قبائلی علاقوں کی 2 کمپنیوں پر 34 کروڑ کی ٹیکس چوری کا الزام

آرٹی اوافسران کی ملی بھگت سے پشاور ہائیکورٹ کے احکام کا غلط استعمال کیا گیا

ایک کمپنی نے کروڑوں روپے ریفنڈ بھی لیے، محکمہ انٹیلی جنس، ایف بی آرسے تحقیقات کی استدعا۔ فوٹو: فائل

فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) نے 34 کروڑ روپے سے زائد کی ٹیکس چوری میں ملوث فاٹا اور قباعلی علاقوں سے تعلق رکھنے والی 2کمپنیوں کا سراغ لگالیا۔

''ایکسپریس'' کو دستیاب دستاویز کے مطابق ڈائریکٹریٹ جنرل انٹیلی جنس اینڈ انویسٹی گیشن ان لینڈ ریونیو کی طرف سے ایف بی آر کو رپورٹ بھجوائی گئی ہے جس میں انکشاف کیا گیاکہ فاٹا اور قبائلی علاقوں سے تعلق رکھنے والے 2صنعتی یونٹس آفریدی پولی پراپلین انڈسٹریز پشاور اور ایگل پلاسٹک انڈسٹریز باڑہ خیبر ایجنسی کروڑوں روپے کی سیلز ٹیکس، انکم ٹیکس اور ویلیو ایڈڈ ٹیکس چوری میں ملوث ہیں اور یہ صنعتی یونٹس ریجنل ٹیکس آفس پشاور کے افسران کی ملی بھگت سے فروری 2005 اور مئی 2013کو پشاور ہائیکورٹ کی طرف سے جاری کردہ احکام کا غلط استعمال کررہے ہیں۔ دستاویز کے مطابق دونوں کمپنیاںکی جانب سے اپنے صنعتی یونٹس کے نام سے خام مال پی ایم سی کی درآمد پر مذکورہ عدالتی احکام کے نام پر انکم ٹیکس اور سیلز ٹیکس سے چھوٹ حاصل کی جاتی رہی ہے۔




یہ یونٹس درآمدی مال پر ٹیکس چھوٹ کے لیے زرضمانت جمع کراتے اور بعد میں آر ٹی او پشاور کے افسران کی ملی بھگت سے جھوٹے اور غلط سرٹیفکیٹس حاصل کرکے زرضمانت کی یہ رقم واپس لیتے رہے جس سے قومی خزانے کو انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور ویلیو ایڈڈ ٹیکس کی مد میں 34 کروڑ 71 لاکھ 20 ہزار روپے کا نقصان پہنچا، اس کے علاوہ آفریدی پولی پراپلین کی طرف سے 16 کروڑ 30 لاکھ روپے کے ریفنڈ بھی حاصل کیے گئے۔ دستاویز کے مطابق ڈائریکٹریٹ جنرل انٹیلی جنس اینڈ انویسٹی گیشن ان لینڈ ریونیو نے ایف بی آر سے درخواست کی ہے کہ مذکورہ کیس کی تفصیلی تحقیقات کرنے کے احکام جاری کیے جائیں تاکہ نہ صرف کروڑوں روپے کے چوری شدہ ٹیکس واجبات کی وصولی ہوسکے بلکہ اس ٹیکس چوری میں ملوث آر ٹی او پشاور کے افسران کا تعین کرکے ان کے خلاف بھی کارروائی عمل میں لائی جاسکے، ساتھ ہی ریفنڈ حاصل کرنے والے یونٹ سے بھی ریکوری کی جا سکے۔
Load Next Story