سرکاری محکموں میںنئی بھرتیوں پرعائدپابندی اٹھانے کافیصلہ

خالی آسامیوں پربھرتیوںکے منصوبے کوحتمی شکل دیدی گئی،سرکاری اداروںکوسمری ارسال

خالی آسامیوں پربھرتیوںکے منصوبے کوحتمی شکل دیدی گئی،سرکاری اداروںکوسمری ارسال، فوٹو : فائل

ISLAMABAD:
پیپلزپارٹی کی حکومت نے آئندہ عام انتخابات کے پیش نظرسرکاری محکموں میں نئی بھرتیوں پرعائدپابندی اٹھاتے ہوئے سرکاری اداروں میں خالی آسامیوں پربھرتیوںکے منصوبے کوحتمی شکل دیدی۔

وزارت خزانہ نے سرکاری اداروں میں خالی آسامیوں پربھرتی سے متعلق سمری متعلقہ اداروں کوارسال کردی۔سرکاری اداروں میں ابتدائی طورپرگریڈایک سے 16 تک مذکورہ40ہزارافرادکوبھرتی کیاجائے گا قومی و صوبائی اسمبلیوں اور سینیٹ میں پیپلزپارٹی اوراتحادی جماعتوںکے ارکان کو نئی بھرتیوں کا خصوصی کوٹہ دینے کافیصلہ کیاگیاہے تاکہ آنیوالے انتخابات میں حکمراں اتحادکے امیدواراپنے حلقوں میں نوکریاں تقسیم کرکے سیاسی طور پر مضبوط ہوسکیں۔


وزارت خزانہ کے باوثوق ذرائع نے''آئی این پی'' کو بتایا کہ وفاقی حکومت نے سرکاری محکموں میں گزشتہ3سال سے نئی بھرتیوں پرعائد پابندی اٹھانے کافیصلہ کیا ہے اورسرکاری اداروں میں خالی آسامیوں پرنئی بھرتیوں کے منصوبے کوحتمی شکل دیدی گئی ہے۔ذرائع نے مزیدبتایاکہ وفاقی حکومت نے رواں سال کے مالی بجٹ2012-13میں 80 ہزارنئی ملازمتیں دینے کااعلان کیاتھا،گزشتہ 3سال سے عائد پابندی اوروفاقی سطح پر نئی وزارتوں کی تشکیل نوکے باعث ہزاروں آسامیاں خالی تھیں جن پراب بھرتی کا فیصلہ کیا گیاہے۔

جس کیلیے وزارت خزانہ نے وفاق کے ماتحت تمام سرکاری اداروںکوسمری ارسال کردی ہے۔ذرائع نے مزید بتایا کہ ابتدائی طورپرگریڈ ایک سے گریڈ16تک40 ہزار سے زائدافرادکومختلف اداروں میں ملازمتیں فراہم کی جائیں گی جس میں قومی اسمبلی اورسینیٹ میں پیپلز پارٹی اور اتحادی جماعتوںکے ارکان کوبھی خصوصی کوٹہ دینے کافیصلہ کیا گیا ہے ۔
Load Next Story