت کیا ہے کہ وہ پرامن اور مستحکم افغانستان کے لیے پوری طرح پرعزم ہیں ۔ بلاشبہ پاکستان افغانستان میں امن واستحکام چاہتا ہے،کیونکہ افغانستان کی لمحہ بہ لمحہ بدلتی صورتحال کے تناظر میں پاکستان کی قومی سلامتی کے امور، ہماری اولین ترجیح ہیں ، قومی سلامتی اور دفاع کے امور اس لیے بھی اہمیت کے حامل ہیں کیونکہ یہ پاکستان کی علاقائی سلامتی سے تعلق رکھتے ہیں ۔
ابھی افغانستان کی صورتحال، غیرواضح، مبہم اور غیریقینی کا شکار ہے، بظاہر طالبان اپنی طاقت کے بل بوتے پر افغانستان پر قابض ہوتے نظر آرہے ہیں ، لیکن اگر زمینی حقائق کو مدنظر رکھا جائے تو اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ ماضی کی غلطی دہرانے کی کوشش ہوئی تو افغانستان ایک بار پھر خانہ جنگی کی لپیٹ میں آسکتا ہے ۔ عالمی طاقتیں ، بھارت اور افغانستان میں موجود طالبان دشمن گروہ موقع ملتے ہی کچھ کرسکتے ہیں۔
کچھ کہیے افغانستان کی بدامنی کے بد ترین اثرات پاکستان پر براہ راست اثرانداز ہوں گے، اگر حکومت نے شمال مغرب میں روایتی لاپروئی کا مظاہرہ کیا تو پاکستان کو فوری طور پر افغان مہاجرین کے نئے ریلے کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے ، لہٰذا پاکستان کو اپنی شمال مغربی سرحد کو مکمل طور پر سیل رکھنا چاہیے، جب تک افغانستان کی صورتحال واضح ہوکر سامنے نہیں آتی، شمال مغرب میں سیکیورٹی فورسز کو چوکنا رہنے کی ضرورت ہے ۔اگر افغانستان میں حالات مزید خراب ہوئے تو پاکستان متاثرہوگا، سابقہ فاٹا کے اضلاع اور بلوچستان میں دشمن حالات خراب کرنے کی کوشش کرسکتے ہیں ۔
موجودہ صورتحال کے تناظر میں اہم ترین سوال یہ ہے کہ افغانستان اور پورے خطے کے لیے عدم استحکام کا سبب بننے والے موجودہ حالات میں پاکستان اپنے کارڈز کس طرح کھیلتا ہے؟ سوال کا جواب تلاش کرنے کی سعی کرنا ہمارا قومی فریضہ بنتا ہے ۔عمومی اور واضح تاثر جو ابھر کر سامنے آیا ہے وہ یہ ہے کہ مخصوص فکر وخیالات کے حامل افراد اور سیاسی جماعتوں کی قیادت اور حکمران کلاس کا حصہ اہم شخصیات افغانستان پر طالبان کے کنٹرول پر خوش نظر آرہا ہے۔
ان کی دلیل یہ ہے کہ ہے انڈیا کا افغانستان میں رول ختم ہوگیا ہے، امریکاکا اس خطے سے رخصت ہو چکا ہے ، اب پاکستان کی شمال مغربی سرحدیں محفوظ ہوجائیں گی۔ یہ دلیل خاصی وزن دار ہے لیکن افغانستان میں کیا کیا تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں، ان کا جائزہ جلد بازی یا جذباتی اندازمیں نہیں بلکہ زمینی حقائق کو سامنے رکھ کر ٹھنڈے دماغ سے لینا چاہیے۔کیونکہ پاکستان میں ایسے بااثر گروہ موجود ہیں جو پاکستان کو بھی افغانستان جیسی ریاست بنانا چاہتے ہیں۔ پاکستان اس وقت ایک بار پھر بین الاقوامی دباؤ کا شکار ہے۔پاکستان کی حکومت پر یہ دباؤ بھی ہے کہ وہ طالبان کو کسی سیاسی تصفیے اور مذاکرات کے لیے قائل کرے۔
طالبان نے غیرمعمولی ذہانت اور براداشت کا مظاہرہ نہ کیا تو وہ وقت دور نہیں جب افغانستان میں لسانی، نسلی اور مسلکی مسائل سر اٹھائیں گے ،جس کی وجہ سے یہ ملک ایک بار پھر بدامنی کا شکار ہو سکتا ہے ، ایک متحدہ اور پرامن افغانستان خطے اور عالمی امن کے لیے نیک شگون ہوگا لیکن شمال اور جنوب کے تضادات بڑھے تو شمال کے لوگ آخر کار ایک مختلف حکمت عملی اختیار کریں گے اور وہ ملک کو تقسیم کرنے کی کوشش کریں گے۔
حالات کا تقاضا یہی ہے کہ طالبان اپنے مخالف نظریات رکھنے والوں برداشت کریں، افغانستان کو صرف ایک مخصوص سوچ رکھنے والوں کا ملک بنانے کی کوشش نہ کریں ۔جس طرح طالبان افغانستان میں سیاسی طاقت کے طور پر ایک حقیقت ہیں جنھیں قطعی طور پر نظر انداز نہیں کیا جاسکتا، اسی طرح طالبان مخالف نظریات رکھنے والے بھی ایک حقیقت ہیں، اسے بھی تسلیم کرنا ضرروی ہے ۔اب یہ افغانوں پر منحصر ہے کہ وہ اپنے لیے،اپنی آنے والی نسلوں اور اپنے ملک کے لیے کیا چاہتے ہیں۔
افغانوں کو اس حقیقت پر بھی غور کرنا چاہیے کہ امریکا، یورپ وغیرہ ان کے ملک کو بے حساب ڈالر نہیں دے گا۔ لہٰذا اب وقت آگیا ہے کہ افغان دھڑے اور طالبان دونوں مل بیٹھ کر اپنے اختلافات مذاکرات کے ذریعے حل کریں، علاقائی ممالک، امریکا اور دوسرے طاقتور ممالک افغانستان میں کئی دہائیوں سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے فریقین کے لیے سہولت کار کا کردار ادا کر نے کے لیے تیار ہیں، اگر وہ یہ موقع گنوا دیتے ہیں تو وہ اپنے ملک میں امن اور استحکام کو مزید ایک دہائی تک قائم نہیں کر سکیں گے اور افغانستان 1990کی دہائی کے ابتدائی حالات میں ڈوب سکتا ہے۔
اس وقت مسئلہ افغانستان کے کنٹرول کا نہیں بلکہ یہ ہے کہ طالبان کس طرح کی پالیسی بنائیں گے؟ ان کی خارجہ پالیسی کیا ہوگی؟، افغانستان کی معیشت کا ماڈل یہی رہے گا یا کوئی اور ماڈل اختیار کیا جائے گا؟ افغانستان کا سیاسی ماحول کیا ہوگا؟ یہ وہ سوال ہیں جن کا جواب افغان طالبان کی قیادت دنیا کو دے گی۔ افغان قیادت اور دانشوروں کے لیے یہ کڑے امتحان کا وقت ہے۔
افغانستان میں طالبان کا پلڑا بھاری ہوتے دیکھ کر انڈیا نے بھی طالبان کے ساتھ قریبی تعلقات قائم کرنے کے لیے اپنی بھرپور کوشش کی ہے مگر اسے ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے ۔اس ساری صورت حال کا حتمی نتیجہ اخذکیا جائے تو یہ حقیقت کھل کر سامنے آتی ہے کہ پاکستان، افغانستان کے مسئلے کے ایسے سیاسی حل پر یقین رکھتا ہے جو تمام افغان سیاسی دھڑوں کے لیے نہ صرف قابلِ قبول ہو بلکہ اِتفاق رائے پر مبنی ہو اور اِس کا اِظہار پاکستانی قیادت مختلف مواقع پر کرتی آرہی ہے۔ پاکستان کو اپنے مفادات کا تحفظ کرتے ہوئے اس سے اسٹرٹیجک اور جیو پولیٹیکل فوائد حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔
سینیٹ اور قومی اسمبلی کی قومی سلامتی کی کمیٹیوں کو چوکنا رہنا چاہیے اور ان کو فعال اور متحرک کردار ادا کرنا چاہیے کیونکہ وہ پاکستانی عوام کے نمایندے ہیں اور ان کمیٹیوں میں تمام جماعتوں کے نمایندے موجود ہیں۔ یہ ان کی ذمے داری ہے کہ وہ پاکستان کی آزادی، خودمختاری اور قومی سلامتی کے لیے پرعزم اور سرگرم کردار ادا کریں۔ اپوزیشن کی جماعتیں موجودہ حکومت کے راستے میں مشکلات پیدا کرنے کے بجائے اس سے مکمل تعاون کریں۔
حکومتی پارٹی کی بھی ذمے داری ہے کہ وہ پاکستان کے مفاد کو اولیت دے ۔تاریخ کے رومانس کا شکار ہوکر ایسے بیانات نہ دیے جو زمینی حقیقتوں سے ہم آہنگ نہ ہوں۔پاکستان کا نقصان اور نفع مشترکہ ہے، ہمارے سکھ اور دکھ اپنے ہیں، کسی افغانستان کو ہمارے دکھ سکھ سے کوئی جذباتی وابستگی نہیں ہے۔ اس لیے ہمیں سیاسی اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر وفاق پاکستان میں بسنے والے عوام کے وسیع تر مفاد سامنے رکھ کر پالیسیاں بنانی ہوں گی۔
گزشتہ روز وزیراعظم عمران خان کی زیرسربراہی قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں وزیر دفاع پرویز خٹک،وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، وزیر داخلہ شیخ رشید،وزیر خزانہ شوکت ترین اورآرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سمیت دیگرشریک ہوئے۔
بعدازں سرکاری اعلامیہ جاری کیا گیا، جس کے مطابق اجلاس میں افغان صورت حال اورپاکستان پراثرات کا جائزہ لیا گیا اور آیندہ کی حکمت عملی پر غور کیا گیاکہ پاکستان تمام فریقین کی نمایندگی کے ساتھ جامع سیاسی تصفیے کے لیے پرعزم ہے،پاکستان عالمی برادری سے تعاون اور کام جاری رکھے گا، ہمسایہ ملک کے ساتھ امن چاہتے ہیں کیونکہ ہم چاردہائیوں سے جاری تنازعات سے متاثر رہے ہیں،دنیاہماری قربانیوں کا اعتراف کرے۔قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں ملک کی سیاسی وعسکری قیادت کا مشترکہ اعلامیہ، واضح اور دوٹوک موقف کا اظہار ہے۔
ماضی میں افغانستان میں تزویراتی گہرائی اور فرنٹ لائن اسٹیٹ کا کردار اختیار کرنے کی قیمت پاکستان سترہزار قیمتی انسانی جانوں کی صورت میں ادا کرچکا ہے، اب ہم عدم مداخلت کی پالیسی پر عمل پیراہوکر ہی اپنی قومی سلامتی کا دفاع کرسکتے ہیں۔
پاکستان کی سول اور فوجی قیادت نے نہ صرف الفاظ بلکہ عملی اقدامات کے ذریعے یہ ثابت کیا ہے کہ وہ پرامن اور مستحکم افغانستان کے لیے پوری طرح پرعزم ہیں ۔ بلاشبہ پاکستان افغانستان میں امن واستحکام چاہتا ہے،کیونکہ افغانستان کی لمحہ بہ لمحہ بدلتی صورتحال کے تناظر میں پاکستان کی قومی سلامتی کے امور، ہماری اولین ترجیح ہیں ، قومی سلامتی اور دفاع کے امور اس لیے بھی اہمیت کے حامل ہیں کیونکہ یہ پاکستان کی علاقائی سلامتی سے تعلق رکھتے ہیں ۔
ابھی افغانستان کی صورتحال، غیرواضح، مبہم اور غیریقینی کا شکار ہے، بظاہر طالبان اپنی طاقت کے بل بوتے پر افغانستان پر قابض ہوتے نظر آرہے ہیں ، لیکن اگر زمینی حقائق کو مدنظر رکھا جائے تو اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ ماضی کی غلطی دہرانے کی کوشش ہوئی تو افغانستان ایک بار پھر خانہ جنگی کی لپیٹ میں آسکتا ہے ۔ عالمی طاقتیں ، بھارت اور افغانستان میں موجود طالبان دشمن گروہ موقع ملتے ہی کچھ کرسکتے ہیں۔
کچھ کہیے افغانستان کی بدامنی کے بد ترین اثرات پاکستان پر براہ راست اثرانداز ہوں گے، اگر حکومت نے شمال مغرب میں روایتی لاپروئی کا مظاہرہ کیا تو پاکستان کو فوری طور پر افغان مہاجرین کے نئے ریلے کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے ، لہٰذا پاکستان کو اپنی شمال مغربی سرحد کو مکمل طور پر سیل رکھنا چاہیے، جب تک افغانستان کی صورتحال واضح ہوکر سامنے نہیں آتی، شمال مغرب میں سیکیورٹی فورسز کو چوکنا رہنے کی ضرورت ہے ۔اگر افغانستان میں حالات مزید خراب ہوئے تو پاکستان متاثرہوگا، سابقہ فاٹا کے اضلاع اور بلوچستان میں دشمن حالات خراب کرنے کی کوشش کرسکتے ہیں ۔
موجودہ صورتحال کے تناظر میں اہم ترین سوال یہ ہے کہ افغانستان اور پورے خطے کے لیے عدم استحکام کا سبب بننے والے موجودہ حالات میں پاکستان اپنے کارڈز کس طرح کھیلتا ہے؟ سوال کا جواب تلاش کرنے کی سعی کرنا ہمارا قومی فریضہ بنتا ہے ۔عمومی اور واضح تاثر جو ابھر کر سامنے آیا ہے وہ یہ ہے کہ مخصوص فکر وخیالات کے حامل افراد اور سیاسی جماعتوں کی قیادت اور حکمران کلاس کا حصہ اہم شخصیات افغانستان پر طالبان کے کنٹرول پر خوش نظر آرہا ہے۔
ان کی دلیل یہ ہے کہ ہے انڈیا کا افغانستان میں رول ختم ہوگیا ہے، امریکاکا اس خطے سے رخصت ہو چکا ہے ، اب پاکستان کی شمال مغربی سرحدیں محفوظ ہوجائیں گی۔ یہ دلیل خاصی وزن دار ہے لیکن افغانستان میں کیا کیا تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں، ان کا جائزہ جلد بازی یا جذباتی اندازمیں نہیں بلکہ زمینی حقائق کو سامنے رکھ کر ٹھنڈے دماغ سے لینا چاہیے۔کیونکہ پاکستان میں ایسے بااثر گروہ موجود ہیں جو پاکستان کو بھی افغانستان جیسی ریاست بنانا چاہتے ہیں۔ پاکستان اس وقت ایک بار پھر بین الاقوامی دباؤ کا شکار ہے۔پاکستان کی حکومت پر یہ دباؤ بھی ہے کہ وہ طالبان کو کسی سیاسی تصفیے اور مذاکرات کے لیے قائل کرے۔
طالبان نے غیرمعمولی ذہانت اور براداشت کا مظاہرہ نہ کیا تو وہ وقت دور نہیں جب افغانستان میں لسانی، نسلی اور مسلکی مسائل سر اٹھائیں گے ،جس کی وجہ سے یہ ملک ایک بار پھر بدامنی کا شکار ہو سکتا ہے ، ایک متحدہ اور پرامن افغانستان خطے اور عالمی امن کے لیے نیک شگون ہوگا لیکن شمال اور جنوب کے تضادات بڑھے تو شمال کے لوگ آخر کار ایک مختلف حکمت عملی اختیار کریں گے اور وہ ملک کو تقسیم کرنے کی کوشش کریں گے۔
حالات کا تقاضا یہی ہے کہ طالبان اپنے مخالف نظریات رکھنے والوں برداشت کریں، افغانستان کو صرف ایک مخصوص سوچ رکھنے والوں کا ملک بنانے کی کوشش نہ کریں ۔جس طرح طالبان افغانستان میں سیاسی طاقت کے طور پر ایک حقیقت ہیں جنھیں قطعی طور پر نظر انداز نہیں کیا جاسکتا، اسی طرح طالبان مخالف نظریات رکھنے والے بھی ایک حقیقت ہیں، اسے بھی تسلیم کرنا ضرروی ہے ۔اب یہ افغانوں پر منحصر ہے کہ وہ اپنے لیے،اپنی آنے والی نسلوں اور اپنے ملک کے لیے کیا چاہتے ہیں۔
افغانوں کو اس حقیقت پر بھی غور کرنا چاہیے کہ امریکا، یورپ وغیرہ ان کے ملک کو بے حساب ڈالر نہیں دے گا۔ لہٰذا اب وقت آگیا ہے کہ افغان دھڑے اور طالبان دونوں مل بیٹھ کر اپنے اختلافات مذاکرات کے ذریعے حل کریں، علاقائی ممالک، امریکا اور دوسرے طاقتور ممالک افغانستان میں کئی دہائیوں سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے فریقین کے لیے سہولت کار کا کردار ادا کر نے کے لیے تیار ہیں، اگر وہ یہ موقع گنوا دیتے ہیں تو وہ اپنے ملک میں امن اور استحکام کو مزید ایک دہائی تک قائم نہیں کر سکیں گے اور افغانستان 1990کی دہائی کے ابتدائی حالات میں ڈوب سکتا ہے۔
اس وقت مسئلہ افغانستان کے کنٹرول کا نہیں بلکہ یہ ہے کہ طالبان کس طرح کی پالیسی بنائیں گے؟ ان کی خارجہ پالیسی کیا ہوگی؟، افغانستان کی معیشت کا ماڈل یہی رہے گا یا کوئی اور ماڈل اختیار کیا جائے گا؟ افغانستان کا سیاسی ماحول کیا ہوگا؟ یہ وہ سوال ہیں جن کا جواب افغان طالبان کی قیادت دنیا کو دے گی۔ افغان قیادت اور دانشوروں کے لیے یہ کڑے امتحان کا وقت ہے۔
افغانستان میں طالبان کا پلڑا بھاری ہوتے دیکھ کر انڈیا نے بھی طالبان کے ساتھ قریبی تعلقات قائم کرنے کے لیے اپنی بھرپور کوشش کی ہے مگر اسے ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے ۔اس ساری صورت حال کا حتمی نتیجہ اخذکیا جائے تو یہ حقیقت کھل کر سامنے آتی ہے کہ پاکستان، افغانستان کے مسئلے کے ایسے سیاسی حل پر یقین رکھتا ہے جو تمام افغان سیاسی دھڑوں کے لیے نہ صرف قابلِ قبول ہو بلکہ اِتفاق رائے پر مبنی ہو اور اِس کا اِظہار پاکستانی قیادت مختلف مواقع پر کرتی آرہی ہے۔ پاکستان کو اپنے مفادات کا تحفظ کرتے ہوئے اس سے اسٹرٹیجک اور جیو پولیٹیکل فوائد حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔
سینیٹ اور قومی اسمبلی کی قومی سلامتی کی کمیٹیوں کو چوکنا رہنا چاہیے اور ان کو فعال اور متحرک کردار ادا کرنا چاہیے کیونکہ وہ پاکستانی عوام کے نمایندے ہیں اور ان کمیٹیوں میں تمام جماعتوں کے نمایندے موجود ہیں۔ یہ ان کی ذمے داری ہے کہ وہ پاکستان کی آزادی، خودمختاری اور قومی سلامتی کے لیے پرعزم اور سرگرم کردار ادا کریں۔ اپوزیشن کی جماعتیں موجودہ حکومت کے راستے میں مشکلات پیدا کرنے کے بجائے اس سے مکمل تعاون کریں۔
حکومتی پارٹی کی بھی ذمے داری ہے کہ وہ پاکستان کے مفاد کو اولیت دے ۔تاریخ کے رومانس کا شکار ہوکر ایسے بیانات نہ دیے جو زمینی حقیقتوں سے ہم آہنگ نہ ہوں۔پاکستان کا نقصان اور نفع مشترکہ ہے، ہمارے سکھ اور دکھ اپنے ہیں، کسی افغانستان کو ہمارے دکھ سکھ سے کوئی جذباتی وابستگی نہیں ہے۔ اس لیے ہمیں سیاسی اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر وفاق پاکستان میں بسنے والے عوام کے وسیع تر مفاد سامنے رکھ کر پالیسیاں بنانی ہوں گی۔