جامعہ کراچی مشرقی طرز کے مرکزی دروازے کی تعمیر مکمل

دروازے پر یونیورسٹی آف کراچی کندہ ہوا ہے، پرانا ستون تزئین سے محروم، عبارت اور حروف مٹ گئے

جامعہ کراچیکے پرانے سلور جوبلی گیٹ کی جگہ نوتعمیر مشرقی طرز کے مرکزی دروازے کا خوبصورت منظر۔ فوٹو: ایکسپریس

KARACHI:
جامعہ کراچی کے پرانے سلورجوبلی گیٹ کی مشرقی طرز کے مرکزی دروازے کی تعمیر مکمل ہوگئی ہے نیا مرکزی دروازہ جلد آمدورفت کے لیے کھولا جائے گا۔

تفصیلات کے مطابق مشرقی طرز تعمیر کے شاہکار مرکزی دروازے کو جمعرات کے دن جامعہ کراچی کے سالانہ جلسہ تقسیم اسناد کے موقع پر عارضی طور پرکھولاجارہا ہے، جامعہ کراچی کے قدیمی سلور جوبلی گیٹ پر نئے دروازے کی تعمیر نجی بینک نے کی ہے، جامعہ نے نجی بینک کو برانچ کی تعمیر کے لیے شعبہ فارمیسی کے سامنے قطعہ اراضی فراہم کی ہے، نئے سلورجوبلی گیٹ کی اونچائی32 فٹ اورچوڑائی 104فٹ ہے جس میں بڑے اور چھوٹے 4 دروازے نصب ہیں ان میں 2 مرکزی دروازے گاڑیوں کی آمدورفت کے لیے جبکہ 2 چھوٹے دروازے پیدل آنے اور جانے والوں کے لیے ہیں، نئے دروازے میں اندرونی جانب سیکیورٹی کاکمرہ بھی بنایا گیا ہے جو2 بڑے آہنی دروازوں کے درمیان ہے ان دروازوں کے دونوں جانب بڑے ستونوں پر مشتمل مینار تعمیر کیے گئے ہیں جبکہ بڑے مرکزی دروازوں کے اوپرکھلی محرابیں بنائی گئی ہیں جس کے باعث جامعہ کراچی کا نیا مرکزی دروازہ مشرقی طرز تعمیرکی عکاسی کرتا ہے۔




دروازے پر قومی زبان اردو میں جامعہ کراچی کے بجائے انگریزی میںUniversity of Karachi کندہ ہوا ہے، دروازے کی تعمیر کے عوض جامعہ نے نجی بینک کو جو قطعہ اراضی کرائے پر فراہم کی ہے اس کا کرایہ ماہانہ 50 ہزار روپے ہے، نجی بینک نے مرکزی دروازے کی تعمیر پر7.5ملین روپے خرچ کیے ہیں، جامعہ کراچی کے نئے مرکزی دروازے کی تعمیر پر وہاں پہلے سے قائم عشروں پرانے ستون کی تزئین نظرانداز کردی گئی، ستون پر ایک جانب انگریزی جبکہ دوسری جانب اردو میں عبارت درج ہے جس پر علامہ اقبال کے اشعاراورقائد اعظم کے فرمان کے علاوہ قرآنی آیت لکھی گئی ہے ستون پر لکھی گئی عبارت کے الفاظ میں سے انگریزی اوراردوکے حروف نکل گئے ہیں جس سے عبارت پڑھی نہیں جاسکتی، شیخ الجامعہ کے مشیر پروفیسر ڈاکٹر سہیل برکاتی نے رابطے پر بتایا کہ مرکزی دروازے کی تعمیر مکمل ہونے پر ستون کی تزئین و آرائش کی جائے گی۔
Load Next Story