ہیڈ کوچ درخواست دوں یا نہیں وقار یونس شش و پنج کا شکار

سوچ بچار میں مصروف ہوں، حتمی فیصلہ کرنے کیلیے وقت موجود ہے،سابق اسٹار

ماضی کا تجربہ خوشگوار رہا، شاہد آفریدی سے اختلافات بھی بعد میں دور ہوگئے۔ فوٹو: رائٹرز/فائل

KARACHI:
سابق کپتان وقار یونس نے تاحال ہیڈ کوچ کی ذمہ داری کے لیے درخواست نہیں دی، ان کا کہنا ہے کہ میں بدستور سوچ بچار میں مصروف ہوں، ابھی میرے پاس حتمی فیصلہ کرنے کیلیے وقت موجود ہے، پاکستانی ٹیم کی کوچنگ ایک چیلنجنگ جاب ہے۔

تفصیلات کے مطابق ڈیو واٹمور کے عہدے کی 2 سالہ مدت مکمل ہو چکی، اب ہیڈ کوچ کی ذمہ داری کے لیے سابق کپتان وقار یونس کا نام لیا جارہا ہے، وہ اس سے قبل 2010 اور 2011 میں بھی پاکستان ٹیم کی کوچنگ کرچکے ہیں، ابھی تک انھوں نے اس عہدے کیلیے باقاعدہ درخواست نہیں دی اور بدستور سوچ و بچار میں مصروف ہیں، وقار یونس نے کہا کہ میں کچھ میڈیا ذمہ داریوں میں بھی الجھا ہوا ہوں جبکہ کوچنگ کے لیے فیصلے کرنے کی خاطر ابھی میرے پاس وقت ہے، مجھے یہ دیکھنا ہوگا کہ اس ذمہ داری سے انصاف بھی کرپاتا ہوں یا نہیں۔ وقار یونس کے بارے میں یہ اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ وہ دوبارہ کوچنگ سنبھالنے کیلیے فیملی کے ہمراہ آسٹریلیا سے دبئی منتقل ہونے کو بھی تیار ہوگئے، انھیں ایک اہم بورڈ آفیشل نے باقاعدہ درخواست دینے کو بھی کہا ہے.




سابق پیسر نے کہاکہ ابھی میں یہ نہیں کہ سکتا کہ میں درخواست دوں گا بھی یا نہیں، انھوں نے کہ یہ ایک ایسی جاب ہے جس میں آپ بہت کچھ کر سکتے ہیں، میں نے پاکستان کے ساتھ گذشتہ کوچنگ ذمہ داریوں سے کافی لطف اٹھایا اگرچہ اس وقت کچھ مسائل بھی ہوئے، ٹیم میرے لیے فیملی کی مانند ہے، شاہد آفریدی سے اختلافات تھے مگر وہ بھی بعد میں دور ہوگئے، مجموعی طور پر میرا پاکستان کی کوچنگ کا تجربہ کافی خوشگوار رہا تھا۔ وقار یونس نے پی سی بی کو مشورہ دیا کہ وہ ڈومیسٹک کرکٹ پر زیادہ توجہ دے، اس وقت بہت زیادہ فرسٹ کلاس میچز ہورہے ہیں مگر ان میں کوالٹی نظر نہیں آرہی، ہمیں کم میچ کھیل کر زیادہ کوالٹی پلیئرز سامنے لانے کی ضرورت ہے۔
Load Next Story