کرکٹ بحران پر پی سی بی تاحال حکومتی ہدایات کا منتظر
سرپرست اعلیٰ وزیر اعظم نے چیئرمین کو ملاقات کا وقت ہی نہیں دیا، بورڈ آفیشلز شش و پنج کا شکار
سرپرست اعلیٰ وزیر اعظم نے چیئرمین کو ملاقات کا وقت ہی نہیں دیا، بورڈ آفیشلز شش و پنج کا شکار۔ فوٹو: فائل
BUDAPEST:
عالمی کرکٹ پر قبضے کیلیے ''بگ تھری'' کی جانب سے جوڑ توڑ عروج پر پہنچ گئی، مگر پاکستانی بورڈ تاحال واضح حکومتی ہدایات کا منتظر ہی ہے۔
سرپرست اعلیٰ وزیر اعظم نوازشریف سے چیئرمین ذکا اشرف ملاقات کی کئی روز تک کوشش کرتے رہے مگر کامیاب نہ ہو سکے، اسی وجہ سے بورڈ شش و پنج کا شکار ہے کہ کیا فیصلہ کرے، پی سی بی اس وقت دہری مشکل میں پھنس چکا، اگر '' بگ تھری'' کو ووٹ دیا تو پاکستان میں ملک دشمنی سمیت کئی الزامات لگ جائیں گے، مخالفت کی صورت میں بھارت، انگلینڈ اور آسٹریلیا کے ساتھ سیریز نہ کھیل کر اس کی آمدنی کے رہے سہے ذرائع بھی بند ہوجائیںگے، بگ تھری نے ملکی ویران میدان آبادکرانے کا بھی وعدہ کیا مگر پاکستان کو خود اس حقیقت کا علم ہے کہ فی الحال امن و امان کی صورت حال کے باعث کئی برس تک ایسا ممکن نہیں ہوگا۔ پاکستان کو بھارت نے باہمی سیریز کھیلنے کی پیشکش کرتے ہوئے آئی پی ایل کے دروازے بھی پلیئرز پر کھولنے کا دانہ ڈالا ہے،اسے فوری طور پر نہ چگتے ہوئے پی سی بی آفیشلز نے وعدہ وفا ہونے کی ضمانت طلب کرلی۔
ان کا کہنا تھا کہ ماضی کے تجربات دیکھتے ہوئے بھارتی حکام پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا، کام نکلنے کے بعد وہ سب بھول جائیں گے، ایسے میں انگلش بورڈ حکام نے آگے بڑھ کر ضامن بننے کا کہا مگر پاکستان ان کے دام میں نہیں پھنسا۔ ان دنوں دبئی کے ہوٹل میں باقاعدہ دربار سجا کر بادشاہ کے سے انداز میں رعایا(چھوٹے بورڈز) سے پوچھا جا رہا ہے کہ مانگوکیا مانگتے ہو، بھارتی بورڈ کے سربراہ سری نواسن والدہ کے انتقال کی وجہ سے پیر کی شام تک دبئی نہیں پہنچ سکے تھے البتہ وہ ویڈیو کانفرنس کے ذریعے سب سے رابطے میں ہیں، ان کی جگہ آئی سی سی میٹنگز میں بی سی سی آئی کے سیکریٹری سنجے پٹیل شریک ہو سکتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق اتوار کی طرح پیر کو بھی دبئی میں بھارت، انگلینڈ اور آسٹریلوی بورڈز کے آفیشلز ووٹس کیلیے چھوٹے ممالک کو مختلف ترغیبیں دیتے رہے، کسی کو سیریز تو کہیں دولت کا لالچ دیا جا رہا ہے۔
بنگلہ دیش پہلے تو ٹافی(دولت) کی لالچ ملتے ہی بگ تھری کی گود میں جا بیٹھا، مگر جب ملک میں احتجاج ہوا کہ مجوزہ تجاویز پر عمل کی صورت میں اس کی ٹیسٹ رکنیت ہی ختم ہو جائے گی ایسا نہیں ہونا چاہیے تو اب مشروط حمایت کر رہا ہے، سری لنکا، ویسٹ انڈیز اور جنوبی افریقہ بھی اس کے مخالف تھے مگر اب انھیں اپنے ساتھ ملانے کیلیے بھارتی کوششیں عروج پر پہنچ چکیں، نیوزی لینڈ حامی نظر آتا ہے جبکہ بیچارے غریب زمبابوین بورڈ میں اتنی ہمت نہیں کہ کسی سے بھی لڑ سکے، حیران کن طور پر کٹر مخالف ہارون لورگاٹ کے ساتھ بھی گذشتہ روز بی سی سی آئی آفیشلز نے دبئی میں ملاقات کر کے تلخیاں کم کرنے کی کوشش کی۔ ذرائع نے مزید بتایا کہ مجوزہ تبدیلیوں کے بعد تشکیل پانے والے چیئرمین کی پوسٹ پر سری نواسن کی دو سال تک تقرری تو پکی پہلے سے ہی تھی، اب انھوں نے ٹیلی کانفرنس میں کہہ دیا کہ اگر انگلینڈ اور آسٹریلیا نے کہا تو مزید دو سال پوسٹ سنبھال سکتا ہوں۔ یاد رہے کہ آئی سی سی میں مجوزہ تبدیلیوں سے بھارت کو2015 سے 2023 تک 5 ہزار کروڑ روپے کی اضافی آمدنی متوقع ہے۔
عالمی کرکٹ پر قبضے کیلیے ''بگ تھری'' کی جانب سے جوڑ توڑ عروج پر پہنچ گئی، مگر پاکستانی بورڈ تاحال واضح حکومتی ہدایات کا منتظر ہی ہے۔
سرپرست اعلیٰ وزیر اعظم نوازشریف سے چیئرمین ذکا اشرف ملاقات کی کئی روز تک کوشش کرتے رہے مگر کامیاب نہ ہو سکے، اسی وجہ سے بورڈ شش و پنج کا شکار ہے کہ کیا فیصلہ کرے، پی سی بی اس وقت دہری مشکل میں پھنس چکا، اگر '' بگ تھری'' کو ووٹ دیا تو پاکستان میں ملک دشمنی سمیت کئی الزامات لگ جائیں گے، مخالفت کی صورت میں بھارت، انگلینڈ اور آسٹریلیا کے ساتھ سیریز نہ کھیل کر اس کی آمدنی کے رہے سہے ذرائع بھی بند ہوجائیںگے، بگ تھری نے ملکی ویران میدان آبادکرانے کا بھی وعدہ کیا مگر پاکستان کو خود اس حقیقت کا علم ہے کہ فی الحال امن و امان کی صورت حال کے باعث کئی برس تک ایسا ممکن نہیں ہوگا۔ پاکستان کو بھارت نے باہمی سیریز کھیلنے کی پیشکش کرتے ہوئے آئی پی ایل کے دروازے بھی پلیئرز پر کھولنے کا دانہ ڈالا ہے،اسے فوری طور پر نہ چگتے ہوئے پی سی بی آفیشلز نے وعدہ وفا ہونے کی ضمانت طلب کرلی۔
ان کا کہنا تھا کہ ماضی کے تجربات دیکھتے ہوئے بھارتی حکام پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا، کام نکلنے کے بعد وہ سب بھول جائیں گے، ایسے میں انگلش بورڈ حکام نے آگے بڑھ کر ضامن بننے کا کہا مگر پاکستان ان کے دام میں نہیں پھنسا۔ ان دنوں دبئی کے ہوٹل میں باقاعدہ دربار سجا کر بادشاہ کے سے انداز میں رعایا(چھوٹے بورڈز) سے پوچھا جا رہا ہے کہ مانگوکیا مانگتے ہو، بھارتی بورڈ کے سربراہ سری نواسن والدہ کے انتقال کی وجہ سے پیر کی شام تک دبئی نہیں پہنچ سکے تھے البتہ وہ ویڈیو کانفرنس کے ذریعے سب سے رابطے میں ہیں، ان کی جگہ آئی سی سی میٹنگز میں بی سی سی آئی کے سیکریٹری سنجے پٹیل شریک ہو سکتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق اتوار کی طرح پیر کو بھی دبئی میں بھارت، انگلینڈ اور آسٹریلوی بورڈز کے آفیشلز ووٹس کیلیے چھوٹے ممالک کو مختلف ترغیبیں دیتے رہے، کسی کو سیریز تو کہیں دولت کا لالچ دیا جا رہا ہے۔
بنگلہ دیش پہلے تو ٹافی(دولت) کی لالچ ملتے ہی بگ تھری کی گود میں جا بیٹھا، مگر جب ملک میں احتجاج ہوا کہ مجوزہ تجاویز پر عمل کی صورت میں اس کی ٹیسٹ رکنیت ہی ختم ہو جائے گی ایسا نہیں ہونا چاہیے تو اب مشروط حمایت کر رہا ہے، سری لنکا، ویسٹ انڈیز اور جنوبی افریقہ بھی اس کے مخالف تھے مگر اب انھیں اپنے ساتھ ملانے کیلیے بھارتی کوششیں عروج پر پہنچ چکیں، نیوزی لینڈ حامی نظر آتا ہے جبکہ بیچارے غریب زمبابوین بورڈ میں اتنی ہمت نہیں کہ کسی سے بھی لڑ سکے، حیران کن طور پر کٹر مخالف ہارون لورگاٹ کے ساتھ بھی گذشتہ روز بی سی سی آئی آفیشلز نے دبئی میں ملاقات کر کے تلخیاں کم کرنے کی کوشش کی۔ ذرائع نے مزید بتایا کہ مجوزہ تبدیلیوں کے بعد تشکیل پانے والے چیئرمین کی پوسٹ پر سری نواسن کی دو سال تک تقرری تو پکی پہلے سے ہی تھی، اب انھوں نے ٹیلی کانفرنس میں کہہ دیا کہ اگر انگلینڈ اور آسٹریلیا نے کہا تو مزید دو سال پوسٹ سنبھال سکتا ہوں۔ یاد رہے کہ آئی سی سی میں مجوزہ تبدیلیوں سے بھارت کو2015 سے 2023 تک 5 ہزار کروڑ روپے کی اضافی آمدنی متوقع ہے۔