رینجرز کے نام پر بھتہ طلب کرنیوالے 2 ملزمان کا جسمانی ریمانڈ
عدالت نے ٹارگٹ کلنگ میں ملوث ملزم عامر کو تحقیقات کیلیے 90 روز کی نظر بندی پر رینجرز کے حوالے کرنے کا حکم دیدیا
بھتہ خوری کیس کے مدعی اورگواہ بیان سے منحرف، ملزمان کو پہلی سماعت میں شناخت اور بعد میں پہنچاننے سے انکارکردیا۔ فوٹو: فائل
KARACHI:
انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے رینجرز کے نام پر بھتہ طلب کرنے والے گینگ وار کے 2 ملزمان مہر علی اور ظہیر الدین کو جسمانی ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں دیدیا۔
ملزمان نے تھانہ نبی بخش کی حدود میں واقع دکان کے مالک عبدالواحد سے رینجرز کے نام پر ایک لاکھ روپے بھتہ طلب کیا تھا ،انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے ٹارگٹ کلنگ اور بھتہ خوری کے مقدمات میں ملوث ملزم عامر کو تحقیقات کیلیے 90 روز کی نظر بندی پر رینجرز کے حوالے کردیا، پیر کو رینجرز حکام نے ملزم عامر کو جج آنند رام ہوتوانی کے روبرو پیش کیا تھا، رینجرز کے مطابق ملزم کو تھانہ رسالہ کی حدود سے مقابلے کے بعد گرفتار کیا ہے ، ،ملزم سے غیر قانونی اسلحہ اور مسروقہ سامان بھی برآمد ہوا تھا ، دریں اثنا اس ہی عدالت میں مقدمے کی سماعت کے دوران بھتہ طلب کرنے کے الزام میں گرفتار ملزمان کو مدعی مقدمہ اور چشم دید گواہ نے شناخت کرنے سے انکار کردیا ، سماعت کے موقع پر مدعی مقدمہ اور گواہ شمس الرحمن نے بیان قلمبند کرایاکہ ملزمان نے ٹیلی فون پر 10کلو بریانی اور 50 ہزار روپے بھتہ طلب کیا تھا، بھتہ نہ دینے پر جان سے مارنے کی دھمکی بھی دی تھی ،لیکن یہ نہیں کہہ سکتا کہ گرفتار ملزمان وہی ہیں جنھوں نے ٹیلی فون پر بھتہ طلب کیا تھا ، ملزم نور خان ، امجد ، سجاد خٹک ، دلاور خان اور ممتاز پنجابی کو 8 سال سے جانتا ہوں لیکن جنھوں نے ان کے نام پر بھتہ طلب کیا تھا وہ کوئی اور ہیں اور ان کا نام استعمال کررہے تھے۔
دوران سماعت پراسیکیوٹر غلام مصطفی نے گواہوں کے منحرف ہونے پرکہا کہ 14دسمبر 2013 کو مدعی مقدمہ اور گواہوں نے عدالت کے روبرو ہی بیان قلمبند کرایا تھا کہ یہ وہی تمام ملزمان ہیں جنھوں نے ان سے بھتہ طلب کیا تھا اور سنگین نتائج کی دھمکیا ں دی تھیں، اب ملزمان کے دباؤ پر دونوں گواہ اپنا بیان تبدیل کررہے ہیںجس پر عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ گواہوں کے بیان میں ردوبدل سے انصاف کے تقاضے پورے نہیں ہوتے،عدالت موثر گواہی پر ہی سزا سناسکتی ہے اگر گواہ موثر گواہی نہیں دیں گے تو پھر سزا کیسے سنائیں گے،علاوہ ازیںانسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے ٹارگٹ کلر انیس الرحمن کو 7روز کے جسمانی ریمانڈ پر اینٹی وائلینس کرائم سیل کی تحویل میں دیدیا ہے ،استغاثہ کے مطابق ملزم سیاسی اور مذہبی ٹارگٹ کلنگ کی 50سے زائد وارداتوں میں ملوث ہے ۔
انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے رینجرز کے نام پر بھتہ طلب کرنے والے گینگ وار کے 2 ملزمان مہر علی اور ظہیر الدین کو جسمانی ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں دیدیا۔
ملزمان نے تھانہ نبی بخش کی حدود میں واقع دکان کے مالک عبدالواحد سے رینجرز کے نام پر ایک لاکھ روپے بھتہ طلب کیا تھا ،انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے ٹارگٹ کلنگ اور بھتہ خوری کے مقدمات میں ملوث ملزم عامر کو تحقیقات کیلیے 90 روز کی نظر بندی پر رینجرز کے حوالے کردیا، پیر کو رینجرز حکام نے ملزم عامر کو جج آنند رام ہوتوانی کے روبرو پیش کیا تھا، رینجرز کے مطابق ملزم کو تھانہ رسالہ کی حدود سے مقابلے کے بعد گرفتار کیا ہے ، ،ملزم سے غیر قانونی اسلحہ اور مسروقہ سامان بھی برآمد ہوا تھا ، دریں اثنا اس ہی عدالت میں مقدمے کی سماعت کے دوران بھتہ طلب کرنے کے الزام میں گرفتار ملزمان کو مدعی مقدمہ اور چشم دید گواہ نے شناخت کرنے سے انکار کردیا ، سماعت کے موقع پر مدعی مقدمہ اور گواہ شمس الرحمن نے بیان قلمبند کرایاکہ ملزمان نے ٹیلی فون پر 10کلو بریانی اور 50 ہزار روپے بھتہ طلب کیا تھا، بھتہ نہ دینے پر جان سے مارنے کی دھمکی بھی دی تھی ،لیکن یہ نہیں کہہ سکتا کہ گرفتار ملزمان وہی ہیں جنھوں نے ٹیلی فون پر بھتہ طلب کیا تھا ، ملزم نور خان ، امجد ، سجاد خٹک ، دلاور خان اور ممتاز پنجابی کو 8 سال سے جانتا ہوں لیکن جنھوں نے ان کے نام پر بھتہ طلب کیا تھا وہ کوئی اور ہیں اور ان کا نام استعمال کررہے تھے۔
دوران سماعت پراسیکیوٹر غلام مصطفی نے گواہوں کے منحرف ہونے پرکہا کہ 14دسمبر 2013 کو مدعی مقدمہ اور گواہوں نے عدالت کے روبرو ہی بیان قلمبند کرایا تھا کہ یہ وہی تمام ملزمان ہیں جنھوں نے ان سے بھتہ طلب کیا تھا اور سنگین نتائج کی دھمکیا ں دی تھیں، اب ملزمان کے دباؤ پر دونوں گواہ اپنا بیان تبدیل کررہے ہیںجس پر عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ گواہوں کے بیان میں ردوبدل سے انصاف کے تقاضے پورے نہیں ہوتے،عدالت موثر گواہی پر ہی سزا سناسکتی ہے اگر گواہ موثر گواہی نہیں دیں گے تو پھر سزا کیسے سنائیں گے،علاوہ ازیںانسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے ٹارگٹ کلر انیس الرحمن کو 7روز کے جسمانی ریمانڈ پر اینٹی وائلینس کرائم سیل کی تحویل میں دیدیا ہے ،استغاثہ کے مطابق ملزم سیاسی اور مذہبی ٹارگٹ کلنگ کی 50سے زائد وارداتوں میں ملوث ہے ۔